تعلیممتفرق

جھوٹ بولنے والے بچے کی اصلاح کیسے کی جائے؟

اصل اصلاح وہ ہے جو انسان کو توڑے نہیں، بلکہ خاموشی سے صحیح راستے کی طرف واپس لے آئے۔

کسی بچے  کی غلطی یا جھوٹ سامنے آجائے تو اکثر فوری ردِعمل غصے، سخت الفاظ یا ٹکراؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم نفسیات اور تربیت کے بنیادی اصول ثابت کرتے ہیں کہ کردار کی حقیقی اصلاح سراسر حکمت، نرمی، پردہ پوشی اور عزتِ نفس کو محفوظ رکھنے سے ہوتی ہے۔

اصل اصلاح وہ ہے جو انسان کو توڑے نہیں، بلکہ خاموشی سے صحیح راستے کی طرف واپس لے آئے۔

جھوٹ بولنے والے بچے کا تباہ کن راستہ

 

گھروں اور اداروں میں اکثر یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جیسے ہی بچے کا جھوٹ پکڑا جائے، اسے سب کے سامنے ظاہر کیا جاتا ہے، اقرار پر مجبور کیا جاتا ہے، ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہیں ، اور دوسرے بچوں یا پڑوسیوں کو گواہ بنالیا جاتا ہے

۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بڑے نے ”سچ“ ثابت کر دیا، مگر اس عمل میں بچے کا اعتماد اور شخصیت ٹوٹ جاتی ہے۔

ایسا رویہ چند لمحوں کے لیے تو بڑا مضبوط دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے نقصانات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں:

  • بچہ انتہائی شرمندگی اور بے بسی محسوس کرتا ہے
  • اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے
  • بڑوں کا کردار ”سزا دینے والا“ بن جاتا ہے
  • بچہ بہتر ہونے کے بجائے جھوٹ چھپانے میں ماہر ہو جاتا ہے

”میں سب جانتا ہوں“ یا ”میرے سر کے پیچھے بھی آنکھیں ہیں“ جیسے جملے یا غصے کے نا مناسب مظاہرے انسان کو ڈراتے ہیں، سمجھاتے نہیں۔

سچ سامنے تو آجاتا ہے، مگر بچے کی پوری شخصیت اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔

حکمت: اصل کردار سازی کا راستہ

 

جھوٹ بولنے والے بچے کی عقلمند اصلاح کرنے ایک اہم اصول یہ ہے:

اگر آپ جانتے ہیں کہ سامنے والا جھوٹ بول رہا ہے تو پہلی غلطی یہی ہے کہ اسے بتا دیا جائے۔

بچے کو فوراً پکڑ کر جھوٹ ثابت کرنے کے بجائے بہتر راستہ یہ ہے کہ اسے یہ احساس بھی نہ ہونے دیں کہ اس کا جھوٹ کھل گیا ہے۔

اس کے بجائے اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ جھوٹ کی وجہ کیا تھی؟

ہر جھوٹ کے پیچھے کوئی خوف، دباؤ یا عدمِ اعتماد ہوتا ہے۔

سوچیں:

  • اس نے سچ بولنے میں خود کو غیر محفوظ کیوں محسوس کیا؟
  • اسے سزا کا خوف تھا؟
  • کیا ماحول سخت ہے؟
  • کیا وہ پہلے بھی سخت ردعمل دیکھ چکا ہے؟

جب وجہ سمجھ آ جائے تو اصلاح حقیقی معنی میں ممکن ہوتی ہے۔

پردہ داری کا کمال: عزت بچا کر کردار سنوارنا

 

اصلاح کے بڑے اصولوں میں سے ایک اصول پردہ داری ہے—یعنی کسی کی غلطی دیکھ کر اسے سب کے سامنے نہیں کھولنا بلکہ اس کی عزت کو بچانا۔

پردہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ غلطی کو نظرانداز کر دیا جائے۔ اس کا مطلب ہے:

”میں جانتا ہوں کہ تم خطا کار ہو، مگر میں تمہیں رسوا نہیں کروں گا۔“

جب بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس کی غلطی چھپا کر اس کی عزت بچائی ہے:

  • اس کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے
  • بڑوں کے لیے احترام بڑھتا ہے
  • اس کے اندر خود احتسابی جاگتی ہے
  • وہ دل سے اس شخص کا وفادار بن جاتا ہے

ایسا بچہ پوری دنیا کے ساتھ غلطی کر سکتا ہے، مگر اس شخص کے ساتھ انصاف ضرور کرتا ہے جو اس کی عزت کا محافظ بنا ہوتا ہے۔

پرائیویسی: اصلاح کا بنیادی ستون

 

اصلاح ہمیشہ تنہائی میں ہونی چاہیے۔

کسی بچے کی غلطی کو والدین، رشتے داروں یا دوسرے بچوں کے سامنے بیان کرنا نہ صرف غیر مؤثر ہے، بلکہ:

  • بچے کو شرمندہ کرتا ہے
  • اعتماد توڑ دیتا ہے
  • تلخی پیدا کرتا ہے
  • مزید غلطیوں کی بنیاد رکھتا ہے

ایک مثال سمجھنے کے لیے دی جاتی ہے:

اگر شوہر بیوی کی شکایت اس کی ماں سے کرے تو اس سے نہ بیوی درست ہوتی ہے، نہ رشتہ مضبوط، بلکہ نفرت بڑھتی ہے۔ یہی اصول بچے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

بچے کو یہ مکمل یقین ہونا چاہیے:

"اگر میں غلطی کروں، تو یہ شخص مجھے سمجھائے گا—شرمندہ نہیں کرے گا۔”

یہی اعتماد اصلاح کی اصل قوت ہے۔

اصل مُصلح: خاموشی سے کردار بنانے والا

 

وہ شخص سب سے مؤثر طور پر اصلاح کر سکتا ہے جو غلطی کو راز رکھ سکے۔ ایسا فرد:

  • بچے کے لیے محفوظ جگہ بن جاتا ہے
  • اس کا مشیر اور دوست بنتا ہے
  • اعتماد کا مرکز ہوتا ہے
  • اس کی اصلاح دل سے قبول کی جاتی ہے

عزت بچا کر اصلاح کرنا سب سے بڑی تربیت ہے—یہ وہ بنیاد ہے جس پر بچہ ایک مضبوط، ایماندار اور بااعتماد انسان بنتا ہے۔

نتیجہ: حکمت سے اصلاح، طاقت سے نہیں

اصلاح کا مقصد جھوٹ بولنے والے بچے پر جھوٹ ثابت کرنا یا اپنی برتری دکھانا نہیں۔
اصل مقصد ہے:

  • عزت محفوظ رکھنا
  • اعتماد قائم رکھنا
  • غلطی کی وجہ سمجھنا
  • نرمی سے سمجھانا
  • تنہائی میں اصلاح کرنا
  • پردہ داری کو مقدم رکھنا

جب تربیت عزت کے ساتھ کی جائے تو بچہ غلطی سے ہی نہیں بچتا، بلکہ ایک بہتر انسان بنتا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button