اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

لیب میں تیار کردہ گوشت کا منصوبہ کتنا کامیاب رہا؟

اٹلی وہ پہلا ملک بن کر سامنے آیا جس نے لیب میں تیارشدہ گوشت پر پابندی لگائی۔

نومبر 2023 میں اٹلی وہ پہلا ملک بن کر سامنے آیا جس نے لیب میں تیار کردہ مصنوعی گوشت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ عالمی فوڈ ٹیک برادری نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صنعت کے ماہرین نے اٹلی کو مستقبل سے پیچھے رہ جانے والا بتایا۔

آج اس پابندی کے تقریبا دو سال بعد لیب میں تیار کردہ گوشت کا منصوبہ عالمی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اس صنعت میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں یا تو دیوالیہ ہو چکی ہیں یا پھر اپنی سرمایہ کاری محدود کر چکی ہیں۔ لیکن دنیا بھر کے شاپنگ مالز میں کہیں بھی یہ رحجان اتنا عام نہیں ہوا کے شیلف مصنوعی گوشت سے بھر گئے ہوں اور لوگ اسے تازہ گوشت کی نسبت زیادہ پسند کر رہے ہو۔

اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا نام بھی شامل ہے۔

اسے آپ اٹلی کی دور اندشی کہہ لیں یا خطرہ کو بھانپ لینا، بہر حال اب دنیا میں ان ممالک کی فہرست میں اضافہ ہونے لگا ہے جو لیب میں تیارشدہ گوشت پر پابندی عائ کر چکے یا ایسی سوچ رکھتے ہیں۔

لیب میں تیار کردہ گوشت میں سرمایہ کاری کا آغاز:

 

2013 میں ڈچ سائنسدان مارک پوسٹ نے لیب میں تیار کردہ بیف برگر پیش کیا تو اس وقت اس کی تیاری میں 3 لاکھ ڈالر سے زائد کی لاگت آئی۔

سائنسدانوں اور سرمایہ کاروں نے اسی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا اور اس میں وقت اور وسائل لگانا شروع کر دیئے۔

اس وقت یہ ایک پرکشش سرمایہ کاری نظر آئی کے جانوروں کے خلیے لیں، انہیں بائیو ری ایکٹرز میں ڈالیں اور اصلی گوشت تیار کریں۔ ناں جانور پالنے کا جھنجھٹ نا انہیں ذبح کرنے کا سردرد۔

اس عمل کے ماحول دوست ہونے کی بات کر کے اس صنعت نے بڑی سرمایہ کاری کا رخ اپنی طرف موڑا۔

بل گیٹس بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو اس کی ضرورت کو سمجھنے لگے تھے اور انہیں نے اس میں سرمایہ کاری شروع کی۔ انہوں نے میمفس میٹس جو کہ اب اپ سائیڈ فوڈز کہلاتی ہے کہ ابتدائی فنڈنگ میں ھصہ لیا۔

مصنوعی گوشت مارکیٹس میں دستیاب کیوں نہیں؟

 

2026 کے اوائل تک مختلف ممالک میں اس عمل کو اپنائے جانے اور مزید ریسرچ کے بعد بھی اب تک لیب میں تیار کردہ گوشت تجارتی سطح پر دستیاب نہیں۔ ناں ہی سپر مارکیٹ میں اسے عام دیکھنے کو ملتا ہے۔ اپ سائیڈ فوڈز بھی صرف چکن تک محدود ہوئی ہے جبکہ یہ گوشت چند ایک محدود ریسٹورنٹس کے علاوہ بڑے پیمانے پر تجربہ بھی نہیں کیا گیا۔

کئی بڑی کمپیوں نے فنڈنگ محدود ہونے کی وجہ سے کام بند کر دیا جبکہ کئی کمپنیوں نے اس صنعت میں فنڈنگ کو محدود کر دیا ہے۔ بہت سی کمپنیاں آپس میں ضم بھی ہو رہی ہیں۔

اٹلی کی دور اندیشی اور مستقبل کا منظر نامہ:

 

اٹلی کا محتاط ہونا دور اندیشی تھی اور آج دو سال بعد یہ عمل درست بھی ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم یہ معاملہ صرف خوراک یا غذائیت تک ہی محدود نہیں، اس کے کئی سیاسی اور طاقت کے پہلو بھی ہیں۔

قدرتی طریقے سے حاصل کردہ گوشت سے کئی ممالک اپنی ضروریات کو پورا کر لیتے ہیں۔ جو اپنی ضروریات پورا نہیں کر پاتے وہ دوسرے قریبی ممالک سے درآمد کر لیتے۔

لیب میں تیار کردہ گوشت ایک بحث کو جنم دیتا ہے کہ اگر غذائیت پر بھی کنٹرول آ جائے کہ کون گوشت تیار کرے گا اور کون کھائے گا تو ایک نئی طرح کی طاقت کو فروغ دے گا۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کیلئے متبادل خوراک کی تلاش ضروری ریسرچ آئیڈیا ہے۔ لیکن اس میں یہ پہلو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ فطرت سے اس قدر لاتعلقی بھی نہ اختیار کی جائے کہ ہم قدرتی اشیاء کو صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں اور حقیقت سے رابطہ ہی کٹ جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button