رجب طیب اردوغان 24

رجب طیب اردوغان نے بغاوت کرنے والے جرنیلوں اور سپاہیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

15 جولائی 2016 کی رات ترکی کی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ثابت ہوئی جس کے اثرات آج بھی ملکی سیاست، فوج، عدلیہ اور خارجہ پالیسی پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس رات فوج کے ایک گروہ نے صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، لیکن چند گھنٹوں میں یہ بغاوت ناکام بنا دی گئی۔ اس واقعے کے بعد صدر اردوغان نے ریاستی اداروں میں ایک ایسی وسیع کارروائی شروع کی جسے جدید ترک تاریخ کی سب سے بڑی تطہیری مہم قرار دیا جاتا ہے۔

ناکام بغاوت کو اب تقریباً دس سال گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی ایک اہم سوال برقرار ہے کہ آخر بغاوت میں ملوث جرنیلوں، فوجی افسروں اور سپاہیوں کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا سب کو ایک ہی طرح کی سزا دی گئی یا ہر فرد کا الگ الگ احتساب کیا گیا؟

رجب طیب اردوغان کے خلاف بغاوت کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں

بغاوت ناکام ہوتے ہی ترک حکومت نے ہزاروں فوجی اہلکاروں کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔ ان میں بری، بحری اور فضائیہ کے افسران، جرنیل، کرنل، میجر، کپتان اور عام سپاہی بھی شامل تھے۔

ترکی کی وزارت انصاف اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بغاوت کے بعد تقریباً 289 مقدمات مختلف عدالتوں میں چلائے گئے جن میں ہزاروں افراد پر آئین شکنی، حکومت گرانے کی سازش، پارلیمنٹ پر حملے، شہریوں کے قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

جرنیلوں کو سخت ترین سزائیں

ترک عدالتوں نے بغاوت کی منصوبہ بندی اور قیادت کرنے والے متعدد اعلیٰ فوجی افسران کو عمر قید کی سزا سنائی۔

عدالتی فیصلوں کے مطابق کئی سابق جنرلز، فضائیہ کے کمانڈرز اور اعلیٰ افسران کو "سخت عمر قید” (Aggravated Life Imprisonment) دی گئی، جو ترکی کے قانون کے تحت سب سے سخت سزا سمجھی جاتی ہے۔ اس سزا میں قیدیوں کو انتہائی محدود سہولیات دی جاتی ہیں اور پیرول کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

بعض مقدمات میں ایک ہی افسر کو مختلف جرائم پر متعدد مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تاکہ وہ کبھی بھی جیل سے باہر نہ آ سکے۔

عام سپاہیوں کے مقدمات مختلف رہے

صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف سازش کرنے والے تمام فوجیوں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا گیا۔ عدالتوں نے مقدمات کی سماعت کے دوران اس بات کا جائزہ لیا کہ کون سا فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی میں شامل تھا اور کون صرف اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر بیرک سے باہر نکلا تھا۔

اسی بنیاد پر بعض سپاہیوں کو بری کر دیا گیا جبکہ کچھ کو نسبتاً کم مدت کی قید کی سزا ملی۔ کئی فوجیوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کسی فوجی مشق یا انسداد دہشت گردی آپریشن کا حصہ بن رہے ہیں اور انہیں اصل صورتحال کا علم نہیں تھا۔

ہزاروں فوجی ملازمت سے برطرف

فوجداری مقدمات کے ساتھ ساتھ حکومت نے انتظامی سطح پر بھی سخت اقدامات کیے۔

ہزاروں فوجی اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا جبکہ سینکڑوں جرنیل اور اعلیٰ افسران کو فوج سے نکال دیا گیا۔ حکومت نے ایسے اہلکاروں کے فوجی اعزازات، مراعات اور پنشن کے معاملات بھی قانونی طریقہ کار کے تحت متاثر کیے۔

ترک حکومت کا مؤقف تھا کہ ریاستی اداروں کو ان عناصر سے پاک کرنا ضروری تھا جو مستقبل میں دوبارہ ایسی کارروائی کر سکتے تھے۔

فوج کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا

بغاوت کے بعد صرف افراد کو سزا نہیں دی گئی بلکہ فوج کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔

ترکی نے فوجی اکیڈمیوں کو بند کر کے نیا تعلیمی نظام متعارف کرایا، مسلح افواج کو وزارت دفاع کے ماتحت مزید مضبوط سول نگرانی میں لایا گیا، فوجی ہسپتالوں کی تنظیم نو کی گئی اور سپریم ملٹری کونسل کے اختیارات میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔

اس کے علاوہ کئی فوجی یونٹوں کو بڑے شہروں سے باہر منتقل کیا گیا تاکہ مستقبل میں دارالحکومت یا اہم سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کوششوں کو مشکل بنایا جا سکے۔

فتح اللہ گولن پر الزام

رجب طیب اردوغان کی حکومت نے بغاوت کی ذمہ داری امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک پر عائد کی۔

حکومت نے اس نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے ریاستی اداروں سے اس کے مبینہ حامیوں کو نکالنے کی مہم شروع کی۔

دوسری جانب فتح اللہ گولن نے اپنی زندگی بھر ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا انتقال 2024 میں امریکہ میں ہوا۔

انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید

ترک حکومت کے اقدامات کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل ملا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، یورپی کونسل، اقوام متحدہ کے بعض ماہرین اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بغاوت کے بعد جاری کارروائیوں میں بعض افراد کو منصفانہ ٹرائل، عدالتی آزادی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تنظیموں کے مطابق بعض مقدمات میں اجتماعی گرفتاریاں، طویل حراست، ملازمتوں سے برطرفی اور شہری آزادیوں پر پابندیوں نے انسانی حقوق سے متعلق سوالات پیدا کیے۔

حکومت کا مؤقف

ترک حکومت ان تنقیدوں کو مسترد کرتی ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ 15 جولائی کی بغاوت محض حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پوری ریاست، پارلیمنٹ اور عوام کے خلاف مسلح حملہ تھا، جس میں سیکڑوں افراد جان سے گئے۔

حکومت کے مطابق اس غیر معمولی خطرے کے بعد غیر معمولی اقدامات ناگزیر تھے تاکہ فوج، عدلیہ، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں موجود ان عناصر کو نکالا جا سکے جو مستقبل میں دوبارہ ایسی کوشش کر سکتے تھے۔

دس سال بعد بھی اثرات برقرار

بغاوت کے تقریباً دس سال بعد بھی اس کے اثرات ترکی کی سیاست اور ریاستی ڈھانچے میں نمایاں ہیں۔

آج ترکی کی فوج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سول حکومت کے کنٹرول میں سمجھی جاتی ہے، جبکہ ریاستی اداروں میں وفاداری، قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے معیار پہلے سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔

اس کے باوجود انسانی حقوق، عدالتی آزادی، سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے بحث اب بھی جاری ہے۔

کیا بغاوت کے ذمہ داروں کو سزا ملی؟

اس سوال کا مختصر جواب ہاں ہے، لیکن تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ترکی نے بغاوت کی قیادت کرنے والے جرنیلوں اور افسران کو سخت سزائیں دیں، ہزاروں فوجیوں کو گرفتار یا برطرف کیا اور فوجی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کیں۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا دائرہ صرف بغاوت میں ملوث افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ریاست، سیاست، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی گہرے انداز میں متاثر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں