سہیل آفریدی 36

عمران خان کا سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی سیاست اور وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال ایک پیچیدہ سیاسی منظرنامے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

مختلف سرکاری اور غیر سرکاری دعوؤں  اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مطابق اس وقت پارٹی کے اندر اور فیصلہ سازوں کے ساتھ مختلف سطحوں پر تین بڑے آپشنز زیرِ گردش ہیں، جن میں تحریکِ عدم اعتماد، اسمبلی کی تحلیل اور گورنر راج سے بچنے کے لیے ان ہاؤس تبدیلی شامل ہیں۔

1۔ اسلام آباد مارچ کا معاملہ اور بانی پی ٹی آئی کا سخت ردِعمل

سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کا حکم

سیاسی بحران کے اس منظرنامے کا پہلا اہم پہلو پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کی ناراضگی سے جڑا ہوا ہے۔ نجی نیوز چینل  نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان  نے سہیل آفریدی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا باقاعدہ حکم دے دیا ہے۔

 

نجی نیوز چینل کے  اس دعوے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا یہ انتہائی قدم اسلام آباد مارچ نہ لانے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

 

2۔ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی ملاقات کی اندرونی کہانی

 

ایک طرف عدم اعتماد کی خبریں زیرِ گردش ہیں تو دوسری طرف ذرائع نے  علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اسمبلی کے مستقبل اور اسے تحلیل کرنے کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے:

 

نجی نیوز چینل کے مطابق سہیل آفریدی نے ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ اگر پارلیمانی پارٹی انہیں اجازت دے تو وہ اسمبلی توڑ سکتے ہیں۔

 

علی امین گنڈاپور نے اپنی ممکنہ بحالی کو آئینی عدالت کے فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ اگر وہ آئینی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بحال ہوئے تو پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے اسمبلی توڑنے پر غور ہو سکتا ہے۔

 

3۔ گورنر راج کا خطرہ اور فیصلہ سازوں کو ان ہاؤس تبدیلی کی پیشکش

 

اسمبلی توڑنے اور عدم اعتماد کی خبروں کے متوازی ایک تیسرا سیاسی راستہ بھی زیرِ بحث ہے، جس کا مقصد موجودہ سسٹم کو بساط لپیٹے جانے سے بچانا ہے۔ صحافی حماد حسن نے اپنے ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے اس پسِ پردہ پیش رفت سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں:

صحافی حماد حسن کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے فیصلہ سازوں کو یہ آفر کی ہے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کو موقع دیا جائے کہ وہ ہاؤس کے اندر خود تبدیلی لے آئے تاکہ سسٹم کو چلنے دیا جائے۔

 

اس مجوزہ ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے صحافی حماد حسن نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اگر ہاؤس کے اندر تبدیلی کا یہ فارمولا آگے بڑھتا ہے تو پی ٹی آئی کے گرفتار وزیر فضل شکور وزارتِ اعلیٰ کے ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں۔

 

مجموعی سیاسی منظرنامے کا خلاصہ

 

ان تینوں صحافتی دعوؤں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی صوبائی سیاست تین مختلف سمتوں میں کھچاؤ کا شکار نظر آتی ہے:

  1. قیادت کا دباؤ: اسلام آباد مارچ نہ لانے پر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا حکم سامنے آنا۔

  2. اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن: علی امین گنڈاپور (آئینی عدالت سے بحالی کی صورت میں) اور سہیل آفریدی کا پارلیمانی پارٹی کی مشاورت و اجازت سے اسمبلی توڑنے پر آمادگی ظاہر کرنا۔

  3. مصالحتی اور متبادل راستہ: گورنر راج کے نفاذ کو روکنے اور سسٹم کو چلتا رکھنے کے لیے پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما کی طرف سے فیصلہ سازوں کو ہاؤس کے اندر تبدیلی کی پیشکش کرنا، جس کے نتیجے میں گرفتار وزیر فضل شکور کو نئے وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے لانا شامل ہے۔

تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ابھی ان دعوؤں کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ نجی نیوز چینل اور صحافتی دعوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل تصویر کشی کرنا ابھی بے وقت کا فیصلہ ہوگا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں