کلثوم بائی ولیکا ہسپتال 41

کراچی کا کلثوم بائی ولیکا ہسپتال والدین کیلئے خوف کی علامت بن گیا

کراچی کے کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں بچوں میں HIV کیسز کا معاملہ محض ایک عدد نہیں۔ سرکاری و تحقیقاتی سطح پر سامنے آنے والے 78 متاثرہ بچوں کے پیچھے کئی گھر، کئی مائیں اور کئی والدین کے سوال ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں ہسپتال میں ڈسپوزیبل طبی سامان کی قلت، سرنجوں اور آئی وی کینولا سمیت ضروری سامان کی عدم دستیابی، اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر مؤثر عمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ وہ انتظامی ناکامیاں ہیں جن کے نتائج اب بچوں اور ان کے خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

اس سانحے کو سمجھنے کے لیے دو مختلف خاندانوں کی کہانیاں کافی ہیں۔

 

پہلی کہانی: تیرہ ماہ کی بچی، جسے صرف علاج چاہیے تھا

 

وہ صرف تیرہ ماہ کی بچی تھی۔ اس کے والد کے مطابق، وہ اسے علاج کے لیے ہسپتال لائے تھے، مگر اب انہیں خوف ہے کہ ان کی بچی HIV جیسی عمر بھر ساتھ رہنے والی بیماری کا شکار ہو گئی ہے۔

والد نے الزام لگایا کہ استعمال شدہ سرنج دوبارہ لگائے جانے نے ان کی بچی کی زندگی بدل دی۔ ان کے الفاظ اس خاندان کی بے بسی کو بیان کرتے ہیں:
“چند روپے بچانے کے لیے میری بیٹی کو موت کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔”

ایک ننھی بچی کے لیے HIV کی تشخیص صرف دواؤں اور ٹیسٹوں کا معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب پورے خاندان کے لیے مستقل طبی نگرانی، علاج کے اخراجات، بے شمار ہسپتال چکر اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی ہے۔

 

دوسری کہانی: ایک باپ، جس کے چار بچوں کی رپورٹس مثبت آئیں

 

اسی ہسپتال سے جڑی ایک دوسری، مگر الگ کہانی آفتاب خان کی ہے۔ ضیا کالونی کے رہائشی آفتاب خان کے مطابق، ان کے چاروں بچے HIV سے متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے دو بیٹوں کی رپورٹس مثبت آئیں، پھر نو سالہ بیٹی اور بعد میں دس سالہ بیٹے میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ایک والد کے لیے یہ صرف چار میڈیکل رپورٹس نہیں؛ یہ چار بچوں کے علاج، تعلیم، معمول کی زندگی اور سماجی تحفظ کا سوال ہے۔

ان کے لیے سانحہ اس وقت اور سنگین ہو جاتا ہے جب ہسپتال کے بعد بھی والدین کو علاج، ادویات اور ٹیسٹوں سے متعلق واضح اور بروقت معلومات نہ ملنے کی شکایات کا سامنا ہو۔

کلثوم بائی ولیکا ہسپتال دو خاندان، ایک مشترک سوال

 

تیرہ ماہ کی بچی کا خاندان ہو یا آفتاب خان کا گھرانہ، دونوں کی کہانیاں الگ ہیں۔ مگر ان کا مرکزی سوال ایک ہے: جس ہسپتال پر علاج اور حفاظت کی ذمہ داری تھی، وہاں بچوں کو تحفظ کیوں نہ مل سکا؟

تحقیقاتی رپورٹ نے سامان کی قلت اور انفیکشن کنٹرول کی خامیوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ متعدد اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہوئی ہے، جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے اعلیٰ سطحی تحقیقات، متاثرہ بچوں کے مسلسل علاج اور ذمہ داری کے تعین کی ہدایات دی ہیں۔

البتہ کسی مخصوص بچے میں HIV پھیلنے کا قطعی ذریعہ اور فردِ واحد کی قانونی ذمہ داری کا فیصلہ جاری تحقیقات ہی کریں گی۔ متاثرہ والدین کا استعمال شدہ سرنجوں سے متعلق مؤقف ان کا الزام اور بیان ہے، جسے حتمی عدالتی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے

 

معطلیاں اور تحقیقات ضروری ہیں، مگر کافی نہیں۔ متاثرہ بچوں کو عمر بھر کی ادویات، باقاعدہ ٹیسٹ، نفسیاتی مدد، معیاری علاج اور امتیازی سلوک سے تحفظ درکار ہے۔

ولیکا ہسپتال کا معاملہ ایک انتظامی رپورٹ سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ اس سوال کا امتحان ہے کہ کیا کم آمدن والے خاندان کے بچے بھی ہسپتال میں اتنے ہی محفوظ ہیں جتنے کسی بڑے نجی ادارے میں آنے والے بچے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں