کھیل

نسیم شاہ کو نوٹس اور پی سی بی کا دہرا معیار

پی سی بی نے نسیم شاہ پر سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور ضابطہ اخلاق کی شق 2.23 کے تحت شو کاز نوٹس جاری کیا ۔

پی ایس ایل 2026 کا آغاز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوا۔ افتتاحی تقریب میں  پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا شاہانہ استقبال کیا۔ انہیں فرنچائزز کے مالکان اور کھلاڑیوں سے ملوایا گیا۔

یہ سب اس وقت ہوا جب حکومت نے ایندھن کی بچت کے نام پر عوام کو اسٹیڈیم میں آنے سے روکا ہوا تھا، اور میچ مکمل طور پر تماشائیوں کے بغیر کھیلا جا رہا تھا۔

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے پی سی بی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا: "اسے لارڈز میں ملکہ جیسا سلوک کیوں مل رہا ہے؟”

بس یہی ایک جملہ تھا — اور اس کے بعد ریاستی مشینری حرکت میں آ گئی۔

 

نسیم شاہ کو نوٹس

 

پی سی بی نے نسیم شاہ پر سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور ضابطہ اخلاق کی شق 2.23 کے تحت شو کاز نوٹس جاری کیا  جو پی سی بی، اس کے عہدیداروں یا پالیسیوں پر عوامی تنقید کو ممنوع قرار دیتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون سب پر برابر لاگو ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے — تو پھر جواب دیجیے کے حکومت کے حق میں باتیں کرنا کیا اس زمرے میں نہیں آتا ہے؟

وہ کھلاڑی جنہوں نے حکومت پر تنقید کی بھاری قیمت ادا کی

عامر جمال — ٹوپی پر جرمانہ

 

عامر جمال نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں فلاپی ہیٹ پر "804” لکھا ہوا پہنا — جو عمران خان کا قیدی نمبر ہے۔ پی سی بی نے انہیں 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ کیا۔

ایک ہندسہ! ایک ٹوپی! اور اتنا بھاری جرمانہ۔ یہ انصاف کے تقاضوں کے بر عکس تھا تاہم ایسا ہوا۔

اس کے برعکس وہاب ریاض 2023 میں نگران حکومت کا حصہ بن کر بیٹھے تو انہیں نوازا گیا۔ اس وقت تقریباً حکمران یہی حکومتی جماعتیں تھیں۔

عوام کو اسٹیڈیم سے باہر، وزیرِ اعلیٰ اندر

 

پی سی بی چیئرمین نے اعلان کیا تھا کہ ایندھن کی بچت کے لیے پی ایس ایل کے تمام میچز بغیر تماشائیوں کے ہوں گے۔ ملک بھر کے لاکھوں کرکٹ شائقین گھروں میں بیٹھ کر میچ دیکھنے پر مجبور ہوئے۔

لیکن مریم نواز ایک بہت بڑے سیکیورٹی قافلے کے ساتھ قذافی اسٹیڈیم پہنچیں اور تمام فرنچائز مالکان اور کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔

تو کیا "ایندھن کی بچت” صرف غریب شائقین کے لیے تھی؟ کیا وزیرِ اعلیٰ کا قافلہ ایندھن استعمال نہیں کرتا؟

نسیم شاہ نے یہی سوال اٹھایا — اور یہی ان کا "جرم” قرار پایا۔

 

حکومت کے گن گانے والوں پر پی سی بی خاموش

 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں ایسے بھی ہیں جو ن لیگ ، ان کے عہدیداروں اور محسن نقوی جیسی شخصیات کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔

ایسے لوگوں پر ایکشن کیوں نہیں ہوتا؟ حکومت کی مخالفت کرنے والے ہی کیوں قانون کی زد میں آتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو جواب طلب ہیں۔

آخری بات

 

پاکستان کرکٹ بورڈ اگر واقعی "پیشہ ورانہ معیار” کا دعویٰ کرتا ہے، تو یہ معیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے ۔ خواہ کھلاڑی کی سیاسی ہمدردیاں کسی کے ساتھ بھی ہوں۔

ایسا نہیں کے کوئی حکومت کے گن گائے تو انعام پائے، تنقید کرے تو سینٹرل کنٹریکٹ کھو دے یا ٹیم سے ہی نکال دیا جائے یا بھاری جرمانے کی زد میں آئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button