اہم خبریں

غلاف کعبہ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کے گھر کیسے پہنچے؟

کھیپ برٹش ایئرویز کے ذریعے سعودی عرب سے فلوریڈا بھیجی گئی، جس کیلئے انوائسز، کسٹم کلیئرنس اور امریکہ میں ڈیلیوری کے انتظامات کئے گئے۔

30 جنوری 2026 کو امریکہ کے محکمۂ انصاف نے ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کے تحت ہزاروں ای میلز اور دستاویزات جاری کیں۔

اُن میں فروری اور مارچ 2017 کی ای میلز شامل تھیں جن سے معلوم ہوا کہ غلاف کعبہ (کسوہ) کے تین ٹکڑے ایک سعودی‑اماراتی رابطے کے ذریعے 2017 میں جیفری ایپسٹین کے گھر بھیجے گئے۔

ایپسٹین 2008 میں کم عمر لڑکی سے بدکاری کے جرم میں سزا یافتہ ہو چکا تھا اور مزید مقدمات کا سامنا کر رہا تھا، اس لیے یہ انکشاف مسلم دنیا میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔

ای میلز میں کیا تھا؟

 

سعودی نژاد اماراتی بزنس ویمن عزیزہ الاحمدی نے ایک شخص عبداللہ الماعی کے ہمراہ ایپسٹین کو کسوہ کے تین ٹکڑے بھیجنے کیلئے انتظامات کیے۔ ای میلز میں بتایا گیا کہ:

  • احرام کے ایک ٹکڑے کا اندورنی حصہ کعبہ کے اندر سے لیا گیا تھا، دوسرا ٹکڑا بیرونی پردے کا استعمال شدہ حصہ تھا اور تیسرا ٹکڑا اسی کپڑے کا بنا ہوا لیکن استعمال میں نہیں آیا تھا۔
  • کھیپ برٹش ایئرویز کے ذریعے سعودی عرب سے فلوریڈا بھیجی گئی، جس کیلئے انوائسز، کسٹم کلیئرنس اور امریکہ میں ڈیلیوری کے انتظامات کئے گئے۔
  • چونکہ یہ تیسرا ٹکڑا استعمال نہیں ہوا تھا، اس لیے اسے کسٹم کاغذات میں “آرٹ ورک” لکھا گیا، اور پوری کھیپ کی قیمت تقریباً 10,980 ڈالر لگائی گئی۔
  • الاحمدی نے ایپسٹین کو لکھا کہ یہ سیاہ کپڑا کم از کم 10 ملین مسلمانوں نے چھوا ہے، جو طواف کے دوران کعبہ کے گرد سات چکر لگاتے ہیں اور دعائیں، اشک اور امیدیں اس کپڑے پر چھوڑ جاتے ہیں۔

ای میلز سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ الاحمدی اور ایپسٹین کے درمیان تعلق کس نوعیت کا تھا یا یہ ٹکڑے اُس تک کیوں پہنچائے گئے۔ ایپسٹین کے پرسنل اسسٹنٹ لیزلی گروف کے ذریعے زیادہ تر رابطہ ہوا۔ بعد میں آنے والی ای میلز میں الاحمدی نے ستمبر 2017 میں سمندری طوفان “ارما” کے بعد ایپسٹین کی خیریت دریافت کی۔

کسوہ کیا ہے؟

 

کسوہ وہ سیاہ کپڑا ہے جو کعبہ کے بیرونی حصے پر ڈالا جاتا ہے۔ ہر سال ذوالحج یا محرم کی ابتداء میں پرانا پردہ اتارا جاتا ہے اور نیا کپڑا چڑھایا جاتا ہے۔ چند اہم نکات:

  • کسوہ کی تیاری انتہائی مہارت طلب کام ہے جس میں 200 سے زیادہ کاریگر، 264 پاؤنڈ چاندی اور سونے کا دھاگہ اور 47 ریشمی پینل استعمال ہوتے ہیں۔ اسے تیار کرنے کی لاگت تقریباً 5 ملین ڈالر ہے۔
  • تاریخی طور پر یہ کپڑا مصر میں تیار ہوتا تھا لیکن اب مکہ کے شاہ عبد العزیز کمپلیکس میں تیار کیا جاتا ہے۔
  • رسولِ اکرمﷺ کے زمانے میں کسوہ سفید رنگ کا ہوتا تھا؛ بعد کے ادوار میں سرخ اور سبز رنگ بھی استعمال ہوئے اور بالآخر موجودہ سیاہ رنگ رواج پا گیا۔
  • پرانا پردہ کاٹا جاتا ہے اور علما، اسلامی اداروں، میوزیموں اور سرکاری شخصیات کو تحفہ دیا جاتا ہے۔ یہ تقسیم سخت نگرانی میں ہوتی ہے اور اصل ٹکڑوں کی مارکیٹ محدود اور تصدیق شدہ ہوتی ہے۔

غلاف کعبہ کے ٹکڑے بے حرمتی کی نظر ہونے پر مسلم امہ کا ردعمل:

 

جب یہ دستاویزات منظرِ عام پر آئیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا:

  • سوشل میڈیا پر صارفین نے لکھا کہ دنیا کے سب سے مقدس مقام کا کپڑا ایک بدنام مجرم کے گھر بھیجنا انتہائی بے حرمتی ہے۔
  • بعض صارفین نے سعودی و اماراتی حکام سے اس پر وضاحت طلب کی اور سوال اٹھایا کہ کس نے یہ اجازت دی کہ کعبہ کا پردہ کسی غیرمسلم مجرم کو بطور تحفہ دیا جائے۔

نتیجہ

 

ایپسٹین فائلز سے یہ انکشاف نہایت حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان مقدس کسوہ کی حرمت پر انگلی اٹھانے والے ہر عمل کو شدید توہین سمجھتے ہیں، دوسری طرف ای میلز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی طاقت اور دولت کے حامل افراد مذہبی علامات کو ذاتی شوق یا سیاسی تعلقات کے لئے حاصل کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button