دنیا بھر میں فٹبال کا بخار عروج پر ہے اور شائقین بے صبری سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کک آف کا انتظار کر رہے ہیں۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ میگا ایونٹ اس بار کئی لحاظ سے منفرد ہے۔
ایک طرف تو ففیفا ورلڈکپ فائنل ٹکٹ آسمان کو چھو لیا ہے، تو دوسری جانب حالیہ سیاسی کشیدگی کے باعث ایران کی شرکت اور ان کے شائقین کی امریکی اسٹیڈیمز تک رسائی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
فیفا ورلڈکپ فائنل ٹکٹ پاکستانی روپوں میں کتنی؟
ورلڈ کپ کا فائنل کسی بھی فٹبال مداح کے لیے زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے، لیکن اس بار یہ خواب کافی مہنگا پڑنے والا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، فائنل میچ کی ایک وی آئی پی یا پریمیم ٹکٹ کی قیمت 11,000 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اگر ہم مئی 2026 کی موجودہ شرح تبادلہ (تقریباً 279 روپے فی ڈالر) کے حساب سے دیکھیں، تو فیفا ورلڈکپ فائنل ٹکٹ کی یہ رقم پاکستانیوں کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ قیمت تقریباً 30 لاکھ 70 ہزار روپے بنتی ہے۔
یہ خطیر رقم اس بات کا ثبوت ہے کہ فٹبال کا جنون کسی قیمت کا محتاج نہیں، لیکن ایک عام مداح کے لیے سبز مستطیل (فٹبال گراؤنڈ) کے کنارے بیٹھ کر یہ تاریخی لمحہ دیکھنا اب واقعی ایک بہت بڑی لگژری بن چکا ہے۔
کیا ایرانی عوام امریکا میں لائیو میچز دیکھ سکیں گے
یہ سوال اس وقت عالمی اسپورٹس میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ ‘ٹیم ملی’ (ایران کی قومی فٹبال ٹیم) کے گروپ اسٹیج کے میچز امریکا کے مختلف شہروں (جیسے لاس اینجلس اور سیاٹل) میں شیڈول ہیں، جہاں ان کا ٹکراؤ نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر سے ہونا ہے۔ لیکن زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔
ویزے کے مسائل اور سیاسی کشیدگی
قومی ٹیم کے ویزے:
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ ورلڈ کپ شروع ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، لیکن ابھی تک نہ تو کھلاڑیوں کو اور نہ ہی آفیشلز کو امریکی ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ ایران نے فیفا سے اس حوالے سے حتمی گارنٹی طلب کر لی ہے۔
شائقین کی مشکلات:
اگرچہ امریکی حکام نے ورلڈ کپ ٹکٹ ہولڈرز کے لیے ویزا بانڈ کی شرائط میں نرمی کی ہے، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں (فروری تا اپریل 2026) کی شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کے باعث عام ایرانی شہریوں کے لیے امریکی ویزا حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
سخت اسکریننگ کا عمل:
جن ایرانی شائقین نے ٹکٹ خرید بھی لیے ہیں، انہیں انتہائی سخت سیکیورٹی کلیئرنس اور بیک گراؤنڈ چیکس سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث ویزا پراسیسنگ کے لیے شائقین اور کھلاڑیوں کو تیسرے ممالک (جیسے ترکی) کا سفر کرنا پڑتا ہے جس نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سیاست کی نظر ہوتا فیفا ورلڈکپ
کھیل کا اصل مقصد ہمیشہ سرحدوں کو مٹا کر انسانوں کو جوڑنا ہوتا ہے۔ فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایران کی ٹیم امریکا میں ضرور کھیلے گی، لیکن عام ایرانی شائقین کے لیے اپنے ہیروز کو لائیو ایکشن میں دیکھنے کا خواب اس بار عالمی سیاست کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
فٹبال کا اصل حسن تو شائقین کے جوش اور نعروں میں ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا فیفا اور امریکی حکام آخری لمحات میں اس مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ نکال پاتے ہیں یا نہیں۔