
پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے PAK-ID ایپ کے ذریعے گاڑیوں کی بائیومیٹرک اور Face ID ویریفیکیشن لانچ کی ہے، جس کا مقصد سہولت، شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس میں بہتری ہے۔
اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ اوورسیز پاکستانیوں کو ہوگا کیونکہ اب انہیں گاڑی ٹرانسفر کرانے کیلئے پاکستانی سفارت خانوں کے چکر، تصدیق شدہ (attested) حلف نامے، یا پاور آف اٹارنی کے ذریعے گاڑی کی ملکیت/ٹرانسفر ویریفائی کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ ویریفیکیشن گھر بیٹھے موبائل ایپ سے ہو سکے گی۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ کے مطابق سسٹم میں تمام دستی/متبادل/ایمبیسی بیسڈ طریقۂ کار “مکمل طور پر ختم” کر دیے گئے ہیں، اور ویریفیکیشن اور فیس کی ادائیگی کے بعد گاڑی ٹرانسفر “48 گھنٹوں” میں فائنل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ ویریفیکیشن ماڈل NADRA اور PITB کے تعاون سے تیار ہوا ہے اور مستقبل میں چاروں صوبوں کے وہیکل اونرز کی آن لائن ویریفیکیشن کے ذریعے قومی سطح پر ڈیٹا انٹیگریشن کی سمت بھی بتایا گیا ہے۔
پنجاب میں گاڑی ٹرانسفر کرانے کے عمل میں کب کیا تبدیل ہوا؟
پنجاب میں گاڑی ٹرانسفر کرانے /رجسٹریشن کے عمل میں بایومیٹرک ویریفیکیشن پچھلے چند برسوں سے مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے، مگر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے یہ اکثر کاغذی، سست اور کئی اداروں پر مشتمل طریقۂ کار بن جاتا تھا۔
تازہ لانچ کے پس منظر میں ڈی جی ایکسائز کے مطابق محکمہ “روزانہ” بایومیٹرک ویریفیکیشن سے متعلق مسائل دیکھ رہا تھا، جس سے ٹرانسفر میں تاخیر ہوتی تھی، اور اوورسیز اونرز کو MOFA ویریفیکیشن اور ایمبیسی attestations جیسے مراحل برداشت کرنا پڑتے تھے۔
یہ بھی اہم ہے کہ 2021 میں (کم از کم راولپنڈی کے تناظر میں) بائیومیٹرک ویریفیکیشن کو لازمی کرتے ہوئے یہ بتایا گیا تھا کہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کو ایکسائز دفتر آ کر بایومیٹرک کرانا ہوگا اور فنگر پرنٹس NADRA کے آن لائن ڈیٹا بیس سے ریئل ٹائم ویریفائی ہوں گے—یعنی اس وقت “فزیکل اپیئرنس” ہی بنیادی ماڈل تھا۔
پنجاب میں 2022 میں PITB نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ ایک “Biometric Based Registration and Transfer of Vehicles” سسٹم لانچ کیا گیا جو e-Pay Punjab کے ذریعے ویب بیسڈ ٹرانسفر کی طرف قدم تھا۔
اب 2026 میں جس چیز کو “لانچ” کے طور پر ہائی لائٹ کیا گیا، وہ یہ ہے کہ PAK-ID/Pak Identity کی موبائل بیسڈ بایومیٹرک + Face ID ویریفیکیشن کے ذریعے پنجاب میں وہیکل رجسٹریشن/ٹرانسفر کے لیے ملکیت کی تصدیق “مکمل آن لائن” ہو سکے گی، اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سفارت خانے/حلف ناموں/پاور آف اٹارنی کی شرط ختم کی جا رہی ہے۔
ڈی جی کے مطابق فیس کی ادائیگی پہلے ہی E-Pay کے ذریعے “cashless/visit-less/paperless” طریقے سے ہو رہی تھی؛ اب ویریفیکیشن بھی ڈیجیٹل ہونے سے اینڈ ٹو اینڈ ٹرانزیکشن تیز ہو کر 48 گھنٹوں میں مکمل ہونے کا دعویٰ ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے طریقہ کار
اوورسیز پاکستانی گاڑی ٹرانسفر کرانے کیلئے تین حصوص سے گزریں گے:
پہلا حصہ شناخت اور ایپ سیٹ اپ ہے: Pak Identity (NADRA) کی گوگل پلے لسٹنگ کے مطابق اکاؤنٹ بنانے کے لیے ای میل، موبائل نمبر، اور بایومیٹرک ویریفیکیشن، جبکہ لاگ اِن کے لیے فنگر پرنٹ/فیشل بائیومیٹرکس سپورٹ ہے۔
اسی لسٹنگ کے مطابق ایپ میں فنگر پرنٹس موبائل کیمرہ سے حاصل کرنے، ڈیجیٹل دستخط، ڈاکومنٹ اپلوڈ، OTP کے ذریعے attester verification، اور آن لائن پیمنٹس جیسے فیچرز شامل ہیں۔
دوسرا حصہ گاڑی کی درست معلومات اور ریکارڈ کی جانچ ہے: پنجاب کا MTMIS پورٹل گاڑی نمبر سے بنیادی ویریفیکیشن/ریکارڈ دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے (کم از کم سرچ انٹرفیس واضح ہے)۔
تیسرا حصہ فیس و دستاویزات ہے: پنجاب ایکسائز کی ویب معلومات (سرچ اسنیپٹ) کے مطابق ٹرانسفر کے لیے عموماً خریدار کا CNIC، گواہوں کی فوٹو کاپیاں، اصل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (اپڈیٹڈ ٹوکن ٹیکس کے ساتھ)، اور بعض کیسز میں اصل رجسٹریشن فائل وغیرہ درکار ہوتے ہیں، اور ٹرانسفر فیس انجن کیٹیگری کے حساب سے مختلف ہے۔
یہاں اہم بات یہ ہے کہ نئی PAK-ID ویریفیکیشن کے بعد بھی کون سی دستاویزات مکمل طور پر ڈیجیٹل رہیں گی اور کون سی فائنل مرحلے پر درکار ہوں گی—یہ پنجاب کی سرکاری لانچ خبر میں unspecified ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی شہری اپنے ملک میں رہتے ہوئے اب باآسانی گاڑی کے ٹرانسفر کرا پائیں گے اور اس کیلئے انہیں ایکسائز آفس کے دھکے نہیں کھانا پڑیں گے۔
ڈیجیٹل سہولیات کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے:
پاکستانیوں نے پنجاب حکومت کےاس عمل کو سراہتے ہوئے دیگر صوبوں کو بھی اسی ماڈل پر عمل کرنے کی مانگ کی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو جلد از جلد تمام شعبوں میں ڈیجیٹل سروسز کو عام کرناچاہیے تاکہ شہری دفاتر کے دھکے کھانے کی بجائے کہیں بھی بیٹھے اپنے مسائل حل کر سکیں۔



