شہرِ قائد کے دکانداروں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے اس وقت حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب جعلی کرنسی کا ایک ایسا انوکھا اور جدید ترین کیس سامنے آیا جس نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال کی ایک ہوش ربا مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایک وائرل ویڈیو میں ایک خریدار کو مقامی دکاندار کو 500 روپے کا ایک ایسا جعلی کرنسی نوٹ تھماتے ہوئے دکھایا گیا جو بظاہر اصلی، لیکن حقیقت میں ایک بہت بڑا دھوکہ تھا۔
جعلی کرنسی نوٹ ؛روایتی تصویر کی جگہ ‘ونٹر کوٹ’
یہ کوئی عام جعلی کرنسی نوٹ نہیں تھا جس میں محض کاغذ یا رنگوں کی ہیرا پھیری کی گئی ہو۔ اس نوٹ کی سب سے حیران کن بات بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر تھی۔ نوٹ پر قائد اعظم ان کے روایتی اور باوقار انداز (شیروانی یا سوٹ) کے بجائے ایک بھاری بھرکم سردیوں کے کوٹ (Heavy Winter Coat) میں ملبوس نظر آئے۔
یہ تصویر مکمل طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔ قائد اعظم کو اس غیر معمولی اور عجیب لباس میں دیکھ کر دکاندار ششدر رہ گیا
واقعہ کی ویڈیو
دکاندار نے اس واقعہ کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جو وائرل ہو رہی ہے۔ دکاندار نے بتایا کہ گاہگ نے انہیں یہ نوٹ الٹا کر کے تھمایا اور چلتا بنا۔
دکاندار کا کہنا تھا کہ اس نے وصول کرتے وقت نوٹ کو دیکھانہیں تھا جس کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
سوشل میڈیا پر تشویش اور بحث
دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارمز پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید اور ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حیرت اور خوف: کچھ صارفین اے آئی ٹیکنالوجی کی اس حد تک ترقی پر حیران ہیں کہ اب گھر بیٹھے جعلی کرنسی کے ڈیزائن تیار کیے جا رہے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل: اکثریت نے ٹیکنالوجی کے اس بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی سنگین جرم قرار دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر دکاندار ہوشیار نہ ہوتا تو یہ نوٹ باآسانی مارکیٹ میں گردش کرنے لگتا۔
- سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان: پاکستانیوں کے پاس تو جیسے میمز کا نہیں سامان آ گیا۔ شہریوں نے اس پر دکاندار کو طرح طرح کے مشورہ دے ڈالے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر ایک کمینٹ میں لکھا کہ بھائی اس نوٹ کو سنبھال کر رکھیں سردیوں میں کام آئےگا۔
ایک شہری نے نوٹ پر کاریگری دیکھتے ہوئے آرٹسٹ کو سراہا دکاندار سے نوٹ خریدنے کی پیشکش کر ڈالی۔ ایک صارف کو تو قائد اعظم کی تصویر بہت پسند آئی اور اس نے لکھا کہ قائد کول لگ رہے ہیں۔
ماہرین کی وارننگ: ایک ابھرتا ہوا خطرہ
اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سائبر سیکیورٹی اور معاشی ماہرین نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پر مبنی جعلی دستاویزات اور کرنسی کا یہ رجحان ایک نیا اور ابھرتا ہوا سنگین خطرہ ہے۔
ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائے گئے یہ ڈیپ فیکس (Deepfakes) اور جعلی ڈیزائنز نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں، بلکہ یہ عام آدمی کو گمراہ کر کے ملکی معیشت کے لیے بھی ایک خاموش زہر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ لین دین کے دوران کرنسی نوٹوں کو، خاص طور پر قائد اعظم کی تصویر اور واٹر مارک کو، انتہائی غور سے چیک کریں اور کسی بھی غیر معمولی چیز پر فوراً متعلقہ حکام کو مطلع کریں۔
یہ انوکھا واقعہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری ذرا سی غفلت ہمیں بڑے نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور ٹیکنالوجی کے اس تاریک پہلو سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھیں۔