گوگل لاکھوں مچھر کیوں چھوڑ رہا ہے 23

گوگل لاکھوں مچھر کیوں چھوڑ رہا ہے؟ اصل حقیقت کیا ہے؟

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک خبر تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گوگل مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یہاں سوال ہیدا ہوتا ہے کہ آخر گوگل لاکھوں مچھر کیوں چھوڑ رہا ہے؟

گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ (Alphabet) کے سائنسی منصوبے Debug Project نے حالیہ برسوں میں ایک منفرد حیاتیاتی منصوبے پر کام کیا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں مچھروں سے پھیلنے والی خطرناک بیماریوں پر قابو پانا ہے۔

اسی منصوبے کے تحت امریکہ میں لاکھوں لیبارٹری میں تیار کیے گئے مچھر چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے، جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے۔

 

گوگل مچھر کیوں چھوڑ رہا ہے؟

 

اس منصوبے کا بنیادی مقصد انسانوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایسے مچھروں کی آبادی کو کم کرنا ہے جو ڈینگی، زیکا وائرس، ویسٹ نائل وائرس اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

ہر سال دنیا بھر میں کروڑوں افراد ان بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت گزرنے کے ساتھ کم مؤثر ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ مچھر ان کے خلاف مزاحمت (Resistance) پیدا کر لیتے ہیں۔

اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے Debug Project نے جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔

 

یہ منصوبہ کیا ہے؟

 

اس منصوبے میں صرف نر (Male) مچھر تیار کیے جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتے، نہ ہی خون چوستے ہیں اور نہ ہی بیماری منتقل کرتے ہیں۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا Wolbachia کو استعمال کیا جاتا ہے۔

جب یہ نر مچھر جنگل یا شہری علاقوں میں موجود مادہ مچھروں سے ملاپ کرتے ہیں تو مادہ مچھر انڈے تو دیتی ہے، لیکن وہ انڈے نشوونما نہیں پاتے۔ اس طرح نئی نسل کے مچھروں کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے، جس سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی مجموعی آبادی میں نمایاں کمی لانے کی امید کی جاتی ہے۔

یہ منصوبہ ابھی بڑے پیمانے پر عام استعمال کے لیے نہیں بلکہ ایک تجرباتی (Experimental) پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

Alphabet کے Debug Project نے امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (EPA) سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ (32 ملین) نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے سرکاری منظوری، ماحولیاتی جائزہ اور سائنسی نگرانی لازمی ہوگی۔

یہ طریقہ کار کوئی بالکل نئی ایجاد نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں کئی برسوں سے استعمال ہونے والی حیاتیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آسٹریلیا، سنگاپور اور دیگر ممالک میں بھی Wolbachia پر مبنی پروگراموں کے ذریعے ڈینگی اور دیگر بیماریوں پر قابو پانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں اور متعدد مقامات پر مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

 

اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات

 

تاہم، اس منصوبے پر کچھ ماہرین نے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے پیمانے پر حیاتیاتی مداخلت سے قبل اس کے طویل مدتی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو سخت سائنسی اور حکومتی نگرانی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

مختصراً، گوگل یا اس کی پیرنٹ کمپنی کا مقصد مچھر پھیلا کر انسانوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ بیماری پھیلانے والی مخصوص اقسام کے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے مچھر صرف نر ہوتے ہیں، انسانوں کو نہیں کاٹتے اور بیماری منتقل نہیں کرتے۔

ان کا مقصد صرف بیماری پھیلانے والے مچھروں کی افزائش کو محدود کرنا ہے تاکہ مستقبل میں ڈینگی، زیکا اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں