
اگر کوئی خاتون آپ کے سامنے آ کر یہ دعویٰ کرے کے وہ ہر رات اپنے ہی شوہر کو جسم بیچتی ہے تو یہ بات سننے میں ہی آپ کو عجیب معلوم ہو گی۔
آپ یقیناً سوال اٹھائیں گے کہ کوئی بیوی بھلا اپنے شوہر کو جسم کیوں بیچے گی ؟ یہ تو ازدواجی زندگی کا ایک عنصر ہوا کرتا ہے۔
تاہم بعض اوقات اگر کوئی انسان سیدھے طریقے سے کوئی بات نہ سمجھ پا رہا ہو تو اسے سبق سکھانے کیلئے کچھ ایسا کرنا پڑتا ہے جو اس شخص کا دماغ کھول دیتا ہے اور آنکھوں پر پڑا پردہ ہٹا دیتا ہے۔
یوں اس شخص پر حقیقت عیاں ہو جاتی ہے اور وہ اپنی غلطی بھی تسلیم کرکے سدھار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ہر رات اپنے شوہر کو جسم بیچنے والی بیوی کی کہانی:
ہر رات شوہر کو جسم بیچنے والی بیوی کی یہ کہانی بھی ایک عجیب اور دلچسپ کہانی ہے جس میں بیوی اپنے خاوند پر ایک شرط عائد کرتی ہے کہ وہ جب بھی ازدواجی تعلق قائم کرنے کو اس کے قریب آئے گا، وہ اسے 2000 روپے دےگا۔
شوہر کو یہ شرط بہت عجیب لگتی ہے جس پر وہ اس کی پیچھے چھپی وجہ جاننے کی کوشش بھی کرتا ہے، تاہم وہ ایسا کر نہیں پاتا۔
صرف 2000روپے ہی نہیں، بیوی دوسروں کے سامنے یا گھومتے پھرتے غیر معقول لباس بھی پہنتی ہے جو شوہر کیلئے ہزیمت کا باعث بنتا ہے۔ تاہم وہ بیوی کے اس رویے کے پیچھے چھپے رویے کو سمجھنے سے عاری نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں:سال 2023 بچوں کیلئے خوفناک کیوں تھا؟
یوں شوہر ایک ثالث کی مدد لینے کا فیصلہ کرتا ہے جس کی ثالثی شوہر اور بیوی دونوں قبول کرتے ہیں۔
شوہر کو جسم بیچنے کی وجہ:
شوہر ثالث کے سامنے اپنی بیوی کے اس نامناسب رویے کا ذکر کرتا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد وہ یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرے۔ تاہم ایسا کرنے کو ہر بار 2000 روپے طلب کرنا ناجائز مطالبہ ہے۔
ثالث کے پوچھنے پر بیوی پہلے تو ٹال مٹول سے کام لیتی ہے اور اپنا حق جتاتی ہے لیکن بارہا اصرار پر وہ بتاتی ہے کہ شادی کے موقع پر ان کے شوہر اور سسرال کی طرف سے گاڑی اور دوسری ناجائز مطالبات کی مانگ کی گئی تھی جس کو پورا کرنے کیلئے ان کے والد کو بھاری قرضہ اٹھانا پڑا۔
شادی کو عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے والد اور گھر کے دیگر افراد وہ قرض نہیں اتار پاتے۔
ثالث کے پوچھنے پر شوہر تسلیم کرتا ہے کہ اس پر گھر والوں کا دباؤ تھا جس کی وجہ سے اس نے ایسی فرمائشیں ضرور کی تھیں۔
شوہر کہتا ہے کہ اب اسے احساس ہوا ہے اور وہ گاڑی بیچ کر ان کے والد کی قرض اتارنے میں مدد کرے گا۔ تاہم شوہر کہتا ہے کہ بیوی کی جسم بیچنے والی حرکت بھی غلط ہے جس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔
بیوی بھی اپنی غلطی پر معافی مانگتی ہے تاہم اس کا کہنا تھا کہ شوہر کو جسم بیچنے کا یہ حربہ اسے احساس دلانے کیلئے کیا تاکہ وہ بھی جان سکیں کہ فضول کی ڈیمانڈ کرنے سے بیوی کے قریبی عزیزوں کو کن کن تکلیفوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
کہنے کو تو یہ ایک کہانی ہے لیکن اس کے اندر ایک گہرا میسج ہے جو شادی سے جڑے افسوسناک رویوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہی رویوں کے باعث معاشرہ اب خاندان کی اس اکائی سے محروم ہو رہا ہے جو صحت مند معاشرے کی پہچان ہوا کرتا تھا۔
ظاہر ہے کہ جب ایک رشتہ کی بنیاد ہی غلط ڈالی جائے گی تو اس رشتے کی بنیاد پر وجود پانے والا خاندان کیوں کر ایک مضبوط اکائی ہو گا۔