کیا وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ امریکہ سے لکھا ہوا آیا تھا؟
امریکی صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہو، برطانوی وزیراعظم کا بیان ہو، یا بھارتی وزیراعظم مودی کا ٹویٹ پیچھے ایک پورا دفتر کام کرتا ہے جو پیغام تیار کرتا ہے، اسے منظور کراتا ہے اور پھر پوسٹ کرتا ہے۔

گزشتہ چند روز میں پاکستان نے عالمی سطح پر ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو اپنی نوعیت میں اہم سفارتی کامیابی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، اور امریکی صدر پوری ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھکمی دے رہے تھے۔
اس نازک موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی سفارتی ذہانت سے دو ہفتے کی جنگ بندی کروا لی۔ ٹرمپ نے خود اپنے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ میں نے پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کی گزارش پر یہ فیصلہ کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کی بنیاد پر، جنہوں نے درخواست کی کہ آج رات ایران پر تباہ کن حملہ روکا جائے، میں نے یہ فیصلہ قبول کیا — بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولے۔”
یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ یہ پاکستانی تاریخ کا ایک شاندار باب تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ جسے متنازع بنایا گیا
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دیں۔ اس پوسٹ کی ترمیمی تاریخ دیکھنے پر لوگوں نے پایا کہ ابتدائی پوسٹ میں لکھا تھا "Draft – Pakistan’s PM Message on X” — جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔
امریکی صحافی ریان گریم نے اس پر لکھا کہ "شہباز شریف نے وہ سب کچھ کاپی پیسٹ کر دیا جو انہیں بھیجا گیا تھا، بشمول ڈرافٹ کا عنوان۔”
اور بس — اس ایک "ڈرافٹ” لفظ نے پاکستانی سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا۔ ایک طبقہ یہ ثابت کرنے میں لگ گیا کہ یہ ٹویٹ امریکہ نے لکھ کر دیا تھا، لہٰذا وزیراعظم تو بس ایک کٹھ پتلی ہیں۔
تنقید کرنے والوں میں ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنما، صحافی اور سوشل میڈیا صارفین شامل تھے۔
یہ سوچنا کہ وزیراعظم خود ٹویٹ ٹائپ کرتے ہیں بچگانہ سوچ ہے
آئیے پہلے ایک بنیادی حقیقت سمجھیں: دنیا کا کوئی بھی وزیراعظم، صدر یا سربراہِ مملکت اپنی سوشل میڈیا پوسٹیں خود ٹائپ نہیں کرتا۔ یہ کام ان کی میڈیا ٹیم، پریس سیکرٹری، اور مشیران کرتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا X اکاؤنٹ ہو، برطانوی وزیراعظم کا بیان ہو، یا بھارتی وزیراعظم مودی کا ٹویٹ پیچھے ایک پورا دفتر کام کرتا ہے جو پیغام تیار کرتا ہے، اسے منظور کراتا ہے اور پھر پوسٹ کرتا ہے۔
یہ "ڈرافٹ” لفظ کا غلطی سے شامل ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عملے نے جلدی میں فائل کاپی پیسٹ کرتے وقت ایک کلیریکل غلطی کی یہ کوئی سازش نہیں، یہ انسانی خطا ہے۔
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ "دیکھو وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ امریکہ نے لکھ کر دیا” وہ دراصل اس بنیادی حقیقت سے ناواقف ہیں کہ سرکاری مواصلات کیسے کام کرتے ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ عملے نے جلدی میں ڈرافٹ فائل کا نام پوسٹ میں چھوڑ دیا — نہ یہ کہ کوئی بیرونی طاقت یہ لکھ رہی تھی۔
سفارت کاری ایسے ہی ہوتی ہے
اور اگر بالفرض کچھ حصہ مشترکہ مشاورت سے تیار بھی ہوا تو اس میں برائی کیا ہے؟ سفارت کاری میں یہی ہوتا ہے۔
جب کوئی ملک ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے تو تمام فریق مل کر الفاظ، شرائط اور اعلانات طے کرتے ہیں۔ اسے "آزادانہ سفارت کاری” ہی کہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی نگرانی کی، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی فریق کی نمائندگی کر رہے تھے۔
یعنی پاکستان اس سطح پر شامل تھا جہاں امریکی نائب صدر بھی بیٹھ کر بات کر رہے تھے۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ کیا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا ملک "کٹھ پتلی” ہے یا یہ کہ ہمارے ملک نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان امن کا پل بنایا؟
"اسلام آباد ٹاکس” — ایک تاریخی موقع
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "ہمیں خوشی ہے کہ ‘اسلام آباد ٹاکس’ جنہیں اسلام آباد اکارڈ کا نام بھی دیا جارہا ہے، کے ذریعے پائیدار امن کا راستہ نکل رہا ہے، اور ہم آنے والے دنوں میں مزید خوشخبری دینے کی امید رکھتے ہیں۔”
اسلام آباد ٹاکس یعنی پاکستان کا دارالحکومت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن رہا ہے۔
لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم ٹویٹ کے ڈرافٹ لیبل پر "ہاہا” کے ایموجی بھیج رہے ہیں۔
تنقید ضروری ہے، مگر انصاف سے
سیاسی احتساب جمہوریت کی روح ہے۔ مگر جب ایک وزیراعظم، اپنے آرمی چیف کے ساتھ مل کر، دنیا کو جنگ سے بچانے کا کام کرے — اور ہم اس پر بھی مذاق بنائیں — تو یہ تنقید نہیں، یہ قومی شعور کا افلاس ہے۔



