فہد مصطفیٰ 2

فہد مصطفیٰ انٹرویو کےد وران شارٹس پہننے پر تنقید کی زد میں‌

حال ہی میں، معروف پاکستانی اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ اپنی آنے والی ہارر تھرلر فلم ‘زومبائیڈ’ (Zombeid) کی پروموشن کے لیے ‘سمتھنگ ہاٹ’ (Something Haute) کے ایک انٹرویو میں شریک ہوئے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر، گفتگو کا محور ان کی فلم کے بجائے ان کا لباس بن گیا۔ فہد مصطفیٰ اس انٹرویو میں شارٹس پہنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے نظر آئے، جس پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔

عوام کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بعض لوگوں نے ‘بے شرم’ اور ‘فحش’ جیسے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔ یہ تنقید کچھ ویسی ہی تھی جیسی عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کے لباس پر کی جاتی ہے۔

فہد مصطفیٰ کا نامناسب لباس اور تنقید پر رد عمل

 

اس ردعمل پر فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں بچپن سے شارٹس پہن رہا ہوں، یہ صرف شارٹس ہیں۔ مسئلہ کیا ہے؟”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سکول کے دنوں سے لے کر آج تک بیڈمنٹن یا کرکٹ کھیلتے ہوئے شارٹس ہی پہنتے ہیں، اور اگر آپ شام کو چہل قدمی کے لیے نکلیں تو آپ کو بہت سے لوگ شارٹس میں نظر آئیں گے۔

فہد کی بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے کہ آرام دہ لباس پہننا انسان کی ذاتی پسند ہے، لیکن اس واقعے نے ایک بہت اہم بحث کو جنم دیا ہے جسے روبوٹک انداز میں نہیں، بلکہ ایک عام انسان کی نظر سے نہایت نرمی اور تدبر کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

موقع کی مناسبت اور عوامی تاثر

 

ایک فنکار یا مشہور شخصیت ہونے کے ناطے آپ عوام کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ کھیل کے میدان، گھر کے اندر، یا شام کی چہل قدمی کے دوران شارٹس پہننا بالکل سمجھ میں آتا ہے، لیکن جب آپ ایک باقاعدہ انٹرویو دے رہے ہوں جسے لاکھوں لوگ سکرین پر دیکھیں گے، تو وہاں لباس کا انتخاب ایک مختلف پیغام دیتا ہے۔

پبلک پلیسز اور باضابطہ انٹرویوز میں شرکت کے دوران ظاہری شخصیت اور پہناوے کا خیال رکھنا اس پلیٹ فارم اور ناظرین کے احترام کی بھی علامت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسے لباس سے اپنی نوجوان نسل کو کوئی مثبت پیغام دے رہے ہیں؟

مردوں کا ستر اور ہماری اقدار

 

ہم اکثر معاشرے کے دوہرے معیار کی بات کرتے ہیں، جہاں خواتین کے لباس کو تو خوردبین لگا کر دیکھا جاتا ہے لیکن مردوں کے انتخاب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

تاہم، یہاں یہ نرمی سے یاد دہانی کروانا بھی ضروری ہے کہ جس طرح خواتین کے لیے پردے اور حیا کے کچھ اصول ہیں، اسی طرح مردوں کا بھی ایک ‘ستر’ ہے (ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ) جسے ڈھانپنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اس بات کو کسی پر تنقید کے نشتر چلانے یا سخت الفاظ استعمال کرنے کے بجائے، ایک دوستانہ اور اخلاقی مشورے کے طور پر لینے کی ضرورت ہے۔ لباس صرف جسم ڈھانپنے کا نام نہیں، بلکہ یہ آپ کی شخصیت، آپ کی تہذیب اور آپ کے وقار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

ذاتی پسند مقدم لیکن عوامی مقامات پر خیال ضروری

 

کسی بھی انسان پر اس کی ذاتی پسند کے حوالے سے انگلیاں اٹھانا درست نہیں، لیکن جب بات پبلک لائف کی آتی ہے، تو انسان کا ہر انداز ایک پیغام بن کر دوسروں تک پہنچتا ہے۔

فہد مصطفیٰ بلاشبہ ایک بہترین اداکار ہیں، لیکن بطور ایک پبلک فگر، اپنی ظاہری شخصیت اور لباس کا تھوڑا سا اضافی خیال رکھنا یقیناً ان کے اپنے وقار اور ناظرین کے ساتھ ان کے رشتے کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ آزادی اور تہذیب کا ایک خوبصورت توازن ہی ہمارے معاشرے کو ایک بہتر اور روادار جگہ بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں