سائنس اور ٹیکنالوجی

جی میل، جیمنائی اے آئی اور صارفین کے ڈیٹا سے متعلق تنازعہ: حقیقت کیا ہے؟

سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی  کمپنیوں کو نئے انسانی ڈیٹا کی کمی کا سامنا ہے اس لئے وہ روزمرہ ڈیٹا استعمال کر رہی ہیں۔

نومبر  2025 میں ایک ویڈیو بلاگر اور بعض ٹیکنالوجی ویب سائٹس نے دعویٰ کیا کہ گوگل کی ای میل سروس جی میل نے اسمارٹ فیچرز کے نام سے ایک آپشن خاموشی سے فعال کر دیا ہے۔

دعویٰ کیا گیا کہ اس فیچر کے نتیجے میں صارفین کے ای میل پیغامات اور اٹیچمنٹ جیمنائی اے آئی ماڈل کی تربیت کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دعوے کے مطابق اس آپشن کو غیر فعال کئے بغیر صارفین کا ذاتی یا دفتر ی ڈیٹا کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلوں تک پہنچ سکتا ہے، اور اسے بند کرنے  کیلئے جی میل کی سیٹنگز میں دو مختلف جگہوں پر جا کر بٹن بند کرنا پڑتا ہے۔

خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی  کمپنیوں کو نئے انسانی ڈیٹا کی کمی کا سامنا ہے اس لئے وہ روزمرہ ڈیٹا استعمال کر رہی ہیں۔

ایک مجوزہ مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے جو گوگل پر جیمنائی AI کو مکمل ای میل ہسٹری تک رسائی دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس دعوے نے دنیا بھر میں صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

اس رپورٹ میں ہم اس تنازعے کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ صارفین اپنی پرائیویسی کو بہتر طور پر کس طرح محفوظ کر سکتے ہیں۔

 

جی میل، جیمنائی اور صارفین کے ڈیٹا: تنازع اور ابتدائی دعوے

 

گمنام یوٹیوبر اور کچھ سکیورٹی بلاگز نے نومبر 2025 کے اوائل میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ عام کیا کہ گوگل نے 10  اکتوبر  2025 کو جیمنائی اے آئی  فیچر تمام جی میل، چیٹ اور میٹ صارفین کیلئے خاموشی سے آن کر دیا ہے۔

کلاس ایکشن مقدمہ کی شکایت میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ  Google نے 10 اکتوبر 2025 کو اپنے صارفین کے Gmail, Chat اور Meet اکاؤنٹس پر Gemini کو خودکار طور پر فعال کیا، جس کے بعد یہ AI صارفین کی نجی بات چیت اور اٹیچمنٹ کو بغیر اجازت کے ٹریک کرتا ہے۔

شکایت کے مطابق یہ عمل صارفین کے علم اور رضامندی کے بغیر ہوا اور اسے روکنے کیلئے ان کو مخصوص پرائیویسی سیٹنگز تلاش کر کے بند کرنا پڑتا ہے۔

 

دعوؤں کی بنیاد:

 

ان دعوؤں کی بنیاد کئی باتوں پر تھی:

 

  • ورچول پوسٹس اور بلاگ رپورٹس:

    Malwarebytes نامی سکیورٹی بلاگ نے ابتدا میں ایک مضمون میں لکھا تھا کہ گوگل نے جی میل کی بعض سیٹنگز میں لفظی تبدیلیاں کی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو لگا کہ اے آئی تربیت کیلئے مواد استعمال ہو رہا ہے۔  اور یہ کہ صارفین کو خود جا کر “اسمارٹ فیچرز” بند کرنا ہوگا۔

    بعد میں اسی بلاگ نے تسلیم کیا کہ اس نے غلط فہمی کو فروغ دیا اور مزید تحقیق کے بعد واضح کیا کہ جی میل کا مواد generative AI ماڈلز کیلئے استعمال نہیں ہو رہا۔

  • سوشل میڈیا پر تشویش:

    ایک انجینئر نے X (ٹوئٹر) پر کہا کہ جی میل صارفین کو خودکار طور پر اس فیچر میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے گوگل کو نجی پیغامات اور فائلز تک رسائی مل سکتی ہے۔ اس پر ہزاروں صارفین نے سیٹنگز بند کرنے کی ہدایتیں شیئر کیں اور خبر وائرل ہو گئی۔

  • مجوزہ مقدمہ:

    Thele v. Google” نامی کلاس ایکشن شکایت میں الزام لگایا گیا کہ گوگل نے جیمنائی اے آئی کو بذریعہ “اسمارٹ فیچرز” صارفین کے ای میل، چیٹ اور میٹ مواصلات تک رسائی دی ہے اور یہ عمل صارفین کی رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان عوامل نے ایک تاثر پیدا کیا کہ گوگل اپنے AI ماڈل کو تربیت دینے کیلئے ای میل کے مواد اور اٹیچمنٹ استعمال کر رہا ہے اور اسے روکنے کیلئے صارفین کو دو جگہوں پر جا کر بٹن بند کرنا ہوگا۔

گوگل کی وضاحت اور حقیقت

گوگل کا سرکاری بیان

سوشل میڈیا پر شور کے بعد گوگل نے اپنے سرکاری Gmail اکاؤنٹ سے 21 نومبر 2025 کو بیان جاری کیا جس میں کہا گیا:

“ہم نے کسی کا سیٹنگ تبدیل نہیں کیا۔ جی میل اسمارٹ فیچرز کئی سالوں سے موجود ہیں، اور ہم آپ کے جی میل مواد کو جیمنائی AI ماڈل کی تربیت کیلئے استعمال نہیں کرتے۔ ہم اپنی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کے بارے میں ہمیشہ واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں”

اسی بیان میں کمپنی نے کہا کہ اگرچہ اسمارٹ فیچرز ترتیب دینے سے ای میل مواد اور سرگرمی کو بطور personalization استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا مقصد صرف اسپیم فلٹرنگ، پیغامات کی درجہ بندی اور لکھنے کیلئے تجاویز فراہم کرنا ہے۔ Google کا کہنا ہے کہ یہ فیچر صارف کے اکاؤنٹ میں موجود رہتا ہے اور generative AI ماڈل کیلئے الگ تربیتی ڈیٹا نہیں بنتا۔

کلاس ایکشن شکایت کی حیثیت

 

Thele v. Google کیس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ گوگل نے 10 اکتوبر  2025 کو “اسمارٹ فیچرز” کو خاموشی سے فعال کر دیا اور اب صارفین کے نجی مواصلات کو جیمنائی AI کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے۔

یہ شکایت امریکی عدالت میں دائر ہے اور فی الحال اس کی سماعت جاری ہے۔ یہ ایک الزام ہے جس کا فیصلہ عدالت کرے گی؛ فی الحال اسے ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔

خلاصہ

 

مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والا دعویٰ جس میں کہا گیا کہ گوگل خودکار طور پر جی میل مواد کو AI کی تربیت کیلئے استعمال کر رہا ہے غلط یا کم از کم مبالغہ آمیز ہے۔ گوگل اور متعدد معتبر ذرائع نے واضح کیا کہ:

  • “اسمارٹ فیچرز” کئی سالوں سے موجود ہیں اور انہی کے ذریعے گوگل صرف اسپیم فلٹرنگ، کیٹیگریشن، آرڈر ٹریکنگ اور لکھنے کیلئے تجاویز فراہم کرتا ہے۔
  • یہ فیچر صارف کے اکاؤنٹ کے اندر ہی ڈیٹا استعمال کرتا ہے؛ اسے جیمنائی AI کی تربیت کیلئے استعمال نہیں کیا جاتا۔
  • گوگل نے صارفین کے سیٹنگز میں کوئی خاموش تبدیلی نہیں کی۔ البتہ بعض صارفین نے اپ ڈیٹس کے بعد اس فیچر کو دوبارہ فعال پایا ہے، جس سے کنفیوژن پیدا ہوا۔
  • ایک مجوزہ مقدمہ میں یہ الزام ضرور لگایا گیا ہے کہ گوگل نے اجازت کے بغیر فیچر آن کیا، لیکن یہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اسمارٹ فیچرز اور پرائیویسی: صارفین کیا کریں؟

 

اگرچہ خبر میں کیے گئے تمام دعوے درست ثابت نہیں ہوئے، پھر بھی پرائیویسی کو اہمیت دینے والے صارفین کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسمارٹ فیچرز کیا کرتے ہیں اور انہیں کس طرح بند کیا جا سکتا ہے۔

اسمارٹ فیچرز کیسے کام کرتے ہیں؟

 

گوگل کے مطابق اسمارٹ فیچرز “آپ کے ای میل، چیٹ اور میٹ کے مواد اور سرگرمی کو استعمال کرتے ہیں تاکہ انہی ایپس میں ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کیا جا سکے”۔ مثالوں میں شامل ہیں:

  • اسپیم فلٹرنگ اور کیٹیگریشن: مشتبہ پیغامات کو سپیم فولڈر میں بھیجنا اور پروموشنز، سوشل، اپ ڈیٹس وغیرہ میں خودکار درجہ بندی کرنا۔
  • سمارٹ کمپوز اور گرائمر چیک: ٹائپنگ کے دوران خودکار تجاویز دینا اور املاء/گرامر کی غلطیوں کی تصحیح کرنا۔
  • ایونٹس اور آرڈر ٹریکنگ: ای میل میں موجود فلائٹ، ہوٹل یا خریداری کی معلومات کو Google Calendar میں شامل کرنا یا ٹریکنگ لنک دینا۔

یہ فیچرز جنریٹو AI تربیت نہیں بلکہ rule-based یا مشین لرننگ کے ذریعے صارف کے اکاؤنٹ کے اندر ہی کام کرتے ہیں۔

اسمارٹ فیچرز بند کرنے کا طریقہ

 

اگر کوئی صارف اپنی ای میل پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ گوگل اس کے پیغامات کو حتیٰ کہ personalization کیلئے بھی استعمال نہ کرے، تو وہ مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتا ہے:

  • جی میل ڈیسک ٹاپ پر اسمارٹ فیچرز بند کریں: جی میل کھولیں، اوپر دائیں جانب گیئر آئیکن پر کلک کر کے “See all settings” پر جائیں۔ جنرل ٹیب میں “Smart features in Gmail, Chat and Meet” کے خانے کو غیر فعال کریں اور تبدیلی محفوظ کریں۔
  • Google Workspace کے اسمارٹ فیچرز بند کریں: اسی سیٹنگز صفحے پر “Google Workspace smart features” سیکشن میں جائیں، “Manage Workspace smart features” کو منتخب کریں، اور وہاں موجود دونوں آپشنز (“Smart features in Google Workspace” اور “Smart features in other Google products”) کو بند کر دیں۔
  • موبائل پر بند کرنا: جی میل موبائل ایپ میں Settings → Your email address → Data privacy پر جائیں اور Smart features and personalization کو غیر فعال کریں۔
  • Gemini یا Deep Research فیچر کی اجازت: اگر آپ Gemini AI اپ یا Chrome میں استعمال کر رہے ہیں، تو ای میلز یا دیگر ڈیٹا تک رسائی کیلئے خاص اجازت طلب کی جاتی ہے۔ اس اپروال پاپ اپ میں “Don’t allow” یا “Cancel” کا انتخاب کر کے آپ AI کو اس ڈیٹا تک رسائی دینے سے روک سکتے ہیں۔

یہ اقدامات کرنے سے اسمارٹ فیچرز کی وجہ سے ای میل مواد کا تجزیہ رُک جائے گا، لیکن اس کے ساتھ کچھ سہولتیں (مثلاً اسپیل چیک، آٹو کمپوز، فلٹرنگ) بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

نتیجہ

یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر اٹھنے والے دعوے کہ گوگل خاموشی سے جی میل مواد کو جیمنائی AI کی تربیت کیلئے استعمال کر رہا ہے، معتبر ذرائع کے مطابق درست نہیں ہیں۔

گوگل، دی ورج اور کئی دیگر ٹیکنالوجی رپورٹرز نے واضح طور پر بتایا کہ اسمارٹ فیچرز کا مقصد صرف صارفین کی سروس کو ذاتی نوعیت دینا ہے اور اس ڈیٹا کو generative AI ماڈلز میں شامل نہیں کیا جاتا.

Malwarebytes نے بھی اپنی رپورٹ کو درست کرتے ہوئے یہی بات کہی۔ تاہم ایک مجوزہ کلاس ایکشن مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے، جو ان دعوؤں کی قانونی چھان بین کرے گا۔

صارفین کیلئے اہم سبق یہ ہے کہ وہ اپنی ای میل سیٹنگز پر نظر رکھیں اور اسمارٹ فیچرز کی مدد سے انہیں اگر سہولت مل رہی ہے تو اسے جاری رکھیں، لیکن اگر پرائیویسی کی فکر زیادہ ہے تو انہیں بند کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ AI اور پرائیویسی کے موضوع پر معلومات کے خلا، مبہم زبان اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کس طرح خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button