
افغان پناہ گزینوں کی 4 دہائیوں سے زائد میزبانی کے بعد بالاآخر حکومتِ پاکستان نے افغان شہریوں کے بے دخلی کے حتمی احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے سال 2023 میں افغان پناہ گزینوں کی اپنے ملک واپسی کے پلان کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس پلان میں کئی تبدیلیوں اور ڈیڈ لائن میں متعدد بار توسیع کے بعد بالاآخر 31 اگست 2025 کی تاریخ آن پہنچی ہے جو کہ ہر افغان شہری کی اپنے ملک واپسی کی حتمی تاریخ ہے۔
یاد رہے کہ اس ڈیڈ لائن سے رہائشی دستاویزات رکھنے والے افغان شہری بھی مبرا نہیں ہیں۔ یوں لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری اب اپنے ملک واپس لوٹنے کو تیار ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افغان شہری اپنے ملک کو لوٹ رہے ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈیڈ لائن ختم ہونے پر بقیہ شہری بھی جلد واپسی کیلئے تیار ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اسے جبری واپسی کہا جا رہا ہے جس سے لاکھوں افغان شہری متاثر ہوں گے۔ یہ شہری طالبان کے زیر انتظام تباہ حال افغانستان کا حصہ بننے جا رہے ۔
یہ ایک غیر یقینی کے حامل مستقبل کی طرف روانگی ہے ۔ انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی خطرات کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ واپسی افغان مہاجرین بالخصوص خواتین اور بچوں کیلئے سنگین خطرات پیدا کرے گی۔
دوسری جانب 4 دہائیوں سے زائد میزبانی کرنے والے پاکستان نے اب اپنے مسائل کے پیش نظر یہ مشکل فیصلہ لیا ہے جس کے نتائج آنے والے وقتوں میں دیکھنے کو ملیں گے۔
ڈیڈ لائن پر عملدرآمد کرتے افغان مہاجرین کی مشکلات:
پاکستان نے 1979 میں افغانستان پر رسی یلغار کے بعد افغان مہاجرین کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران جنگوں ، حکومتوں کی تبدیلیوں اور دیگر آفات کے سائے میں گھرے افغانستان سے لاکھوں پناہ گزین پاکستان میں آباد ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق رواں سال تک بھی پاکستان میں 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود تھے ۔ ان پناہ گزینوں میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے جاری کردہ پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہولڈرز کے تعداد 14 سے 15 لاکھ بتائی جاتی ہے۔
اسی طرح حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی تعداد تقریباً 8 لاکھ بتائی جاتی ہے جبکہ غیر دستاویزی افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔
ابتدائی طور پر پاکستان نے 2023 میں دستاویزی ریکارڈ نہ رکھنے والے شہریوں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا۔
بعدازاں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے شہری اور اب آخری مرحلے میں پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
اگرچہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کو سہولیات فراہمی کے دعوے کئے گئے ہیں، افغان مہاجرین کی جانب سے واپسی کے راستے میں کئی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔
- افغان مہاجرین کی جانب سے واپسی کی راہ میں اہلخانہ کی ہراسانی اور تشدد کی شکایت کی گئی ہیں۔
- ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن کی وجہ سے کئی افغان شہریوں نے مال و جائیداد پر قبضے کی شکایت بھی کی گئی ہیں۔
- ملک بدری کی حتمی تاریخ آنے کی وجہ سے افغان شہریوں کو مجبوراً اپنی چیزوں کو فروخت کرنا پڑا جس میں کئی شہریوں کی جانب سے ناروا سلوک کی شکایات کی گئی ہیں۔
اسی طرح بلاجواز گرفتاریاں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دیگر کاررائیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ہاؤسنگ سوسائٹیاں دریا برد؛ ذمہ دار کون، ازالہ کیسے ہوگا؟
افغان مہاجرین کی بے دخلی کے انسانی پہلو؛ نازک صورتحال غیر یقین مستقبل:
افغان مہاجرین کی واپسی آج کے دور کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک شمار ہو رہی ہے جس میں 30 لاکھ کے قریب شہری افغانستان کو واپس جا چکے ہیں۔
یہ شہری ایک ایسے افغانستان میں واپس جارہے ہیں جہاں مستقبل غیر یقین اور حال میں نازک صورتحال ہے۔
افغان پناہ گزینوں کی واپسی، صرف کپڑے اثاثہ :
افغان پناہ گزین ایک لمبے عرصے تک پاکستان میں قیام پذیر رہے اور کچھ صورتوں میں دو سے تین نسلیں بھی یہاں پرورش پا گئیں۔
یہ لوگ اب افغانستان واپس ہو رہے ہیں تو ان کے پاس صرف کپڑے ہیں۔ واپسی پر ان شہریوں کو رہائش، کھانا اور کاروبار کیلئے تگ و دو کرنا پڑے گی۔
یہ چیزیں انہیں پہلے سے آفت زدہ افغانستان میں میسر نہیں آ پائیں گیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کی وجہ سے دنیا نے بھی امداد کا ہاتھ کھینچ رکھا ہے جو صورتحال کو مزید خراب کرے گی۔
خواتین کیلئے مشکلات :
طالبان کے ذیر انتظام افغان حکومت میں خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس میں خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسی طرح بنیادی حقوق بھی متاثر ہیں جس کے وقتاً فوقتاً اشارے ملتے رہتے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں کہ جب بین الاقوامی تنظیمیں افغانستان میں خواتین کے حقوق معطل ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، پاکستان سے بڑے پیمانے پر واپس جانے والی خواتین کیلئے زندگی اجیرن ہو گی۔
نوجوان طبقے کیلئے مشکلات:
ایسے افغان نوجوان جو پاکستان میں پیدا ہوئے، یہیں تعلیم حاصل کی اور روزگار کے مواقع پائے اب غیر یقین مستقبل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
ایسے نوجوانوں کیلئے فی الوقت آفت زدہ افغانستان میں ترقی کے مواقع نظر نہیں آرہے۔
موجودہ حالات کی بہتری کیلئے افغانستان حکومت کے ساتھ دنیا بھر کی امداد بھی شامل ہو تو 4 سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا جو کہ ایک نوجوان ذہن کو زنگ آلود کرنے کیلئے کافی وقت ہے۔
افغان مہاجرین کیلئے مستقبل کی امید کیا ہے؟
یوں تو افغان پناہ گزین ایک غیر یقین مستقبل کی طرف سفر کر رہے ہیں، لیکن پاکستان میں جو میراث چھوڑ کر جا رہے ہیں، اس میں ہی ان کی کامیابی کا راز چھپا ہے۔
یہ لوگ جب پاکستان آئے تو تب بھی لٹے پٹے تھے۔ ان کے پاس صرف کپڑوں کے کچھ نہ تھا۔
تاہم اس طبقے نے محنت میں عظمت ہے کہ قانون فطرت کو ایسا اپنایا کہ جہاں مٹی کو ہاتھ لگایا اسے سونا کر دیا۔
کام اور محنت کرنے میں عار محسوس نہ کرنا ہی ان افغان شہریوں کا خاصہ ہے جو اس غیر یقینی کی صورتحال میں روشن مستقبل کی نوید سناتی ہے۔