اہم خبریں

غریدہ فاروقی کے لباس پر حالیہ تنقید اور ماضی کے دوہرے معیار

حالیہ دنوں میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی کو ان کے لباس کی بنیاد پر جس طرح سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور ہراساں کرنے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں خواتین کا احترام ایک بنیادی شرط ہے۔ عورت کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اس کا رنگ، نسل، یا پیشہ کچھ بھی ہو، اس کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

حالیہ دنوں میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی کو ان کے لباس کی بنیاد پر جس طرح سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور ہراساں کرنے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے۔

غریدہ فاروقی کے لباس پر تنقید: ایک غیر اخلاقی عمل

 

حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے سفارتی مذاکرات کی کوریج کے دوران غریدہ فاروقی کے سبز لباس (Green co-ord) کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر کھینچی گئیں اور پھر سوشل میڈیا پر ان کے کپڑوں کو لے کر ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا۔

حتیٰ کہ ان کی جعلی اور غیر اخلاقی (AI) ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ کسی بھی خاتون صحافی کے کام اور اس کی رپورٹنگ کو پرکھنے کے بجائے اس کے کپڑوں پر اخلاقی پولیسنگ کرنا اور اس کی کردار کشی کرنا ایک انتہائی گھٹیا عمل ہے۔

ایک معاشرے کے طور پر ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی خاتون کے لباس کو اس کی قابلیت یا کردار کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہم اس عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور بحیثیت خاتون ان کے احترام کے حق میں کھڑے ہیں۔

ماضی کا آئینہ اور سلیکٹو اخلاقیات 

 

تاہم، جہاں ہم غریدہ فاروقی پر ہونے والے اس حملے کو غلط قرار دیتے ہیں، وہیں حقائق اور تاریخ کے اوراق پلٹنا بھی ضروری ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اصول اور احترام سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحافت اور سیاست میں دہرا معیار عام ہو چکا ہے۔

آج جب غریدہ فاروقی اپنے لباس کی وجہ سے ٹرولنگ کا شکار ہیں، تو ہمیں وہ وقت بھی یاد آتا ہے جب یہی غریدہ فاروقی اور ان کے ہم خیال صحافی ٹی وی سکرینز پر بیٹھے رہتے تھے اور ان کے شوز میں سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کے انتہائی نجی معاملات، عدت کیس اور مخصوص ایام کو قومی میڈیا پر کھلے عام زیرِ بحث لایا جاتا تھا۔ ایک خاتون کی نجی زندگی کے ان پہلوؤں کو اچھالنا جن پر بات کرنا بھی شرم و حیا کا تقاضا ہے، اس وقت ان صحافیوں اور اینکرز کی طرف سے ایک لفظِ مذمت تک نہیں بولا گیا۔

اس کے علاوہ ماضی میں ہمیں مزید کئی ایسے واقعات نظر آتے ہیں جہاں اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں:

خواتین ورکرز پر حملے:

  • جب پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی خواتین ورکرز اور رہنماؤں پر سیاسی مخالفین کی جانب سے غلیظ لفاظی کی گئی، انہیں سڑکوں پر گھسیٹا گیا، اور ان کی کردار کشی کی گئی، تب یہ حلقے خاموش تماشائی بنے رہے۔

ساتھی صحافیوں کے خلاف مہم


جب غریدہ فاروقی کی اپنی دیگر ساتھی صحافی خواتین (جن کا بیانیہ ان سے مختلف تھا) کے خلاف مہم چلائی گئی اور انہیں نشانہ بنایا گیا، تب بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔

احترام سب کے لیے، یا کسی کے لیے نہیں

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عورت کی عزت کو سیاسی وابستگی کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر غریدہ فاروقی کے لباس پر تبصرہ کرنا اور ان پر کیچڑ اچھالنا غلط ہے (اور یہ سو فیصد غلط ہے)، تو بشریٰ بی بی کے پردے، ان کے نجی ایام، اور پی ٹی آئی کی خواتین پر ہونے والے حملوں پر خاموشی اختیار کرنا اور ان شوز کی میزبانی کرنا بھی اتنا ہی غلط اور شرمناک تھا۔

آپ صرف اس وقت مظلومیت اور خواتین کے حقوق کا کارڈ استعمال نہیں کر سکتے جب حملہ آپ پر ہو، جبکہ دوسروں کی باری پر آپ خود اس تذلیل کا حصہ بنیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button