پاکستان کی سیاست میں الزامات، مقدمات اور جوابی بیانیوں کی روایت خاصی پرانی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے کچھ عدالتی بیانات نے ایک بار پھر سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
حال ہی میں انمول عرف پنکی نامی خاتون کی جانب سے عدالت میں دیا گیا بیان اس وقت زیرِ بحث ہے، جس میں انہوں نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
انمول عرف پنکی جو کہ ایک مبینہ ڈرگ ڈیلر ہیں اور اس وقت مقدمات کی زد میں ہیں نے مبینہ طور پر روتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اہلخانہ کو اٹھا لینے کی دھمکیاں دے کر بنی گالہ سے جڑی ایک اہم شخصیت (عمران خان) کے خلاف جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کیا گیا۔
یہ بیان محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ انصاف اور سیاسی انتقام کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ایک اہم واقعہ ہے۔
انمول عرف پنکی پر دباؤ اور پی ٹی آئی کا مؤقف
اس صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر مغل کا واضح ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لگ بھگ تین سو مقدمات، قیدِ تنہائی اور طویل قید کے باوجود مخالفین کے سروں پر عمران خان کا خوف آج بھی سوار ہے۔
ان کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لیے مبینہ طور پر نت نئے اور کمزور مقدمات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس کی تازہ کڑی گواہوں کو دباؤ میں لا کر بیانات دلوانا ہے۔
ماضی کے الزامات اور بدلتے بیانیے
سیاسی اور صحافتی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اس نوعیت کے سنگین الزامات میں الجھانے کی یہ کوئی پہلی کوشش نہیں ہے۔
ماضی میں بھی ان پر منشیات کے استعمال اور دیگر اخلاقی نوعیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے سیاسی منظر نامے میں کئی حیران کن تبدیلیاں بھی دیکھی ہیں۔
مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ، جو ماضی میں عمران خان پر سخت ترین تنقید اور سنگین الزامات عائد کرنے میں پیش پیش رہتے تھے، وقت کے ساتھ ان کے لہجے میں بھی تبدیلی محسوس کی گئی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عمران خان کی طویل اور کٹھن قید اور ان کی استقامت کو دیکھ کر کئی سخت گیر مخالفین کے رویوں میں بھی نرمی آئی، اور بعض مواقع پر انہیں اپنے ماضی کے تلخ بیانات پر نظر ثانی کرنی پڑی۔ جب کوئی سیاسی رہنما قید و بند کی صعوبتیں کاٹ کر بھی اپنے مؤقف پر ڈٹا رہتا ہے، تو مخالفین کے لگائے گئے بہت سے الزامات عوامی عدالت میں خود بخود دم توڑنے لگتے ہیں۔
ایک انسانی المیہ: گواہوں پر دباؤ
اس پورے واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ انسانی المیہ ہے جسے اکثر سیاسی شور شرابے میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انمول عرف پنکی کا عدالت میں یہ کہنا کہ "ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے” یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح عام لوگوں کی زندگیوں، ان کے خاندانوں اور ان کی عزتِ نفس کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔
ایک مہذب اور جمہوری معاشرے میں کسی بھی شہری پر ریاستی مشینری کا مبینہ بے جا استعمال اور دباؤ کے ذریعے جھوٹی گواہیاں تیار کرنا نظامِ انصاف کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔
واقعہ کی شفاف تحقیقات وقت کی اشد ضرورت
اس تمام صورتحال میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر واقعی گواہوں پر دباؤ ڈال کر سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات کا تانا بانا بُنا جا رہا ہے، تو یہ نہ صرف عمران خان کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ ملک کے مجموعی عدالتی اور سیاسی نظام کی ساکھ کے لیے بھی تباہ کن ہے۔
صحافتی اور جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ حقائق کو سامنے لایا جائے، تاکہ عوام خود یہ فیصلہ کر سکیں کہ کون سی بات سچائی پر مبنی ہے اور کون سا بیانیہ محض سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ سیاست میں مخالفت جمہوریت کا حسن ہے، لیکن مخالفت کے نام پر الزامات کی ایسی فیکٹریاں لگانا کسی بھی طور پر ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔