جب قاضی فائز عیسیٰ وکیل سے سیدھے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے
ایک سینئر وکیل سے براہِ راست بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ کے سربراہ بننے تک کا ان کا سفر کئی سوالات اور تنازعات سے گھرا رہا۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں چند شخصیات ایسی رہی ہیں جن کے فیصلے اور کردار مسلسل بحث کا موضوع بنے رہے۔ قاضی فائز عیسیٰ بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔
ایک سینئر وکیل سے براہِ راست بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پھر سپریم کورٹ کے سربراہ بننے تک کا ان کا سفر کئی سوالات اور تنازعات سے گھرا رہا۔
ابتدائی زندگی اور وکالت کا آغاز
قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی محمد عیسیٰ تحریک پاکستان کے نمایاں رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ میں حاصل کی اور بعد ازاں لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
1982 میں وہ انگلینڈ اور ویلز کی بار میں شامل ہوئے اور پاکستان واپس آ کر وکالت کا آغاز کیا۔ 1985 میں وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے وکیل بنے جبکہ 1998 میں انہیں سپریم کورٹ میں وکالت کا حق ملا۔
انہوں نے تقریباً 27 سال تک ہائی کورٹس، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں وکالت کی اور کئی اہم آئینی مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔
وکالت کے دوران وہ ایک معروف لا فرم میں سینئر پارٹنر اور سربراہِ مقدمات رہے۔ عدالتیں انہیں پیچیدہ قانونی معاملات میں بطور امیکس کیوریائی (عدالت کے معاون) بھی طلب کرتی رہیں۔
جب قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بنے
2007 میں جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد پاکستان کی عدلیہ شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ 31 جولائی 2009 کو سپریم کورٹ نے اس ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے استعفیٰ دے دیا اور عدالت عملاً خالی ہو گئی۔
اسی غیر معمولی صورتحال میں صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مشاورت سے 5 اگست 2009 کو قاضی فائز عیسیٰ کو براہِ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کر دیا۔ اس وقت وہ کسی ہائی کورٹ کے جج نہیں تھے بلکہ ایک سینئر وکیل تھے۔
یہ تقرری پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال تھی کیونکہ عموماً چیف جسٹس کسی ہائی کورٹ کے سینئر جج کو بنایا جاتا ہے۔ اس فیصلے پر بعد میں قانونی اعتراضات بھی اٹھائے گئے، تاہم سپریم کورٹ نے 2018 میں قرار دیا کہ یہ تقرری غیر معمولی حالات میں کی گئی تھی اور آئین کے مطابق قانونی تھی۔
سپریم کورٹ تک رسائی
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ کو 5 ستمبر 2014 کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً ایک دہائی تک وہ سپریم کورٹ میں مختلف آئینی اور سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے رہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان بننا
پاکستان کے آئینی اصول کے مطابق سپریم کورٹ کا سب سے سینئر جج چیف جسٹس بنتا ہے۔ اسی اصول کے تحت 17 ستمبر 2023 کو قاضی فائز عیسیٰ پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس بنے۔ ان کی مدتِ ملازمت تقریباً 13 ماہ رہی اور وہ 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائر ہوئے۔
چیف جسٹس بننے کے بعد انہوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے جنہیں ان کے حامی اصلاحات قرار دیتے ہیں، جیسے عدالت کی کارروائیوں کی لائیو اسٹریمنگ کی اجازت دینا۔ تاہم اسی دوران کئی ایسے فیصلے بھی سامنے آئے جنہوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
متنازع فیصلے اور تنقید
ان کے دور کا سب سے زیادہ متنازع فیصلہ وہ تھا جس میں سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارٹی سے اس کا انتخابی نشان “کرکٹ بیٹ” واپس لے لیا۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر مجبور ہوئے اور اس کے سیاسی اثرات بہت بڑے سمجھے گئے۔
اسی طرح بعض مبصرین نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سیاسی دباؤ کے معاملات پر خاطر خواہ مداخلت نہیں کی۔ ناقدین کے مطابق اس رویے نے یہ تاثر پیدا کیا کہ عدلیہ طاقتور حلقوں کے سامنے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔
طاقتور حلقوں سے قربت کے الزامات
قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام بھی لگتا رہا کہ وہ بعض سیاسی قوتوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے ان کے بعض فیصلوں کو سیاسی اثرات سے جوڑ کر دیکھا اور کہا کہ ان کے فیصلوں سے مخصوص سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچا۔
نتیجہ
قاضی فائز عیسیٰ کا سفر ایک سینئر وکیل سے براہِ راست بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پھر چیف جسٹس آف پاکستان بننے تک غیر معمولی رہا۔ ان کے حامی انہیں ایک اصولی اور بے باک جج قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے بعض فیصلوں نے عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کے دورِ عدلیہ نے پاکستان کی سیاست اور عدالتی نظام میں ایک نئی بحث کو جنم دیا — کہ آیا عدلیہ واقعی طاقتور حلقوں سے آزاد ہے یا نہیں۔



