عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا بیان اور جھوٹے بیانیے کا حکومتی ڈھنڈورا
25 مارچ2026 کو قاسم خان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں خطاب کیا۔

پاکستانی سیاست میں ایک عجیب و غریب صورتحال دیکھنے میں آئی جب حکومتی وزراء نے بڑے اعتماد کے ساتھ پریس کانفرنسیں کیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس( GSP+) ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ الزام نہ صرف جھوٹا نکلا بلکہ اس کی تردید خود قاسم خان نے، پی ٹی آئی نے، اور متعدد آزاد صحافتی اداروں نے فیکٹ چیک کے ذریعے کر دی۔
لیکن اصل نقصان تب ہوا جب حکومت کے اپنے سرکاری بیانات بین الاقوامی میڈیا میں پھیل گئے اور دنیا کو یہ پیغام پہنچا کہ پاکستان میں کوئی شخص خود اپنے ملک کی تجارتی ترجیحات ختم کروانا چاہتا ہے۔
اصل واقعہ کیا ہوا؟
25 مارچ2026 کو قاسم خان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں خطاب کیا۔ ان کی تقریر مکمل طور پر اپنے والد عمران خان کی رہائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی صورتحال کے گرد مرکوز تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے GSP+ فریم ورک کے تحت 27 بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے تھے اور حکومت کو ان معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے نہ کہ انہیں توڑنا چاہیے۔
مگر پھر کیا ہوا؟ چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے تقریر کی ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ قاسم نے GSP+ ختم کرانے کا مطالبہ کیا۔ یہ کلپ وائرل ہوا، اور اس کے بعد حکومتی شخصیات نے باقاعدہ پریس کانفرنسیں کر کے قاسم خان پر سرکاری طور پر الزامات لگائے۔
پی ٹی آئی کا مطالبہ ویڈیو دکھاؤ
سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ "عمران خان کے صاحبزادے نے اپنے والد اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی، مخالفین ان کے بیانات کو ٹوسٹ کرکے جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ قاسم خان نے کسی جگہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو معطل کرنے جیسی کوئی بات نہیں کی۔ ن لیگ کے وفاقی و صوبائی وزراء کو شرم آنی چاہیئے”
ایک اور ٹی وی پروگرام میں خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے بھی مطالبہ کیا کہ حکومت وہ ویڈیو دکھائے ۔ اگر جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کی بات ہوئی تو معافی مانگ لیں گے۔
ن لیگ کو چیلنج کیا کہ قاسم خان کی جی ایس پی پلیس کیخلاف بیان کی کوئی ویڈیو یا مخالفت کی کوئی ٹویٹ لے آئیں تو ہم معافی مانگ لیں گے، شفیع جان pic.twitter.com/Hb1Wwpb0yt
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) March 30, 2026



