باپ کے سامنے بچے پر تشدد، اسرائیلی اقدامات پر عالمی خاموشی سوالیہ نشان
فوجیوں نے باپ کے سامنے ہی بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں اس کی ایک ٹانگ کو سگریٹ سے جلانا، جسم میں سوئیاں چبھونا اور ٹانگ میں کیل ٹھونکنا شامل تھا

فلسطینی صحافی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے وسطی غزہ میں ایک نومولود بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا تاکہ اس کے والد سے تفتیش کے دوران اعتراف کروایا جا سکے۔ بچے کی شناخت کریم کے نام سے ہوئی جبکہ عمر صرف ایک سال ہے۔
میڈیا پر ایسی رپورٹ نشر کی گئی جس میں اس کے جسم پر تشدد کے نشانات دکھائے گئے۔ بچے کو وسطی غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی افواج نے حراست میں لیا تھا۔
صہیونی فورسز کا بچے پر تشدد، عالمی ادارے خاموش تماشائی
عینی شاہدین کے مطابق بچے کے والد اسامہ ابو نصر اپنی آمدنی کے لیے استعمال ہونے والے گھوڑے کی موت کے بعد شدید ذہنی صدمے کا شکار تھے۔
جب وہ اپنے بچے کو سامان خریدنے کے لیے لے جا رہے تھے تو اپنے گھر کے قریب فائرنگ کی زد میں آ گئے، جہاں اسرائیلی فوجیوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے 18 ماہ کے بیٹے کو زمین پر چھوڑ کر قریبی فوجی چیک پوسٹ کی طرف جائیں، جہاں انہیں برہنہ کر کے تفتیش کی گئی۔
فوجیوں نے باپ کے سامنے ہی بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں اس کی ایک ٹانگ کو سگریٹ سے جلانا، جسم میں سوئیاں چبھونا اور ٹانگ میں کیل ٹھونکنا شامل تھا، جس کی تصدیق طبی رپورٹ میں بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بچے کی ٹانگ پر سگریٹ سے جلنے کے نشانات اور کیل کی وجہ سے زخم پائے گئے۔
بچے کو تقریباً 10 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا اور اسے المغازی میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے اس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ اس کا والد اب بھی اسرائیلی حراست میں ہے۔
خاندان نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کریں تاکہ والد کی رہائی ممکن ہو سکے اور وہ اپنا طبی علاج جاری رکھ سکیں۔
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیل جنگ بندی کی سینکڑوں خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن میں کم از کم 680 فلسطینی شہید اور 1,813 زخمی ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے جاری اس نسل کشی میں اسرائیل اب تک 72,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 171,000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے بیشتر علاقے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔



