دوہرے معیار کی سیاست: جب یہی محب وطن خود اپوزیشن میں تھے
یہی محب وطن جماعتیں جب عمران خان کے دور میں حزب اختلاف میں تھیں، اس وقت ان کا کردار کیا تھا؟ آئیے تاریخی شواہد کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں "دوہرے معیار” کوئی نئی بات نہیں، مگر جب موجودہ حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی پر اسلام آباد میں جاری ایران-امریکہ مذاکرات پر اعتراضات اٹھانے پر تنقید کرتی ہیں، تو تاریخ کا آئینہ ان کا اپنا چہرہ ان کے سامنے رکھ دیتا ہے۔
یہی محب وطن جماعتیں جب عمران خان کے دور میں حزب اختلاف میں تھیں، اس وقت ان کا کردار کیا تھا؟ آئیے تاریخی شواہد کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات اور پی ٹی آئی کا موقف
پاکستان نے دنیا کی نظروں میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا اہتمام کیا گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی پارلیمان اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا۔
اس پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کے سفارتی کردار کا خیر مقدم کیا اور اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ تاہم پارٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب پاکستان بین الاقوامی سطح پر امن کا علمبردار بن رہا ہے تو اندرون ملک بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آئینی و انسانی حقوق کی پامالی کیوں جاری ہے؟ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ "حقیقی عالمی ساکھ تبھی قائم ہوتی ہے جب ریاست اپنے اندر بھی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔”
موجودہ حکومتی جماعتوں اور ان سے مسلک چند صحافیوں نے پی ٹی آئی کے اس موقف پر سخت تنقید کی اور اسے ملکی سفارتی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش وطن سے غداری سمیت کئی الزامات کی زد میں دیا ہے۔ لیکن حال کی محب وطن حکومتی جماعتوں ماضی اس تنقید کی اجازت دیتا ہے؟
مارچ 2019 جب محمد بن سلمان پاکستان آئے
فروری2019 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے پیش نظر انتہائی اہم تھا کیونکہ سعودی عرب نے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔
اس دورے کے اوقات میں حکومتی جماعت سے منسلک صحافیوں نے کچھ عرصہ قبل قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کی تصاویر لگا کر محمد بن سلمان کے خلاف کیمپین کی۔ اس عمل سے ایک مہمان اور برادر اسلامی ملک کے سربراہ کی توہین کی گئی اور دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔
او آئی سی کانفرنس اور حزب اختلاف کی دھمکی
مارچ 2022 میں پاکستان نے اسلام آباد میں او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کے وزرائے خارجہ کا 48 واں اجلاس منعقد کیا جس میں 46 ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ یہ اجلاس افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی اہم تھا اور پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔
لیکن اجلاس سے چند روز قبل ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ اگر نیشنل اسمبلی کے اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو اجلاس کے ایجنڈے پر نہ رکھا تو وہ نیشنل اسمبلی ہال (جو او آئی سی اجلاس کا مقام تھا) کے اندر دھرنا دے دیں گے۔ اس دھمکی کو فوری طور پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی اپنا لیا۔
نتیجہ
پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ ہر جماعت جب حکمرانی میں ہوتی تو محب وطن کہلاتی ہے اور اپوزیشن کو غدار قرار دیتی۔ جب حکومت چھنتی تو محب وطن اور غدار کی تعریفیں بدل جاتی ہیں۔
آج موجودہ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایران-امریکہ مذاکرات پر اٹھائے گئے سوالات اسی قبیل سے ہیں جن میں وہ خود اپوزیشن میں رہ کر ماہر تھے۔ محمد بن سلمان کے دورے پر خاشقجی کی تصاویر لگانا اور او آئی سی اجلاس کو دھرنے کی دھمکی دینا ان کی اپنی تاریخ ہے ۔ اور تاریخ نہ جھوٹ بولتی ہے، نہ معاف کرتی ہے۔
پاکستان کو ایک پختہ سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں حزب اختلاف اور حکومت دونوں ملکی مفادات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھیں۔ لیکن اس کے لیے پہلے خود احتسابی ضروری ہے۔



