
سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد فیصل واؤڈا ، عطاء تارڑ، جاوید لطیف اچانک نمودار ہوتے ہیں، 9 مئی اور دیگر تمام واقعات پر عمران خان کی بجائے جنرل فیض حمید کو ماسٹر مائنڈ بتاتے ہیں اور ان کی گرفتاری کو اپنے لئے خوش آئند قرار دینے کے ساتھ وہ عمران خان کیلئے جنرل فیض حمید کی گرفتاری کو پریشانی قرار دیتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا واقعی پی ٹی آئی جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر پریشان ہے؟ اس پر اگر ہم پی ٹی آئی کی جانب سے آنے والے ابتدائی ردعمل دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی ویسی کسی پریشانی کا شکار نہیں جس کا اظہار مخصوص صحافی طبقہ اور حکومتی ترجمان کر رہے ہیں۔
پہلا رد عمل اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے دیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل فوج کا اندرونی معاملہ ہے، فوج کا اپنا ایک سٹرکچر بنا ہوا ہے وہ جس کو جیسے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں،ہم نے کبھی سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف میرا نہیں خیال کوئی ایسا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی جنرل فیض کی گرفتاری پر پریشانی کی بجائے جنرل باجوہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کی گرفتاری عمران خان کیلئے خطرہ کیسے ہے
نجی نیوز چینل پر صحافی حامد میر نے پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین سے سوال کیا کہ کیا صرف جنرل فیض کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا جنرل باجوہ کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
اس پر شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ بقول خواجہ آصف 2019 میں باجوہ کے سسر کے گھر خواجہ آصف کی جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے ملاقات ہوتی ہے تو جنرل فیض نے ان سے کہا کہ پنجاب کی گورنمنٹ ابھی لے لیں اور دسمبر میں وفاق لے لینا۔
شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر آرڈر دینے والے جنرل باجوہ تھے تو ان کے خلاف کارروائی ہونا چاہیے۔
اگرچہ پی ٹی آئی اور جنرل فیض حمید کا یارانہ بتا کر ایک بیانیہ کافی عرصے سے بنایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان کو جنرل فیض کی حمایت حاصل تھی اور وہ انہیں آرمی چیف بھی بنانا چاہتے تھے۔
تاہم خواجہ آصف کے انکشاف نے ن لیگ کی پریشانی کوبڑھا دیا ہے۔ یوں تو کورٹ مارشل کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے اس لئے جنرل فیضکے کیس بارے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن پی ٹی آئی سے زیادہ یہاں پریشان حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نظر آتی ہے۔