بابر اعظم کی سنچری؛ شائقین کا انتظار ختم، نئے ریکارڈ بن گئے
ناقدین نے بابر کو ریٹائرمنٹ کے مشورے بھی دیئے، لیکن انہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کر دیا۔

پاکستان کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے ایک طویل عرصے کا انتظار ختم کرتے ہوئے سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں ناٹ آؤٹ 102 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کو آسان آٹھ وکٹ کی فتح دلائی۔
بابر اعظم کی سنچری نے نہ صرف ان کے طویل بحران کو ختم کیا بلکہ انہوں نے ایک اہم قومی ریکارڈ بھی برابر کر ڈالا۔
طویل جدوجہد کا اختتام
بابر اعظم نے 807 کے عرصے بعد اپنی بین الاقوامی سنچری دوبارہ حاصل کی، جو کہ ان کے لیے بہت بڑا دباؤ اورتنقید کا باعث بنی ہوئی تھی۔
ان کی پچھلی سنچری اگست 2023 میں ایشیا کپ کے دوران نیپال کے خلاف تھی، اور تب سے وہ 83 اننگز کے دوران تین ہندسوں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
بابر اعظم کی سنچری ؛وہ پل جب شائقین کا انتظار ختم ہوا:
دوسرے ون ڈے میں، جب پاکستان نے سری لنکا کی 289 رنز کے ہدف کا تعاقب کیا، بابر اعظم نے اپنی اننگز نہایت پائیداری سے شروع کی۔
انہوں نے آہستہ آہستہ میدان پر قبضہ بنایا، فیلڈ میں چال چلنے کے ساتھ ساتھ خطرے کا صحیح تخمینہ لگایا۔
ان کی نصف سنچری 68 گیندوں پر بنی، اور پھر انہوں نے فتح میں اہم شراکت قائم کی۔
خاص طور پر محمد رضوان کے ساتھ، جن کے ساتھ ان کا ناقابل شکست 112 رنز کا شراکت دارانہ رنز اس فتح میں کلیدی رہا۔
جب بابر اعظم نے اپنی سنچری مکمل کی، تو وہ گھٹنے کے بل جھکے اور زمین پر سجدہ کیا، پھر رضوان سے خوشی میں گلے ملے۔
ریکارڈ کی عکاسی — قومی اور ذاتی
یہ سنچری بابر اعظم کی 20 ویں ODI سنچری تھی، جس نے انہیں سعید انور کے ہم پلہ بنا دیا — جو پاکستان کے سب سے زیادہ ون ڈے سنچری بنانے والے بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔
ان کا یہ کارنامہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انہوں نے یہ سنگ میل صرف 136 اننگز میں حاصل کیا، جو تیز ترین درجہ بندی میں شمار ہوتا ہے۔سعید انور کو یہاں تک پہنچنے کیلئے 244 اننگز کھیلنا پڑی۔
مزید برآں، یہ ان کی آٹھویں سنچری ہے جو پاکستان کی سرزمین پر بنی ہے — کوئی اور پاکستانی بلے باز اس مقام تک نہ پہنچا۔
معیار اور مستقبل کے امکانات
بابر اعظم کی سنچری ان کیریئر میں ایک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ بابر نے ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ میں نہ صرف گر سکتا ہے بلکہ واپس بھی اٹھ سکتا ہے، اور بڑے مواقع پر خود کو ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کی طاقت صرف ان کی تکنیکی مہارت میں نہیں بلکہ ان کی ذہنی مضبوطی اور خود اعتمادی میں بھی ہے۔
یہ سنچری انہیں اگلے میچز اور سیریز میں ایک نیا اعتماد دے سکتی ہے، اور شاید ان کے لیے ایک نیا آغاز ہو — وہ مرحلہ جہاں وہ اپنی بہترین فارم کو برقرار رکھ کر مزید تاریخی کارنامے انجام دے سکیں۔
نتیجہ
بابر اعظم کی یہ سنچری محض ایک رنز کا سنگ میل نہیں تھی، بلکہ عہد، صبر اور عزم کی کہانی تھی۔ انہوں نے اپنے جذباتی اور پیشہ ورانہ چیلنجز کا سامنا کیا، خود پر یقین برقرار رکھا اور اپنی جماعت کو فتح کی راہ دکھائی۔
اس لمبے عرصے کے بعد جب وہ دوبارہ اس مقام پر آئے، تو ان کی واپسی نہ صرف ان کی ذاتی فتح تھی بلکہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بھی ایک اہم لمحات میں سے ایک بن گئی۔
اس دوران انہوں نے تنیقد بھی برداشت کی۔ ناقدین نے انہیں ریٹائرمنٹ کے مشورے دیئے ۔ جبکہ دنیا بھر سے سینئر کرکٹرز جو ان کے مداح بھی تھے، نے بابر کو ماہرانہ رائے بھی دی اور یوں بابر نے قابلیت کا لوہا منوایا۔



