عمران خان کی صحت اور قید تنہائی کا معاملہ ہاؤس آف لارڈز تک پہنچ گیا
یہ پہلا موقع نہیں کہ عمران خان کی صحت کے متعلق بین الاقوامی سطح پر بڑی پیشرفت ہوئی اس سے قبل دسمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے تشدد ایلس جل ایڈورڈز نے بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان قید اور صحت سے متعلق تشویش ناک معاملہ برطانیہ کے ایوان بالا ہاؤس آف لارڈز تک پہنچ گیا۔ لیبر پارٹی کی رکن نے عمران خان کے موضوع پر بحث کر کے ایوان کی توجہ معاملے کی طرف مبذول کرائی۔
بیرونس الیگزینڈر کی جانب سے شروع کی گئی اس بحث میں عمران خان کے قانونی حقوق ، فلاح و بہبود، خاندان سے ملاقات اور طبی سہولیات مہیا کیئے جانے کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔
عمران خان کا موضوع ایک بار پھر بین الاقوامی ایوان اور میڈیا کی زینت بنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے ان پر سختی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کے کیسز سماعت کیلئے مختص نہیں ہو رہے اور انہیں اپنی فیملی تک رسائی کے ساتھ طبی سہولیات تک پہنچنے میں بھی دقت کا سامنا ہے۔
عمران خان کا موضوع ہاؤس آف لارڈز تک پہنچ گیا
بیرونس الیگزینڈر کی جانب سے عمران خان کی صحت اور جیل میں بطور قیدی حقوق سمیت دیگر اہم موضوعات پر بحث کی۔
انہوں نے کہا کہ اس بحث کا مقصد کسی ایک سیاستدان یا ان کے ماضی کے ریکارڈ کی توثیق کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی، حال اور مستقبل کے ہر سیاستدان کی طرح عمران خان نے بھی غلطیاں کی ہیں لیکن یہ ان خدشات سے متعلق ہے جو سامنے لائے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کی وکلاء ، اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ان تک رسائی بند ہے اور گزشتہ چند ماہ سے عمران خان مکمل قید تنہائی میں ہیں۔
اسی دوران عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کا واقعہ بھی سامنے آیا جس کے بعد حکومتی رپورٹس کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے تین پروسیجر ہو چکے ہیں۔
تاہم یہ تمام تر معاملات میڈیا اور ان کے پارٹی رہنماؤں سے بہت دور رکھے گئے ہیں جس سے بانی پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔
اندرون ملک پارٹی خاموش، عالمی سطح پر آواز بلند
ہاؤس آف لارڈز میں عمران خان کے موضوع پر بحث کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ان کی قید کے متعلق خاموشی کا عالم ہے۔ نہ پارٹی رہنما نہ میڈیا کہیں بھی عمران خان کا موضوع مکمل توجہ کے ساتھ زیر بحث نہیں لایا جا رہا ہے۔
کیا عمران خان کو ہاؤس آف لارڈز کی حمایت کا کوئی فائدہ ہوگا؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمران خان کی قید بین الاقوامی سطح پر موضوع بحث بنی ۔ اس سے قبل دسمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے تشدد ایلس جل ایڈورڈز نے جیل میں عمران خان کے ساتھ ناروا سلوک کے معاملے کو اٹھایا تھا۔
تاہم حکومت کیجانب سے ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور عمران خان کو عدالتی نظام کے ذریعے ہی سزائیں ہوئیں اور اسی نظام سے ہی ریلیف مل سکتا ہے۔
اس سے قبل کئی بین الاقوامی مبصرین اور اراکین پارلیمںٹ عمران خان کا موضوع زیر بحث لا چکے تاہم کوئی بھی کوشش سود مند ثابت نہیں ہوئی۔



