اہم خبریںتعلیم

آئن سٹائن سے زیادہ آئی کیو رکھنے والی طالبہ ماہ نور چیمہ نے تاریخ رقم کر دی

ماہ نور چیمہ  کا آئی کیو لیول 161 بتایا جاتا ہے۔  یہ آئی کیو لیول مشہور سائنسدانوں البرٹ آئن سٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ سے بھی زیادہ سمجھا جاتا ہے۔

معمولی ذہانت رکھنے والے طلباء اکثر اپنے کارناموں سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہیں ۔ لیکن پاکستانی نژاد برطانوی طلبہ 18 سالہ ماہ نور چیمہ کی کہانی ان سب سے مختلف ہے۔

ماہ نور چیمہ نے  اے لیولز کے 24 مضامین اے گریڈ میں پاس کر کے نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی بلکہ مشہور تعلیم ادارے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بڑی آفر بھی حاصل کی ہے۔

اس شاندار کامیابی کے اعزاز میں انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طب ( میڈیسن) میں داخلے کی پیشکش ہوئی ۔ وہ جلد ہی اس مایہ ناز تعلیمی ادارے سے طب کی تعلیمی شروع کرنے کیلئے پرجوش ہیں۔

ماہ نور چیمہ  کا آئی کیو لیول 161 بتایا جاتا ہے۔  یہ آئی کیو لیول مشہور سائنسدانوں البرٹ آئن سٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ سے بھی زیادہ سمجھا جاتا ہے۔

بےپناہ ذہانت رکھنے والی ماہ نور نے نہ صرف دنیا بھر کے تعلیمی حلقوں کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہے بلکہ انہوں نے برطانیہ کے تعلیمی نظام کی حدود کو بھی چیلنج کیا ہے۔

 

ماہ نور چیمہ کے نام تعلیمی ریکارڈ:

 

ماہ نور چیمہ نے اپنی شاندار کامیابی سے برطانوی تعلیمی نظام کے کئی ریکارڈ توڑے اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں۔

برطانیہ میں اے لیول کے طالبعلم تین یا چار مضامین کا انتخاب کرتے ہیں تا کہ کسی ایک شعبے میں گہری اور مرکوز تعلیم حاصل کر سکیں۔

ماہ نور نے ان تمام حدود کو کراس کرتے ہوئے 5 یا 6 نہیں بلکہ 24 اے لیولز مضامین مکمل کئے ۔

بین الاقوامی میڈیا کو ایک انٹریو میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ 30 یا 32 مضامین تک پڑھنا چاہتی تھیں لیکن کچھ مسائل نے انہیں روک لیا۔

ان کے مضامین کی چوائس بھی کافی متنوع تھی جس میں کیمسٹری، ریاضی، سیاست، فرانسیسی زبان اور فلم سٹڈیز جیسے مضامین شامل تھے۔

اس سے بڑھ کر ریکارڈ یہ کہ انہوں نے ریگولر سکول اور ٹیوشن کے برعکس ہوم سکولنگ کے ذریعے یہ ریکارڈ حاصل کئے۔

 

مزید پڑھیں: نئی نسل کی تعلیم و تربیت: چیلنجز اور ممکنات

 

فیملی سپورٹ اور ہوم سکولنگ:

 

ماہ نور نے یہ تعلیمی معرکہ اپنی فیملی کی بے پناہ سپورٹ کے عوض ہی سر کیا۔

عموماً والدین بچوں کو ریگولر سکول اور ٹیوشن بھیجنے کیلئے ہر قدم اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ماہ نور نے یہ سفر ہوم سکولنگ سے مکمل کیا۔

ماہ نور نے سکول آنے جانے کے دوران سفر میں  ضائع ہونے والے قیمتی وقت کو بچاتے ہوئے ہوم سکولنگ کو ترجیح دی تو والدین نے انہیں سپورٹ کی۔

بین الاقومی میڈیا کو ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی والدہ کا کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مضامین کو پڑھنا مشکل نہ تھا لیکن ان کیلئے ٹائم ٹیبل ترتیب دینا مشکل تھا اور اس میں ان کی والدہ نے مدد کی۔

یوں والدین کی سپورٹ نے نوجوان طالبہ کو یہ حوصلہ مہیا کیا جس کے باعث وہ نہ صرف ایک بڑا تعلیمی ریکارڈ اپنی نام کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اس نے نظام تعلیم سے جڑے کئی مفروضوں کی بھی نفی کی۔

 

ماہ نور کی کہانی سے والدین کیلئے سبق:

 

ماہ نور کی کہانی میں آج کے دور کے والدین کیلئے یہ سبق ہے کہ ان کی سپورٹ اور بچے پر اعتماد اس قابل بنا سکتا ہے کہ دنیا کے ٹاپ کے تعلیمی ادارے آپکے بچے کو خود داخلہ لینے کیلئے رابطہ کریں گے ۔

یہاں روایتی طرزِ تعلیم جیسا کہ سکول اور ٹیوشن کی بجائے غیرروایتی طرز تعلیم یعنی کہ ہوم سکولنگ کی حمایت نےایک بار پھرزور پکڑا ہے۔

اس تعلیمی کارنامے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ گھر کو بچے کی پہلی تعلیمی درسگاہ کیوں کہا جاتا ہے ۔ اور یہ بھی کہ اگر والدین بچے کے خواب کو سپورٹ کرنے کی راہ میں اپنی مرضی حائل نہ کریں تو ان کا بچہ دنیا میں انکا نام روشن کر دے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button