اہم خبریںپاکستان

نورین نیازی کے سکول کی سالانہ تقریب انعامات میں شرکت کے بعد سکول سیل

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے حکم میں لکھا کہ سکول نے ایجوکیشن ڈیپارڑمںٹ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی اور اجتماع منعقد کیا۔ 

پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نجی اسکول کو پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس الزام میں سیل کر دیا کہ اس نے اپنی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن نورین خان نیازی کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔

یہ محض ایک اسکول بند کرنے کی کارروائی نہیں  یہ اس  ذہنیت کا کھلا اعلان ہے جو آج پاکستان پر مسلط ہے۔ ایک تعلیمی ادارے میں بچوں کو انعامات دیے جا رہے تھے، ایک خاتون نے خطاب کیا  اور حکومت نے اسکول پر تالہ لگا دیا۔ کیا یہی ہے "جمہوریت”؟

سرکاری بہانہ اور اصل کہانی

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے حکم میں لکھا کہ سکول نے ایجوکیشن ڈیپارڑمںٹ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی اور اجتماع منعقد کیا۔

لیکن سوال یہ ہے  کیا صرف اسی اسکول نے یہ خلاف ورزی کی؟ پورے پنجاب میں کتنے اسکولوں نے اسی روز پروگرام منعقد کیے ہوں گے  کیا ان سب کو سیل کیا گیا؟

جواب ہے: نہیں۔ صرف اس اسکول کو سزا ملی، کیونکہ وہاں عمران خان کی بہن موجود تھیں۔ قانون کا نہیں، انتقام کا راج ہے۔

اسکول کا پسِ منظر

یہ اسکول پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق ایم پی اے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جاوید اکرم نے اپنے آبائی علاقے چک 290 جی بی میں قائم کیا تھا۔ وہ اس وقت جیل میں ہیں اور انہیں 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں فوجی عدالت نے چھ سال کی سزا سنائی ہے۔

حکومت نہ صرف سیاسی مخالفین کو قید کرتی ہے بلکہ ان کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشتی۔ جیسے پوری نسل کو سزا دینا مقصود ہو۔

آواز دبانے کی مہم

یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں۔ اس سے پہلے: عمران خان کی تینوں بہنوں — علیمہ خانم ، عظمیٰ خان اور نورین نیازی پر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے دوران سردی میں واٹر کینن چلائے گئے جب وہ اپنے بھائی سے ملنے گئی تھیں۔

ایک طرف رہنما قید میں، دوسری طرف بہنوں پر پانی کی بوچھاڑ، تیسری طرف اسکولوں پر تالے — یہ حکومت کس سے ڈری ہوئی ہے؟ ایک قید شخص کی بہن کی تقریر سے؟

یہ نفرت کا راج ہے

یہ حکومت مخالف آواز برداشت نہیں کر سکتی۔ جو بھی عمران خان کا نام لے، اس کے گھر والوں سے ملے، یا ان کے قائم کردہ اداروں سے منسلک ہو  سب سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ یہ سیاسی انتقام نہیں، یہ خوف ہے۔ وہ خوف جو ظالموں کو اندر سے کھا جاتا ہے جب وہ جانتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ نہیں۔

بچوں کا اسکول بند کرنا، معصوم طالبِ علموں کی تقریبِ انعامات کو سیاسی رنگ دینا  اس سے پست سیاست کیا ہو گی؟

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button