ایئر پورٹ 8

ایئر پورٹ پر مسافروں کو بلاجواز روکنے پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

ایئر پورٹ کا لاؤنج محض ایک انتظار گاہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان گنت خوابوں، امیدوں اور زندگی بھر کی محنت کا عکاس ہوتا ہے۔

ذرا تصور کریں، ایک شخص جو اپنی تمام تر جمع پونجی لگا کر، اپنوں سے دعائیں لے کر خوشی خوشی ایئرپورٹ پہنچتا ہے، لیکن اچانک امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑا اہلکار محض ایک مبہم شک کی بنا پر اس کا راستہ روک لیتا ہے۔ یہ ایک سرد اور بے حس لمحہ اس شخص کی پوری دنیا اجاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

کیا کوئی جانتا ہے ان پاسپورٹس کے پیچھے چھپی کہانیاں؟

 

جب ایف آئی اے (FIA) کے اہلکار کسی مسافر کا پاسپورٹ ایک طرف رکھ کر اسے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے سفر سے روکتے ہیں، تو وہ اکثر اس عمل سے جڑے انسانی المیے کا اندازہ نہیں لگا پاتے۔

  • روشن مستقبل کی اسکالرشپ: وہ نہیں جانتے کہ اس نوجوان نے کتنی راتیں جاگ کر پڑھائی کی ہے اور یہ غیر ملکی اسکالرشپ اس کے روشن مستقبل کی شاید واحد اور آخری امید ہے۔ فلائٹ چھوٹ جانے کا مطلب صرف ایک ٹکٹ کا ضیاع نہیں، بلکہ ایک کیریئر کا قتل ہے۔

  • برسوں بعد ملنے والی نوکری: انہیں کیا معلوم کہ کئی سالوں کی بے روزگاری اور ٹھوکروں کے بعد کسی کو بیرونِ ملک ملازمت ملی ہے، جس سے اس کے پیچھے بیٹھے پورے خاندان کا چولہا جلے گا۔

  • زندگی بھر کی جمع پونجی: کیا اس سسٹم کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایک سفر کے لیے کسی باپ نے اپنی زندگی بھر کی کمائی لگائی ہے، یا کسی نے اپنے خواب پورے کرنے کے لیے قرض لیا ہے؟

یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسافروں کو ایئر پورٹ پر روک لینا، گھنٹوں بٹھائے رکھنا اور مبہم سوالات میں الجھانا ایک ایسا روبوٹک رویہ ہے جس میں انسان اور اس کے جذبات کی کوئی قدر نہیں۔ یہ محض قانون پر عملداری نہیں، بلکہ ایک غریب اور عام شہری کی بے بسی کا مذاق اڑانا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: ایئرپورٹ پر روکنا ناجائز قرار

 

اسی بے حسی اور صوابدیدی اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف لاہور ہائی کورٹ (LHC) نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔

عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ ایف آئی اے محض مبہم شکوک و شبہات (Vague Suspicions) کی بنیاد پر کسی بھی شہری کو بیرون ملک سفر کرنے سے نہیں روک سکتی۔

عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی نوید ہے کہ کسی بھی شخص کو ایئر پورٹ پر محض اس لیے ذہنی اذیت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ کسی افسر کو اس پر بلاوجہ شک ہے۔

قانون کے مطابق، جب تک کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت موجود نہ ہو، یا کسی کا نام باقاعدہ طور پر ای سی ایل (ECL) یا بلیک لسٹ میں شامل نہ ہو، اسے سفر کے بنیادی اور آئینی حق سے محروم کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔

کیا اب رویوں میں تبدیلی آئے گی؟

 

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ یقیناً ایک خوش آئند قدم اور امید کی کرن ہے۔

قانون کے رکھوالوں کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ان کے کاؤنٹر کے سامنے کھڑا ہر شخص مجرم نہیں ہوتا۔ وہ اس ملک کے باعزت شہری ہیں جو اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے دیارِ غیر جا رہے ہیں۔

تفتیش اور چیکنگ کے نظام کو جدید، شفاف اور ہمدردانہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بے گناہ کا وقت، پیسہ اور مستقبل کسی اہلکار کے محض ایک ‘شک’ کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔

سفر کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ امید ہے کہ عدالتِ عالیہ کے اس کڑے فیصلے کے بعد، ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بلاجواز تنگ کرنے کے اس سلسلے کو بریک لگے گی اور وہ تمام طالب علم، محنت کش اور عام شہری بغیر کسی خوف کے اپنے خوابوں کی جانب اڑان بھر سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں