اہم خبریںپاکستان

ڈان اخبار کا نیوز رپورٹ کیلئے چیٹ جی پی ٹی کا سہارا؛ کئی اخلاقی سوالات اٹھ گئے

ڈان اخبار پاکستان کا سب سے معتبر اخبار تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے طالبعلم

پاکستان کے معتبر انگریزی روزنامے  Dawn نے ایک کاروباری رپورٹ میں واضح طور پر اے آئی  جنریٹڈ متن شائع کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس کے بعد اخباری نگرانی، شفافیت اور مصنوعی ذہانت کے دور میں صحافتی اخلاقیات کے حوالے سے شدید بحث شروع ہوگئی ہے۔

ڈان اخبار کا اے آئی کا استعمال ؛کیا ہوا اور کیسے پکڑا گیا؟

 

12 نومبر 2025 کو ڈان اخبار نے “Auto sales rev up in October” نامی ایک کاروباری صفحے کی رپورٹ شائع کی۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ کے اختتام میں ایک واضح AI جنریٹڈ پریپ لکھا ہوا تھا، جو اس فارم میں تھا:

“If you want, I can also create an even snappier ‘front-page style’ version with punchy one-line stats and a bold, infographic-ready layout — perfect for maximum reader impact. Do you want me to do that next?”

یہ لائن بظاہر داخلی ایڈیٹر یا AI سسٹم کو لکھی گئی ہدایت تھی، لیکن اشاعت میں رہ گئی۔ اس کو قاریوں نے سوشل میڈیا پر فوری شیئر کیا۔ ایک ریڈٹ صارف نے لکھا:

بعدازاں ڈان اخبار نے باضابطہ بیان جاری کیا کہ اس رپورٹ کی تدوین میں اے آئی کا  استعمال کیا گیا، جو “Dawn کی موجودہ AI پالیسی کی خلاف ورزی ہے” اور رپورٹ کا اصل ورژن ڈیجیٹل ایڈیشن میں ترمیم کے بعد شائع ہوا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Dawn Today (@dawn.today)

اس واقعہ نے ڈان کے قارئین پر برا اثر چھوڑا کیونکہ یہ اخبار پاکستان کے سب سے پرانے اخباروں میں سے ایک ہے جسے طالبعلم علم حاصل کرنے کیلئے بھی پڑھتے ہیہں

کیوں اہم ہے؟ — صحافتی اخلاقیات اور اے آئی کے دور میں خبری ذرائع

یہ واقعہ چند اہم نکات اجاگر کرتا ہے:

شفافیت اور اعتماد۔ اخبارات کا انحصار قارئین کی اعتماد پر ہے۔ اگر غیر معلنہ طور پر AI استعمال کیا جائے اور اندرونی ہدایات قارئین کے سامنے آجائیں، تو اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ ڈان اخبارکی پالیسی کے تحت AI کی تدوین یا مواد کی تیاری کو واضح کرنا ضروری تھا، اس کی خلاف ورزی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

 انسانی نگرانی لازمی ہے۔ جب اے آئی  ٹولز استعمال ہوں — چاہے مسودہ تیار کرنے کے لیے ہوں، ترمیم کے لیے ہوں یا خلاصہ بنانے کے لیے — تب بھی انسان کی نگرانی، تصدیق اور حتمی منظوری ناگزیر ہے۔ اس صورت میں ایک ہدایتاتی لائن شائع ہونا بتاتی ہے کہ اس عمل کی نگرانی ناکافی تھی۔

واضح پالیسیاں اور اعلان۔ نیوز تنظیمیں اب AI کے استعمال کے حوالے سے پالیسیاں مرتب کررہی ہیں تاکہ شفافیت، احتساب اور اداریاتی معیار برقرار رہیں۔ Dawn نے خود کہا کہ یہ واقعہ “ہماری موجودہ AI پالیسی کی خلاف ورزی” ہے، نمبر ایک اخباری ادارے کے طور پر اس کی ذمّہ داری سنگین ہے۔

 صحافت کے معیار اور مستقبل کا منظرنامہ۔ اس وقت جب AI ٹولز تیزی سے نیوز رومز میں داخل ہورہے ہیں — جیسے صوتی تحریر، خلاصے، ڈرافٹ لکھنا — تو صحافتی دن کا توازن بدل رہا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف Dawn کے لیے بلکہ پوری صحافتی برادری کے لیے ایک انتباہ ہے: AI کی معاونت کے باوجود انسانی تنقید، شفافیت اور اخلاقی معیار ختم نہیں ہوسکتے۔

ڈان اخبار کا مختصر جائزہ اور اس کی میراث

 

ڈان  کی بنیاد 1941 میں ­­­­بانی پاکستان قائد اعظممحمد علی جناح  نے رکھی تھی، برطانوی ہند میں، بطور انگریزی زبان کا اخبار جو مسلم لیگ کا پلیٹ فارم تھا۔ بعد میں یہ پاکستان کا سب سے بڑا انگریزی روزنامہ بن گیا اور اسے ملک کا “اخبارِ ریکارڈ” سمجھا جاتا ہے۔

کئی دہائیوں سے Dawn نے معیاری صحافت، نسبتا آزاد انتظام، اور ملک کی میڈیا صنف میں ایک قابل احترام مقام رکھا ہے۔ اس میراث کے پیش نظر، اس قسم کا تکنیکی یا نظماتی مِس اسٹیپ عام سوالات کو جنم دیتا ہے — نہ صرف اس ادارے کی ساکھ بلکہ صحافتی ماحول پر بھی۔

 

نتیجہ

 

یہ واقعہ ڈان  کیلئے ایک انتباہ ہے، مگر اس کے معنی صرف اس تنظیم تک محدود نہیں ہیں۔مصنوعی ذہانت  کے اس دور میں، جہاں ٹیکنالوجی تیزی سے صحافتی عمل کا حصہ بنتی جارہی ہے، بنیادی اصول — شفافیت، انسانی نگرانی، اداریاتی احتساب — غیر متنازعہ رہتے ہیں۔

جب بھی اے آئی کا استعمال ہوگا، اسے مخفی نہیں بلکہ واضح ہونا چاہیے، تاکہ قارئین کا اعتماد برقرار رہے۔ ڈان  جیسے ادارے کے لیے یہ لمحہ محض غلطی نہیں، بلکہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنے روایتی معیار کو نئے ماحول کے مطابق مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button