پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج 48

پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج پر فوری سماعت، عمران خان کے کیسز پر تاخیر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست کو حساس قرار دیتے ہوئے تین رکنی بڑا بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں کے اعلیٰ انتظامی و پولیس حکام اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی طلب کر لیا ہے۔

لیکن اسی پیش رفت نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے: جب احتجاج کے امکان پر عدالت فوری طور پر بڑا بینچ بنا سکتی ہے، تو پھر عمران خان اور پی ٹی آئی کی ان درخواستوں کی سماعت کیوں مؤخر رہتی ہے جن میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد، ملاقاتوں اور علاج جیسے معاملات شامل ہیں؟

 

احتجاج سے پہلے عدالت متحرک، زیرِ سماعت مقدمات کب چلیں گے؟

 

27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے خلاف درخواست ایک اسلام آباد کے تاجر نے دائر کی، جس میں کاروبار، ٹریفک اور شہری معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے معاملے کو حساس اور آئینی نوعیت کا قرار دے کر بڑا بینچ تشکیل دیا۔

یہ عدالتی اقدام اپنی جگہ اہم ہے۔ شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار اور امن و امان کا تحفظ ریاست اور عدالت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر تنقید کرنے والے سوال اٹھا رہے ہیں کہ عدالت کی اسی حساسیت کا اظہار ان مقدمات میں کیوں کم دکھائی دیتا ہے جن میں عمران خان کی طبی سہولت، جیل ملاقاتوں اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔

 

عدالتی حکم آیا، عمل درآمد کا معاملہ کہاں گیا؟

 

اگست میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

تاہم انہیں شفا کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، لے جایا گیا اور پھر واپس جیل بھیج دیا گیا۔ حکومتی مؤقف تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے سکیورٹی خدشات موجود تھے، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دے کر توہینِ عدالت کی کارروائی مانگی۔

یہ معاملہ صرف ایک سیاسی رہنما کے علاج کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر عدالتی حکم پر مختلف تشریح کے ذریعے عمل درآمد بدل جائے، تو عام شہری کے لیے عدالتی تحفظ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

 

عدالتوں میں فیصلوں کی رفتار اور عوامی اعتماد

 

پاکستان میں عدالتی نظام پر پہلے ہی مقدمات کے طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنے کی تنقید موجود ہے۔ ایسے میں کسی سیاسی احتجاج کے خدشے پر فوری بینچ تشکیل پانا، جبکہ بنیادی حقوق یا عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہونا، عوامی اعتماد پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کی 27 ستمبر کی تحریک عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہے۔ پارٹی نے اسے ملک گیر اور پُرامن احتجاج قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ احتجاج عدالتی مقدمات میں دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور ریاست قانون کے مطابق پابندیاں لگا سکتی ہے۔

دونوں مؤقف اپنی جگہ موجود ہیں۔ مگر ان کے درمیان سب سے بنیادی سوال برقرار ہے: کیا عدالتی نظام ہر معاملے میں یکساں رفتار اور یکساں حساسیت کے ساتھ کام کر رہا ہے؟

 

فیصلے صرف لکھے نہ جائیں، نافذ بھی ہوں

 

عدالت کا حکم صرف عدالتی فائل کا حصہ نہیں ہوتا؛ وہ ریاستی اداروں کے لیے ہدایت ہوتا ہے۔ اگر فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے متاثرہ فریق کو بار بار درخواستیں دائر کرنا پڑیں، فوری سماعت مانگنی پڑے یا سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے، تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہتا—یہ انصاف کی عمل داری کا سوال بن جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 10 ستمبر کی سماعت اب پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج کے انتظامی پہلوؤں تک محدود نہیں سمجھی جائے گی۔ عوام یہ بھی دیکھیں گے کہ عدالت احتجاج کے خدشات کے ساتھ ساتھ اپنے سابقہ احکامات اور زیرِ التوا انسانی و قانونی معاملات پر کب اور کیسے پیش رفت کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں