مون سون 20

مون سون کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا بڑا قدم

موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے شدید موسمی خطرات کے پیش نظر پاکستان نے جاری مون سون سیزن کے دوران اپنی موسمی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے چین کے MAZU-Urban (مازو اربن) مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹم کو اپنے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک میں شامل کر لیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد سیلاب، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے، لینڈ سلائیڈنگ، خشک سالی اور دیگر موسمی خطرات کی بروقت نشاندہی اور مؤثر پیش گوئی کو یقینی بنانا ہے۔

MAZU-Urban کیا ہے؟

MAZU-Urban چین کے China Meteorological Administration (CMA) کی جانب سے تیار کیا گیا ایک جدید AI-powered Multi-Hazard Early Warning System ہے، جو مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ تصاویر، موسمی ریڈار، خودکار موسمی اسٹیشنوں، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور جدید موسمی ماڈلز کو یکجا کرکے انتہائی بارش، فلیش فلڈ، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمی خطرات کی پیش گوئی کرتا ہے۔

یہ نظام صرف موسم کی پیش گوئی نہیں کرتا بلکہ یہ بھی اندازہ لگاتا ہے کہ کون سے علاقے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، جس سے متعلقہ اداروں کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان کو اس ٹیکنالوجی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب اور اس کے بعد مسلسل شدید مون سون بارشوں نے یہ واضح کر دیا کہ صرف روایتی موسمی پیش گوئی کافی نہیں بلکہ جدید، ڈیٹا پر مبنی اور تیز رفتار ارلی وارننگ سسٹمز کی ضرورت ہے۔

قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (NDMA) نے بھی رواں مون سون سیزن میں معمول سے زیادہ بارشوں، فلیش فلڈ اور شہری سیلاب کے خدشات ظاہر کیے ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟

MAZU-Urban مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فوری تجزیہ کرتا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • سیٹلائٹ تصاویر

  • موسمی ریڈار

  • زمینی موسمی اسٹیشن

  • دریاؤں اور آبی ذخائر کا ڈیٹا

  • موسمیاتی ماڈلز

  • بارش اور درجہ حرارت کے حقیقی وقت کے مشاہدات

اس تمام معلومات کو یکجا کر کے نظام خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت الرٹس جاری کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟

ماہرین کے مطابق MAZU-Urban کے استعمال سے:

  • شدید بارشوں کی زیادہ درست پیش گوئی ممکن ہوگی۔

  • فلیش فلڈ اور شہری سیلاب کے خطرات کی پہلے سے نشاندہی کی جا سکے گی۔

  • ریسکیو اور امدادی ادارے بروقت تیاری کر سکیں گے۔

  • عوام کو پہلے سے انتباہ جاری کیا جا سکے گا۔

  • جانی و مالی نقصانات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اگرچہ یہ نظام موسمی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا، تاہم حتمی موسمی وارننگز پاکستان کے متعلقہ ادارے ہی جاری کریں گے۔

پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا ایک اور اہم قدم

ماہرین کا کہنا ہے کہ MAZU-Urban کا استعمال پاکستان اور چین کے درمیان موسمیات، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک پہلے ہی سیٹلائٹ ڈیٹا، موسمی تحقیق اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

موسمیاتی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت موسمی پیش گوئی کو تیز اور زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مقامی موسمی ڈیٹا، ریڈار نیٹ ورک، دریاؤں کی نگرانی اور مسلسل تکنیکی اپ گریڈیشن پر ہوگا۔ ان کے مطابق AI انسانی ماہرین کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے جو بہتر اور بروقت فیصلوں میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں