سائنس اور ٹیکنالوجی

بلاک چین ٹیکنالوجی کیا ہے؟ فوائد، نقصانات اور مستقبل

"ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا نیا دور — بلاک چین کے اثرات، حدود اور ترقی کی راہیں

ٹیکنالوجی کے اس جدید ترین دور میں عموماً کسی بھی چیز کو مستقبل قرار دے کر گفتگو سمیٹ دی جاتی ہے۔ بلاک چین مستقبل ہے، یہ جملہ بھی آج کل زبان زد عام ہے۔ 

یہ پراپرٹی کی دنیا میں، ٹیکنالوجی میٹ اپس میں اور یہاں تک کہ اب عام محفلوں میں بھی زیادہ استعمال ہونے والا جملہ ہے۔

لیکن اس جملے کو جتنے زور و شور سےپھیلایا جاتا ہے، اس کی وضاحت میں اتنی ہی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔

آئیے ہم جدید ریسرچ، ماہرین کی رائے اور تکینکی بنیادوں پر بحث کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کیا ہے۔

یہ گفتگو ان عوامل پر بھی بات کرے گی کہ اس ٹیکنالوجی کو کیوں سراہا یا تنقید کی جاتی ہے اور کیا واقعتاً اس ٹیکنالوجی میں اتنی طاقت ہے کہ آنے والے دور کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے دور سے تعبیر کی دی جائے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کیا ہے؟

بلاک چین کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ فرض کریں کہ ایک ڈیجیٹل لیجر/ رجسٹر ہے جس میں ہر اندراج کو درج کیا جاتا ہے۔ 

لیکن یہاں منفرد بات یہ ہے کہ یہ رجسٹر کسی ایک شخص کے پاس نہیں بلکہ اس کی ہزاروں کاپیاں ایک ہی وقت میں مختلف کیمپوٹرز پر محفوظ ہوجاتی ہیں۔ 

جب کوئی نیا اندارج کیا جائے تو وہ اس نوٹ بک میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جاتاہے۔ اس سے چھیڑ چھاڑ یا بدلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ 

اسے مزید تفصیل میں سمجھنے کیلئے لفظ بلاک چین کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بلاک کا لفظ اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ یہاں ڈیٹا جمع ہر کر بلاکس کی سی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ڈیٹا ایک خفیہ لیکن محفوظ طریقے سے آپس میں جڑ ا (چین ) ہوتا ہے۔ اس لئے بلاک چین کا کہا جاتا ہے۔ 

یہاں ایک بار ڈیٹا محفوظ ہو جائےتو اسے بدلنے کیلئے پورے چین کے نیٹ ورک کو تبدیل کرنا پڑے گا اور پورے نیٹ ورک کو ہی بدلنا پڑ جائے گا۔ 

ایسا ہونے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کو اب مختلف سطحوں پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ 

ابتداء میں اس ٹیکنالوجی کو بٹ کوائن کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔ لیکن اب یہ پراپرٹی، صحت کے شعبے، حکومتی امور اور سپلائی چین سمیت کئی میدانوں میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ہر کاروباری اور عام محفل میں یہ بات دہرائی جانے لگی ہے "بلاک چین مستقبل ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کے فوائد:

شفافیت: بلاک چین ٹیکنالوجی کے باعث یہ ممکن ہوتا ہے کہ تمام فریقین کے پاس ایک سا ڈیٹا میسر ہے۔ اس میں یہ بحث ختم ہو جاتی ہے کہ فلاں کے پاس ڈیٹا مستند ہے اور فلاں کے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے باہمی اختلاف پیدا نہیں ہوتے اور شفافیت برقرار رہتی ہے۔

سیکورٹی: بلاک چین ٹیکنالوجی میں ڈیٹا کے ہر بلاک کو ایک کرپٹوگرافک پروٹیکشن سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔  یہ ایک جدید طرز کا حفاظتی طریقہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ڈیٹا کی ٹیمپرنگ ناممکن ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی فریق کسی ایک بلاک کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ یا ٹیمپرنگ واضح ہو جاتی ہے۔

غیر مرکزیت یا ڈی سینٹرلائزیشن:

بلاک چین میں غیر مرکزیت سے مراد یہ ہے کہ ڈیٹا کا کنٹرول کسی مرکزی اتھارٹی کے پاس ہونے کی بجائے کئی آزاد فریقین کے پاس ہوتا ہے ۔ 

مرکزیت والے نظام میں یہ خامی ہوتی ہے کہ اگر وہ فریق جس کے پاس کنٹرول ہے اس کا سرور ڈاؤن ہو جائے یا سائبر اٹیک ہو جائے تو مکمل سسٹیم فیل ہو جاتا ہے۔ 

اس کے برعکس اگر غیر مرکزیت ہو گی اور کسی ایک مقام پر کام بند ہوا ہے تو دیگر نوڈز سے کام جاری رہے گا۔ 

اس سے سیکورٹی کی ایک اور تہہ بن جاتی ہے جس کے نتیجے میں سائبر اٹیک یا دیگر خطرات کے باوجود ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ 

بلاک چین ٹیکنالوجی کے نقصانات: 

توانائی کی کھپت: اس سارے سسٹم کو چالو رکھنے کیلئے بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ یہاں حفاظت تو ہے لیکن یہ طریقہ ماحول دوست نہیں کیونکہ اس کیلئے توانائی / بجلی کی زیادہ کھپت ہوتی ہے اور اس کی پیدوار کے تقریباً ذرائع ماحول دوست نہیں ہیں۔ 

غلط ٹرایکشن ناقابل واپسی: 

فرض کریں کہ آپ سے غلطی یا دھوکہ دہی سے کوئی ٹرانزیکشن ہو جاتی ہے تو یہ قابل واپسی نہیں ہے۔ جہاں اس سسٹم کو سیکورٹی کیلئے بہترین جانا جاتا ہے، وہیں اگر کوئی غلط ٹرانزیکشن ہو جائے تو وہ قابل واپسی نہ ہوگی۔ 

پیچیدہ اور غیر فہم نظام:

ایسے لوگ جو ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں سمجھے جاتے ان کیلئے نہ صرف سسٹم بلکہ اس کی اصطلاحات سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں یہ عام صارفین کیلئے ویسی فائدہ مندنہیں ہے۔ 

اگر کوئی شخص ٹیکنالوجی سے نابلد ہونے کی وجہ سے کوئی غلط ٹرانزیکشن لاک کر دی تو وہ ناقابل واپسی ہو جائے گی اور یوں ایک بڑا نقصان ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور غیر فہم نظام ہے۔ 

مزید پڑھیں: دنیا کے سب سے مہربان جج فرینک کیپریو چل بسے

بلاک چین کا مستقبل:

ایک موقع پر یہ ٹیکنالوجی بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کیلئے متعارف کرائی گئی تھی لیکن اب یہ ایک محدود سطح سے نکل کر عوامی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والی دہائی میں بلاک چین کا استعمال صحت کے شعبے، سپلائی چین اور گورننس کے معاملات چلانے میں دیکھنے کو ملے گا۔

ماہرین یہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ زیادہ توانائی کی کھپت کی وجہ سے اسے جس تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، آنے والی دہائی میں اس سسٹم کا واضح جواب بھی نکال لیا جائے گا۔ 

ان تمام تبدیلیوں کی وجہ سے اسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محفوظ طریقے سے اپنانا ممکن ہو پائے گا ۔ 

اختتامیہ: 

بلاک چین میں کوئی جادو نہیں چھپا ہے، یہ ایک طاقتور ٹول ہے جس کے مثبت اور منفی حدود ہیں۔ 

جہاں اسے غیر مرکزیت، شفافیت اور سیکورٹی کی وجہ سے سراہا جاتا ہے ، وہیں توانائی کے کھپت اور ریگولیٹری مسائل اس کے منفی حصے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین اس میں جن تبدیلیوں کی امید کر رہے ہیں اگر وہ ممکن ہو جاتی ہیں تو یقیناً بلاک چین مستقبل ہے کہ جملے پر مہر ثبت ہوجائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button