
آج سے ٹھیک چونتیس سال پہلے 25 مارچ 1992 کو آسٹریلیا کے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ایک ایسا لمحہ آیا جو کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
عمران خان کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دے کر پہلی بار کرکٹ ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔
لیکن اس فتح کی گونج صرف کرکٹ کے میدانوں تک محدود نہ رہی۔ یہ جیت ایک ایسے سفر کا نقطۂ آغاز بنی جس نے پاکستان میں کینسر کے لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن روشن کی۔
ایک ماں کی یاد، ایک بیٹے کا عہد
عمران خان کی والدہ شوکت خانم 1985 میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئیں۔ علاج کے دوران عمران خان نے قریب سے دیکھا کہ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے نہ تو معیاری علاج موجود ہے اور نہ ہی غریب طبقے کے لیے کوئی سہارا۔ اپنی والدہ کے نام پر ایک عالمی معیار کا کینسر ہسپتال بنانے کا خواب اسی وقت ان کے دل میں پیدا ہوا۔
فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز 1989 میں ہوا لیکن رفتار سست تھی۔ لوگوں میں ابھی مکمل اعتماد پیدا نہیں ہوا تھا، اور کروڑوں روپے کی ضرورت تھی۔ عمران خان کو ایک ایسی کامیابی کی ضرورت تھی جو پوری قوم کو متحرک کر سکے ۔ 1992 ورلڈکپ وہی لمحہ ثابت ہوا۔
1992 ورلڈکپ : میلبورن سے لاہور تک فتح کی لہر
1992 ورلڈکپ فائنل کے روز پاکستان کی صورتحال نازک تھی۔ ٹورنامنٹ میں ابتدائی ناکامیوں کے بعد ٹیم نے ناقابلِ یقین واپسی کی تھی۔ عمران خان نے ٹیم کو "cornered tigers” کہہ کر جوش دلایا اور پھر میلبورن میں 249 رنز کا ہدف انگلینڈ کو نہ پہنچنے دیا۔ جب آخری وکٹ گری اور عمران خان نے فاتح کپتان کی حیثیت سے ٹرافی اٹھائی، تو پاکستان بھر میں جشن کا سیلاب آ گیا۔
اس فتح نے عمران خان کو عوامی اعتماد کا وہ سرمایہ عطا کیا جس کی انہیں ہسپتال کے منصوبے کے لیے ضرورت تھی۔ وہ پاکستان واپس آئے تو نہ صرف کرکٹ کے ہیرو تھے بلکہ ان کی آواز میں ایسی طاقت تھی جسے پوری قوم سننے کے لیے تیار تھی۔
90 ہزار پاؤنڈ کا انعام شوکت خانم ہسپتال کے نام
سب سے پہلا اور سب سے اہم فیصلہ خود عمران خان نے کیا۔ ورلڈ کپ میں ان کا انعامی حصہ 90 ہزار پاؤنڈ تھا ۔ انہوں نے یہ پوری رقم بغیر ایک پنی رکھے شوکت خانم ہسپتال کے فنڈ میں دے دی۔ یہ قربانی قوم کو ایک پیغام تھی: یہ محض الفاظ نہیں، عمل ہے۔
اس کے بعد عمران خان نے پاکستان کے شہروں اور گلیوں میں فنڈ ریزنگ کا ایک بے مثال سفر شروع کیا۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ ہر جگہ عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ امیروں نے چیک پیش کیے تو ریڑھی والوں نے دن بھر کی کمائی دے دی، بچوں نے اپنے گلک توڑے اور خواتین نے زیورات اتار کر پیش کر دیے۔
جب خواب حقیقت بنا
ورلڈ کپ کی فتح کے محض ڈھائی سال بعد، 29دسمبر 1994 کو لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ یہ پاکستان کا پہلا تھرڈ ٹیئر کینسر ہسپتال تھا جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔
آج 31 سال سے زائد عرصے سے یہ ہسپتال انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ ہر سال ہزاروں کینسر کے مریض جن میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو علاج کا خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے یہاں سے شفاء پاتے ہیں۔ پشاور اور کراچی میں اس کی شاخیں بھی قائم ہو چکی ہیں۔



