صحتمتفرق

خواتین کی صحت سے جڑی عام غلط فہمیاں

خواتین کی صحت سے جڑی عام غلط فہمیوں کو سائنسی اور حقیقت پسندانہ انداز میں واضح کریں گے تاکہ معاشرے میں آگاہی پیدا ہو اور خواتین بہتر فیصلے کر سکیں۔

خواتین کی صحت  ایک ایسا موضوع ہے جس پر صدیوں سے بات تو کی جاتی رہی ہے، مگر بدقسمتی سے اس کے گرد آج بھی بے شمار غلط فہمیاں، روایتی تصورات اور سائنسی لاعلمی موجود ہے۔ یہ غلط فہمیاں نہ صرف خواتین کی جسمانی صحت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی مسائل کو بھی جنم دیتی ہیں۔

اس بلاگ میں ہم خواتین کی صحت سے جڑی عام غلط فہمیوں کو سائنسی اور حقیقت پسندانہ انداز میں واضح کریں گے تاکہ معاشرے میں آگاہی پیدا ہو اور خواتین بہتر فیصلے کر سکیں۔

غلط فہمی نمبر 1: ماہواری کے دوران ورزش نقصان دہ ہوتی ہے

حقیقت:
یہ سب سے عام اور خطرناک غلط فہمیوں میں سے ایک ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ماہواری کے دوران ہلکی پھلکی ورزش جیسے واک، یوگا یا اسٹریچنگ درد کو کم کرنے اور موڈ بہتر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

خواتین کی صحت کے ماہرین کے مطابق، جسم کو حرکت دینے سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور ہارمونی توازن قائم رہتا ہے۔

غلط فہمی نمبر 2: خواتین میں دل کی بیماریاں کم ہوتی ہیں

حقیقت:
اکثر سمجھا جاتا ہے کہ دل کی بیماریاں صرف مردوں کا مسئلہ ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ دل کے امراض ہیں۔

خواتین میں دل کی بیماری کی علامات بعض اوقات مختلف ہوتی ہیں، جیسے:

  • غیر معمولی تھکن
  • متلی
  • سانس کا پھولنا

اسی لیے  دل کی اسکریننگ کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

غلط فہمی نمبر 3: ذہنی دباؤ خواتین کے لیے "عام بات” ہے

حقیقت:
یہ تصور کہ خواتین فطری طور پر زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اور ڈپریشن یا انزائٹی "نارمل” ہے، نہایت غلط اور نقصان دہ ہے۔

ذہنی صحت بھی خواتین کی صحت کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا جسمانی صحت۔ مسلسل ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور اینگزائٹی کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ جسمانی بیماریوں میں بھی بدل سکتا ہے۔

غلط فہمی نمبر 4: حمل کے بعد وزن کم ہونا ناممکن ہے

حقیقت:
یہ درست ہے کہ حمل کے بعد جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں، مگر مناسب غذا، متوازن ورزش اور درست رہنمائی سے وزن کم کرنا بالکل ممکن ہے۔

ہر عورت کا جسم مختلف ہوتا ہے، اس لیے خواتین کی صحت کے معاملے میں ایک ہی اصول سب پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

غلط فہمی نمبر 5: ہڈیوں کی کمزوری صرف بڑھاپے میں ہوتی ہے

حقیقت:
ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis) کی بنیاد جوانی میں ہی پڑ جاتی ہے، خاص طور پر اگر کیلشیم، وٹامن ڈی اور ورزش کی کمی ہو۔

خواتین میں ہارمونل تبدیلیاں ہڈیوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے خواتین کی صحت میں ہڈیوں کی مضبوطی پر شروع سے توجہ دینا ضروری ہے۔

غلط فہمی نمبر 6: بریسٹ کینسر صرف خاندانی تاریخ کی وجہ سے ہوتا ہے

حقیقت:
یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ طبی اعداد و شمار کے مطابق بریسٹ کینسر کی اکثریت ان خواتین میں ہوتی ہے جن کی کوئی خاندانی تاریخ نہیں ہوتی۔

باقاعدہ خود معائنہ (Self-Examination) اور اسکریننگ صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خواتین کی صحت بہتر بنانے کے لیے عملی تجاویز

  • متوازن غذا کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں
  • سالانہ میڈیکل چیک اپ ضرور کروائیں
  • ذہنی صحت پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں
  • جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں
  • مستند معلومات حاصل کریں، روایات پر اندھا یقین نہ کریں

نتیجہ

 

خواتین کی صحت صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ جب تک غلط فہمیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا، تب تک خواتین مکمل صحت مند زندگی نہیں گزار سکتیں۔

آگاہی، تعلیم اور سائنسی سوچ ہی وہ راستہ ہے جو خواتین کو ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button