
حال ہی میں پاس ہونے والی 27 ویں آئینی ترامیم ریاستی اداروں کے توازن میں ایک گہری تبدیلی لائی ہیں۔ اس سے چیف آف آرمی اسٹاف (اب چیف آف ڈیفنس فورسز) کو زندگی بھر قانونی استثنیٰ ملتا ہے، عدلیہ کی طاقت محدود ہوتی ہے، اور ایک نئی وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) قائم کی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو محدود کرتی ہے، فوج کو مزید بے قابو بناتی ہے، اور پارلیمانی جوابدہی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس پسِ منظر میں ایک سوال بہت اہم ہے: کیا یہ ترمیم واپس یا اس کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں؟
یہ مضمون قانونی، ادارہ جاتی اور سیاسی رکاوٹوں کا تجزیہ کرتا ہے اور ممکنہ راستے پیش کرتا ہے جن کے ذریعے آئینی چیک اینڈ بیلنس کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔
نتیجہ یہ ہے کہ مکمل منسوخی شاید بہت مشکل ہو، مگر کچھ اقدامات ممکن ہیں — بشرطیکہ سول معاشرہ، قانونی حلقے اور سیاسی قوتیں مل کر آگے آئیں۔
پس منظر: 27 ویں آئینی ترامیم کے کیا اثرات ہیں؟
فوجی قیادت کو زندگی بھر استثنیٰ
- ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس، یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کا عہدہ حاصل کرنے والے افسران کو زندگی بھر قانونی استثنیٰ ملے گا۔
- خاص طور پر، آرمی چیف آصف منیر کو فیلڈ مارشل کی حیثیت سے یہ استثنیٰ ملے گا، اور ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔
- پارلیمنٹ کے ذریعے مواخذے (impeachment) کا عمل ممکن تو ہے، لیکن استثنیٰ کے باعث عدالتی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
فوجی کمانڈ کا مرکزیت اختیار کرنا
- ترمیم CJCSC (چیئرمین جوائنٹ چِفس آف اسٹاف کمیٹی) کے عہدے کو ختم کرتی ہے۔
- چیف آف آرمی سٹاف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF)” کے عہدے پر بٹھایا جائے گا، یعنی تینوں فوجی شاخیں (آرمی، نیوی، ایئر فورس) ان کی ماتحت ہوں گی۔
- ان کی مدتِ ملازمت پانچ سال ہوگی، اور ممکنہ طور پر ایک بار مزید پانچ سال کی توسیع کی جا سکتی ہے۔
عدلیہ کی تنظیم نو
سپریم کورٹ کی آئینی معاملات میں مداخلت محدود ہو جائے گی، اور نئے وفاقی آئینی عدالت (FCC) کو آئینی مقدمات کی سماعت کی ذمہ داری دی جائے گی۔
اس نئی عدالت کے جج منتخب کرنے میں انتظامیہ کا بہت زیادہ کردار ہوگا، اور انہیں حکومت کی سفارش پر تعینات کیا جائے گا۔
ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا، اور کمیشن کی تشکیل میں انتظامیہ کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔
صدر کو استثنیٰ
- ترمیم صدر کو بھی زندگی بھر قانونی استثنیٰ دیتی ہے؛ یعنی ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہ تو دورانیہ صدارت کے دوران شروع کیا جائے گا، نہ بعد میں۔ (
- یہ شق PPP کی مانگ پر ڈرافٹ میں شامل کی گئی تھی۔
تجزیہ: منسوخی یا اصلاح ممکن ہے؟
قانونی اور آئینی مشکلات
آئینی ترمیم کی ترمیم مشکل ہے
- 27 ویں آئینی ترامیم کو واپس لینے یا اس میں بڑی تبدیلی لانے کے لیے خود ایک آئینی ترمیم درکار ہوگی، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔
- چونکہ موجودہ حکومتیکوآپریشن نے اس ترمیم کو منظور کروایا ہے، اس کو الٹنے کے لیے سیاسی تقسیم یا اتحاد دونوں کی ضرورت ہوگی۔
استثنیٰ کی آئینی شکل
- چونکہ استثنیٰ آئینی شق (Constitutional provision) کی صورت میں ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے آسانی سے ایک عام قانون نہیں بنایا جا سکتا۔
- اگر منسوخی کی کوشش کی جائے تو ممکن ہے کہ “گرینڈ فادرنگ” کی شق ہو، یعنی جو پہلے ہی استثنیٰ حاصل کر چکے ہیں، ان پر اثر نہ ہو۔
عدلیہ کی کمزور پوزیشن
- نئی وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل ایسی ہے کہ انتظامیہ اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے وہ آزادانہ اور مؤثر عدالتی نظرثانی کرنے میں کمزور ہو سکتی ہے۔
- اگر “کسی بھی بنیاد پر تبدیلی کو چیلنج نہ کرنے” کی شق واقعی عدالتوں کو اس معاملے میں روک دیتی ہے، تو قانونی لڑائی بہت مشکل ہوگی۔
سیاسی استثنیٰ
- صدر کے استثنیٰ کو ختم کرنے کے لیے بھی ترمیم درکار ہوگی۔
- یہ تمام عمل اندرونی پارلیمانی اور سیاسی معرکوں پر منحصر ہے، اور آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر فوج اور انتظامیہ اس کو مضبوطی سے سپورٹ کر رہی ہوں۔
سیاسی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں
اقتدار کا ارتکاز
- فوج کے سربراہ کو آئینی طور پر زندگی بھر استثنیٰ ملنے اور تینوں فوجی شاخوں کی کمان ملنے کے بعد، ان کا سیاسی اور ادارہ جاتی اثر بہت بڑھے گا۔
- ایسی صورت میں سول حکومتوں کے لیے فوجی طاقت کے سامنے کھڑے ہونا خطرناک ہوسکتا ہے۔
عدلیہ پر گرفت
- انتظامیہ ججوں کی تقرری اور تبادلے پر کنٹرول رکھتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئینی عدالت میں مؤقف رکھنے والے آزادانہ ججوں کی تعداد محدود ہوسکتی ہے۔
- ججز جو اختلاف کریں، انہیں تبادلے یا دیگر دباو کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سیاسی ارادہ کی کمی
- اگر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہوں یا خوفزدہ ہوں، تو وہ مضبوط اتحاد نہیں بنا سکتیں جو اس ترمیم کو پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
- فوجی اور انتظامی طاقت کی موجودگی شہری سیاست میں مزاحمت کو مشکل بنا سکتی ہے۔
عوامی تحریک کی مشکلات
- عوامی احتجاج، سول معاشرے کی مہمات اور میڈیا دبا کا ایک راستہ ہو سکتا ہے، لیکن عدالتی چیلنج کے بغیر محدود اثر ہو سکتا ہے۔
- اگر ریاستی طاقت مضبوط ہو اور مزاحمت کو دبایا جائے تو عوامی تحریک کو کامیابی ملنا مشکل ہے۔
بین الاقوامی دباؤ کی حدود
- بین الاقوامی ادارے (جیسا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں) دباو ڈال سکتی ہیں، مگر آئینی ترمیم کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک اندرونی معاملہ ہے۔
- اگر امداد یا سفارتی تعلقات کو شرائط کے ساتھ جوڑا جائے، تو یہ ایک راستہ ہو سکتا ہے، مگر اس سے قومی خودمختاری اور ردعمل کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
ممکنہ راستے برائے اصلاح یا منسوخی
اگرچہ مکمل منسوخی مشکل ہے، مگر چند راستے ایسے ہیں جن کے ذریعے ترمیم کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے:
عدالتی چیلنج
- وفاقی آئینی عدالت میں ایسے جج تلاش کیے جا سکتے ہیں جو آئینی نظام اور عدالتی آزادئ کی فکر رکھتے ہوں اور وہ ترمیم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائیں۔
- اگر “نظریاتی یا قانونی نقص” پایا جائے (مثلاً پارلیمانی کارروائی میں غفلت)، تو اس پر مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
- عدالت کے اندر باقاعدہ ریکارڈ قائم کرنا اور عوامی توجہ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
متبادل ترمیم
- سیاسی جماعتیں اور سول معاشرہ مل کر 28 ویں آئینی ترامیم کا منصوبہ بنا سکتے ہیں، جو بعض نقصان دہ شقوں کو کمزور کرے: مثلاً استثنیٰ کی حد بندی، عدلیہ کی آزادئ کو دوبارہ متوازن کرنا، عدالتی کمیشن کی تشکیل میں اصلاحات لانا۔
- اس کے لیے سیاسی اتحاد کی ضرورت ہوگی، اور ممکن ہے کہ کچھ پارلیمانی ارکان ہوں جو فوجی اقتدار کو کمزور کرنا چاہتے ہوں۔
ادارہ جاتی مزاحمت
- باقی رہ جانے والے آزاد ججز اختلافی آراء کے ذریعے، الگ (dissenting) فیصلے لکھ کر اور عدالتی تاریخ میں اپنی آواز شامل کرکے عدلیہ کی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
- وکلاء کے ایسوسی ایشنز، بار کونسلز اور سول معاشرہ عدالتی آزادئ کی حفاظت کے لیے مستقل مانیٹرنگ اور شعور اجاگر کرنے کی مہم چلا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی اور سفارتی دباو
- حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیمیں، دیگر ممالک اور عالمی فورمز پر اس آئینی بحران کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
- سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی امداد کو آئینی حقوق کی شرط کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اس میں خطرے اور قومی ردعمل کا حساب بھی کرنا ہوگا۔
عوامی تحریک
- عوامی احتجاج، مہمات، سماجی رابطہ نیٹ ورکس، میڈیا پر مداخلت اور علمی گفتگو (کانفرنسیں، سیمینارز) کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔
اس تحریک کو عدالتی اور سیاسی کوششوں کے ساتھ ملایا جائے تو اس کی طاقت زیادہ ہو سکتی ہے۔
نتیجہ :
پاکستان کی 27 ویں آئینی ترامیم ایک سنگ میل ہے جو قاعدے اور اختیارات کے توازن کو تبدیل کرتی ہے: فوجی سربراہ کو زندگی بھر قانونی تحفظ ملنا، عدلیہ کو کمزور کرنا، اور پارلیمانی جوابدہی کا نظام خطرے میں آنا ملک کی آئینی تاریخ میں ایک بڑی پیشرفت ہے۔
اگرچہ ترمیم کو مکمل طور پر پلٹنا قانونی لحاظ سے ممکن ہے، مگر یہ بہت مشکل راستہ ہے اور اس کے لیے سیاسی عزم، عدالتی حکمتِ عملی، سول معاشرہ کی مہمات اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ حالات میں، اصلاح اور جزوی کالاآپریشن (mitigation) کا راستہ شاید زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔
یہ لڑائی صرف قانون کی نہیں ہے — یہ پاکستان کی آئینی سالمیت، اصولِ حکمرانی اور جمہوریت کے مستقبل کی بھی ہے۔ اگر چیک اینڈ بیلنس کو بحال کرنا ہے، تو یہ وقت ایک مربوط اور مسلسل حکمتِ عملی بنانے کا ہے، جو آئینی اصولوں، عوامی مطالبات اور قانونی فریم ورک کو ملائے۔



