اہم خبریںپاکستان

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب ڈیلرز کی ہڑتال کا خدشہ منڈلانے لگا

ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی پٹرولیم لیوی اور قیمتوں نے نہ صرف عوام بلکہ ڈیلرز کو بھی دیوالیہ کر دیا ہے۔

ایران–امریکہ/اسرائیل تنازع کے نتیجے میں عالمی تیل منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا۔ پاکستانی حکومت نے عوامی ذخائر برقرار رکھنے اور سپلائی کو برقرار رکھنے کیلئے 6 مارچ 2026 کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا تاریخی اضافہ کیا، جس سے ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

حکومت نے بحران کو عالمی حالات کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں 50 سے 70 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

تاہم اس کاری ضرب کو سہنے والی عوام کے صبر کا امتحان ابھی باقی ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب ڈیلرز نے ہڑتال کی کال دینے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔

ڈیلرز کا مؤقف

 

پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ان کی منافع کی شرح (مارجن) کم ہو کر تقریباً 2.68 فیصد رہ گئی ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) کے چیئرمین عبد السمیع خان نےکراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ڈیلرز کو 8 فیصد مارجن دینے کا وعدہ کیا تھا مگر تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے مارجن صرف 2.68 فیصد رہ گیا ہے اور موجودہ صورت حال میں کاروبار چلانا ممکن نہیں۔

ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین طارق حسن کے مطابق ڈیلرز کو اس وقت 2.59 فیصد (تقریباً 8.64 روپے فی لیٹر) مارجن مل رہا ہے، جبکہ اوگرا نے گزشتہ سال مارجن میں 1.68 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی لیکن اسے حکومت نے ڈیجیٹائزیشن شرط کے ساتھ مؤخر کردیا۔

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ مارجن پر پمپ چلانا ممکن نہیں اور اگر حکومت مارجن کو 8 فیصد تک بڑھا دے تو فی لیٹر منافع تقریباً 25 روپے ہو جائے گا۔

ہڑتال کی دھمکی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

 

پریس کانفرنس میں PPDA نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے 26 مارچ تک مارجن 8 فیصد تک نہیں بڑھایا تو 27 مارچ سے ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو 26 مارچ کی رات سے ہی پمپس بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف ایسوسی ایشن کے بعض عہدیداروں نے میڈیا  کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک ہڑتال کی حتمی کال نہیں دی اور معاملے کا جائزہ عید کے بعد لیا جائے گا، تاہم حکومت کو 26 مارچ تک کی مہلت دی گئی ہے۔

ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی پٹرولیم لیوی اور قیمتوں نے نہ صرف عوام بلکہ ڈیلرز کو بھی دیوالیہ کر دیا ہے۔ عہدیدار طارق حسن نے خبردار کیا کہ حکومت اگلے ہفتے مزید 50 سے 60 روپے فی لیٹر اضافہ کر سکتی ہے جو حالات کو مزید خراب کرے گا۔

نتیجہ

عالمی تیل بحران اور اندرونِ ملک قیمتوں میں بے پناہ اضافہ پاکستان میں پیٹرولیم کی سپلائی کو شدید دباؤ میں لے آیا ہے۔ ڈیلرز کا مطالبہ ہے کہ ان کا مارجن 8 فیصد تک بڑھایا جائے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی لاگت برداشت کر سکیں۔ دوسری طرف حکومت عالمی صورتحال اور مالی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے اضافے کر چکی ہے۔

اگر حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اتفاق نہ ہوا تو 27 مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی بندش کا امکان ہے، جس سے پہلے ہی موجود سپلائی بحران اور قیمتوں کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button