
ایران ، امریکہ اور اسرائیل تنازع نے خلیج فارس کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تہران نے مارچکے آغاز میں اعلان کیا کہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ تنگ سمندری راستہ خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے، جہاں سے سعودی عرب، عراق، ایران، متحدہ عرب امارات اور قطر کے تیل اور ایل این جی کے جہاز روزانہ گزرتے ہیں؛ عالمی تیل کی تقریباً بیس فیصد تجارت اسی راہداری سے ہوتی ہے۔
پاکستان کی بیشتر تیل کی درآمدات اور توانائی کی رسد اس راستے سے آتی ہیں، لہذا اس کی بندش پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان کی توانائی پر اثرات
آبنائے ہرمز کی بندش سے نہ صرف عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور شپنگ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان کے تیل کی درآمدی بل پر قیمتوں اور فریٹ میں اضافہ فوری اثر ڈالتا ہے، جس سے زر مبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر دباؤ بڑھتا ہے۔اگرچہ تیل کے ذخائر ختم نہ بھی ہوں، شپنگ سست ہونے سے تاخیر اور مہنگے کارگو پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچتے ہیں۔
ذخائر کی صورتحال
حکومت اور ریگولیٹری اداروں نے عوامی خدشات کو کم کرنے کیلئے تیل کے ذخائر اور متبادل راستوں کے حوالے سے کئی بیانات دیے۔
تیل کی موجودہ ذخائر: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بتایا کہ پاکستان کے پاس پٹرول اور ڈیزل کے تقریباً 28 دن کے ذخائر ہیں۔
خام تیل اور ایل پی جی/ایل این جی: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ملک کے پاس خام تیل کے 10 دن اور ایل پی جی و ایل این جی کے 15 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ کچھ جہاز قطر میں پھنسے ہوئے ہیں تاہم مقامی گیس فیلڈز کی پیداوار بڑھائی جارہی ہے۔
پی ایس او اور او ایم سیز کے اعدادوشمار: سرکاری کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل نے بیان میں کہا کہ اس کے پاس تمام پیٹرولیم مصنوعات کے ’’صحت مند ذخائر‘‘ موجود ہیں ۔ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر 500 ہزار ٹن سے زائد ہیں، جو 25 تا 26 دن کیلئے کافی ہیں۔
آبنائے ہرمز کے علاوہ متبادل سپلائی کیلئے حکومتی اقدامات
سعودی عرب سے متبادل راستہ: آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی کہ تیل کی رسد خلیج فارس کے بجائے بحیرۂ احمر کے بندرگاہ ینبع کے ذریعے بھیجی جائے۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان کے بیشتر تیل کی درآمدات ہرمز سے گزرتی ہیں، اس لیے متبادل راستے کی ضرورت ہے۔ سعودی سفیر نے یقین دلایا کہ ینبع کے ذریعے رسد جاری رکھی جائے گی اور ایک جہاز پاکستان سے ینبع بھیجنے کی منظوری ہو چکی ہے۔
Islamabad: Federal Minister for Petroleum, Ali Pervaiz Malik, held a meeting with H.E. Nawaf bin Said Al-Malki, Ambassador of the Kingdom of Saudi Arabia to Pakistan.Pakistan had requested alternative supply route via Yanbu Port in Red Sea, Saudi Arabia Assured Full Support. pic.twitter.com/z7ZG35Cq8b
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) March 4, 2026
کابینہ کمیٹی اور ای سی سی: وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 18 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں پیٹرولیم اور توانائی کے وزراء، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور دیگر افسران شامل ہیں۔
یہ کمیٹی روزانہ عالمی قیمتوں، سپلائی چین کی پیش گوئی اور مالی اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت قیمتوں کو ہفتہ وار بنیاد پر ایڈجسٹ کرنے اور او ایم سیز کو اضافی فریٹ اور انشورنس کی ادائیگی کے لیے معاوضہ دینے پر غور کررہی ہے۔۔
عالمی اور مقامی اثرات
قیمتوں پر اثر
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کا اثر پاکستان کی معیشت اور زر مبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ ذخائر فی الحال کافی ہیں مگر زیادہ دیر کی بندش تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
معاشی دباؤ
تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کرنسی اور مہنگائی پر فوری دباؤ بڑھا سکتا ہے، کیونکہ تیل درآمدات سے ہونے والی ڈالر ادائیگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں: یا تو قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کرے جس سے مہنگائی بڑھتی ہے، یا سبسڈی دے کر مالی خسارہ بڑھائے۔
اختتامی تجزیہ
پاکستان ابھی تک کسی فوری ایندھن بحران کا شکار نہیں ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے دستیاب ذخائر کی تصدیق اور متبادل سپلائی کے انتظامات نے وقتی طور پر دباؤ کم کر دیا ہے۔ ت
اہم، ہرمز کی بندش اور خلیج میں جاری کشیدگی پاکستان سمیت پوری دنیا کیلئے ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی تیل کی منڈی کتنی حساس اور جغرافیائی سیاست سے متاثر ہے۔
توانائی کے متنوع ذرائع اور مقامی پیداوار میں اضافہ، سفارتی رابطے اور موثر پالیسی اقدامات پاکستان کو مستقبل کی ایسی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکتے ہیں۔



