اہم خبریں

نہ پارٹی کی آواز نہ میڈیا پر کوریج: عمران خان کا موضوع غیر اہم ہونے لگا

عمران خان کی آنکھوں کے تین طبی پروسیجر سرانجام دیے جا چکے ہیں لیکن یہ خبر اس اندازِ بے حسی سے پارٹی کے بیانات میں آئی، جیسے کوئی معمولی صحت اطلاع ہو۔

ایک وقت تھا جب تحریکِ انصاف کی پوری سیاسی توانائی ایک نکاتی ایجنڈے پر مرکوز تھی — عمران خان کی فوری رہائی۔ لاکھوں کارکن سڑکوں پر تھے، قیادت ہر پلیٹ فارم سے یہی نعرہ بلند کرتی تھی، اور یہ پارٹی کا وجودی مقصد بن چکا تھا۔

لیکن آج جب عمران خان اڈیالہ جیل میں ماہ در ماہ گزار رہے ہیں، ان کی آنکھوں کے تین  پروسیجر ہو چکے ہیں، قریبی ساتھی تک ان سے نہیں مل سکتے — تو پارٹی کا یہ جوش و خروش کہاں گیا؟

نہ میڈیا پر کوریج نہ کوئی پارٹی سرگرمی، ایسا معلوم ہوتا ہے جسے عمران خان کا موضوع اب غیر اہم ہو گیا ہے۔

 

آنکھیں بیمار، جماعت بے بصیر

عمران خان کی آنکھوں کے تین طبی پروسیجر سرانجام دیے جا چکے ہیں لیکن یہ خبر اس اندازِ بے حسی سے پارٹی کے بیانات میں آئی، جیسے کوئی معمولی صحت اطلاع ہو۔ نہ کوئی احتجاج، نہ عدالتوں میں فوری درخواستیں، نہ میڈیا پر سنجیدہ مہم۔ ایک بیمار قیدی، جس کی آنکھیں علاج طلب ہیں، جس تک اس کے اپنے وکیل بھی بمشکل پہنچ پاتے ہیں  لیکن پارٹی قیادت کے چہروں پر سکون کی ایک عجیب چادر تنی ہوئی ہے۔

ملاقاتیں بند، احتجاج بھی بند

یہ اطلاعات کسی مخالف جماعت کی نہیں، بلکہ خود پارٹی کے وکلاء کی ہیں کہ عمران خان سے ملاقات انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ قریبی ساتھی، خاندان، سیاسی رفقاء — سب کو رسائی محدود ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے یہ معاملہ بین الاقوامی توجہ کا مستحق ہے۔

لیکن پارٹی قیادت اس پر کتنا وقت صرف کرتی ہے؟ جواب دیکھنا ہو تو ہفتہ وار پریس کانفرنسوں کا تجزیہ کریں — عمران خان کی صحت اور رہائی کا موضوع اکثر سیاسی اعلانات اور پارلیمانی حکمتِ عملیوں کے بعد آتا ہے، پہلے نہیں۔

"حکومتی رپورٹ کہتی ہے وہ ٹھیک ہیں — اور پارٹی اسے سچ مان کر خاموش ہو جاتی ہے؟ کیا یہی وہ جماعت ہے جو ریاستی بیانیے کو ہمیشہ مشکوک نگاہ سے دیکھتی تھی؟”

حکومتی رپورٹ — سچ کا متبادل؟

 پارٹی قیادت کا ایک طبقہ حکومتی طبی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیتا ہے کہ "صاحب ٹھیک ہیں، فکر نہ کریں۔” وہی جماعت جو ہر ریاستی بیانیے کو چیلنج کرتی تھی، وہی آج حکومتی رپورٹ کو حرفِ آخر سمجھ کر مطمئن ہو جاتی ہے۔ کیا یہ سیاسی پختگی ہے؟ یا یہ وہ آہستہ آہستہ قبولیت ہے جو طویل جدوجہد کے بعد تھکے ہوئے لوگوں میں آ جاتی ہے؟

سیاسی سفر یا سمجھوتہ؟

 تحریکِ انصاف کی اصل طاقت عمران خان کی شخصیت اور اس سے جڑے جذباتی رشتے میں تھی۔ اگر پارٹی قیادت خود اس رشتے کو عملی اقدامات سے تازہ نہیں رکھتی، تو وہ کارکن جنہوں نے9 مئی اور 26 نومبر کی راتوں میں ہر خطرہ مول لیا — وہ آخرکار کیا سوچیں گے؟

سوال محض سیاسی حکمتِ عملی کا نہیں ۔ عمران خان چاہے کسی کے سیاسی ہیرو ہوں یا نہ ہوں — ایک شہری کے بنیادی حقوق کا دفاع اس جماعت کی اولین ذمہ داری ہے جو اسی شہری کے نام پر ووٹ مانگتی ہے، چندہ اکٹھا کرتی ہے، اور اقتدار کے خواب دیکھتی ہے۔

کارکنوں کا سوال

پاکستان کے گلی کوچوں میں، سوشل میڈیا اور  جہاں تحریکِ انصاف کے حامی رہتے ہیں — ایک سوال آہستہ آہستہ پنپ رہا ہے: "کیا ہماری قیادت نے ہمارے بانی کی رہائی کے لیے واقعی سب کچھ کیا؟ یا یہ جدوجہد بھی ایک نعرہ بن کر رہ گئی؟” اس سوال کا جواب اگر وقت پر نہ دیا گیا تو تحریکِ انصاف کو اپنے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا مشکل ترین کام ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button