الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی ادارے سے سیاسی جماعت تک کا سفر
جس ادارے کی اپنی ساکھ اور اخلاقی حیثیت باقی نہ بچی ہو اس ادارے کے ذمے ملک کا سب سے اہم کام لگانا انتہائی نامناسب عمل ہے۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 218 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ملک میں آزاد اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد کا پابند بناتا ہے۔ یہ ادارہ جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت معذور ہوتی نظر آرہی ہے۔ اسکی ریڑھ کی ہڈی ہی فریکچر ہے۔
یہ ادارہ جو عوام کے حقوق کا ضامن ہونا چاہیے تھا آج ایسے اداروں میں شمار ہوتا ہے جو عوامی حقوق کی پامالی میں صفِ اول کا کھلاڑی ہے۔
مدت ملازمت کا تنازعہ
آئین پاکستان کا آرٹیکل 215 چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کی مدت ملازمت پانچ سال مقرر کرتا ہے۔ پانچ سال کی یہ قید جانبداری سے روکنے کیلئے متعارف کرائی گئی ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران بشمول چیف الیکشن کمشنر انتہائی متنازعہ رہے ہیں۔
مدت ملازمت کے اختتام پر انہیں فوری طور پر مستعفیٰ ہو جانا چاہیے تھا لیکن بے جا سپورٹ کی وجہ سے یہ اب تک اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔
جس ادارے کی اپنی ساکھ اور اخلاقی حیثیت باقی نہ بچی ہو اس ادارے کے ذمے ملک کا سب سے اہم کام لگانا انتہائی نامناسب عمل ہے۔
فروری 2024 کے انتخابات اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا متنازعہ کردار
8 فروری 2024 کے انتخابات ملکی تاریخ کے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ یوں تو پاکستان کے ہر الیکشن پر ہی سوال اٹھتے ہیں لیکن اس الیکشن سےپہلے چند ایسے واقعات ہوئے جو پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔
انتخابی نشان کا چھینا جانا اس سلسلے کی سب سے بڑی کڑی تھی۔ الیکشن سے چند روز قبل ہی الیکشن کمیشن نے ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا۔ یہ بات نارمل ہوتی اگر یہ الیکشن سے 3 یا 4 ماہ قبل وقوع پذیر ہوتی۔
ایسے میں متاثرہ فریق کے پاس اپیل کا حق بھی رہتا۔ لیکن یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا جب واپسی کا راستہ یعنی کے اپیل کا ٹائم بھی نہ تھا۔
سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے نے اس پر مہر ثبت کر کے معاملہ مزید الجھا دیا۔
دوسری افسوسناک مرحلہ انتخابی کاغذات کے جمع کرانے کے وقت پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف کے امیدواران کو ہی کاغذات جمع کرانے سے قبل اغواء کر لیا جاتا۔
اسی طرح امیدوار کے تجویز اور تائید کنندگان کو اغواء کرنے کا عمل بھی جاری رہا جس نے الیکشن کو مزید متنازعہ بنایا۔
الیکشن کی رات اچانک رزلٹ پلٹے تو رات کو جو بندہ ایک لاکھ کی لیڈ سے جیت رہا تھا وہ صبح ایک لاکھ کی لیڈ سے ہار رہا تھا۔ فارم 45 اور فارم 47 میں فرق اور رزلٹ کے لیٹ ہونے نے کئی پیچیدگیوں کو جنم دیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان بطور عدالتی فریق:
آپ گزشتہ 4 سال کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو آپکو ایک منفرد عمل دیکھنے کوملے گا کہ الیکشن کمیشن ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے خلاف عدالتی فریق بن کر مدمقابل میں کیس لڑتا رہا۔ حالانکہ یہ اس ادارے کے دائرہ اختیار کا کام نہ تھا۔
الیکشن کمشین کیلئے تمام پارٹیاں برابر ہونی چاہیں تھیں لیکن ایک کے مدمقابل کھڑے ہو کر اس ادارے جس کو اصولی طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے تھا نے جانبداری کے نئے ریکارڈ توڑے۔
اعتماد کا بحران
8 فروری 2024 کو عوام کا جمہوری پراسس پر سے اعتماد اٹھا ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے متنازعہ کردار نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔
مدتِ ملازمت ختم ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا عہدے پر چمٹے رہنا اور صاف اور شفاف الیکشن کرانے کی بجائے عدالتی لڑائیوں میں مشغول ہونا اس ادارے کی ساکھ کو مکمل تباہ کر رہا ہے۔
جمہوریت کی بنیاد ووٹ ہے اور حق رائے دہی کے استعمال میں الیکشن کمیشن بطور ادارہ ذمہ دار ہے، لیکن پاکستان میں یہ ادارہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام نظر آتا ہے۔



