کاروباری منصوبہ بندی کیا ہے؟ یہ کیوں ضروری ہے اور اسکے سنہری اصول کیا ہیں؟
کاروباری منصوبہ بندی کامیابی کی کنجی ہے، جانیں اس کی اہمیت اور کامیابی کے سنہری اصول۔

ایک لمبے عرصے تک بزنس کی دنیا میں کاروباری منصوبہ بندی یا بزنس پلاننگ کو ایک موٹی فائل سے تشبیہ دی جاتی رہے جسے ایک بار انویسٹر یا سرمایہ کاروں کے سامنے رکھی جاتی تھی۔
اس کے بعد یہ فائل داخل دفتر کر دی جاتی تھی اور بعدازاں اس پر جمی دھول ہٹائی جاتی تو معلوم پڑتا تھا کہ یہ بزنس چلانے کیلئے کیا کیا منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ کاروبار کے میدان میں جدت اور نت نئے چیلنجز کی وجہ سے اب جب بہت سے کاروبار مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو انہیں نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا ہوتا۔
حالانکہ اس مشکل سے نکلنے کا راستہ ایک فائل کی شکل میں دھول زدہ ان کے دفتر کے کسی کونے میں پڑا ہوتا ہے۔ یعنی کہ کوئی بھی بزنس جب کہیں پھنس جائے تو اس کے پاس واپسی کا راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ اس کاروبار کو شروع کیوں کیا گیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اب جدید کاروباری دنیا میں منصوبہ بندی کو اہمیت حاصل ہورہی ہے۔
جدید کاروباری اصلاحات نے اس بات کی نفی کر دی ہے کہ ہر بزنس کیلئےایک سی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ یعنی جس کی مرضی کیا فائل کاپی کی اور کاروبار شروع۔
ہر بزنس کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں اور ان کا درست تخمینہ لگانے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا نئے سرے سے بزنس پلاننگ کی جائے گی،پہلے سے موجود ماڈل میں تبدیلی کی جائے گی یا کسی کاروباری منصوبہ بندی کو ہو بہو اپنا لیا جائے گا۔
کیا کاروباری منصوبہ بندی یا بزنس پلاننگ اب بھی اہمیت رکھتی ہے؟
یہ سٹارٹ اپ کا دور ہے کیا اس میں بھی کاروباری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے؟
جاپان میں کی گئی ایک حالیہ ریسرچ میں اس سوال کا جواب ہاں میں دیا گیا اور اس کےپیچھے تین عوامل بھی بتائے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:
معاشی اثرات:
سٹارٹ اپ عموماً چھوٹی سطح سے شروع ہوتے ہیں لیکن ان سٹارٹ اپس کی بڑی تعداد شروع ہوتی ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے ۔ نئے سٹارٹ اپ سے جڑے کئی سوالات ہوتے ہیں جیسا کہ مارکیٹ کیا کہتی ہے، کتنا خرچ آئے گا اور آئندہ چار سے پانچ سالوں میں یہ سٹارٹ اپ کسی بڑے منصوبے کا روپ دھار پائے گا یا نہیں۔
یہ نکات ایک تفصیلی کاروباری منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہو پاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اسے کے معاشی اثرات ہوتے ہیں۔
بیرونی اور علامتی اثرات:
جب آپ کے پاس ایک واضح تیارکردہ کاروباری منصوبہ بندی ہوتی ہے تو سرمایہ کار آپ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔
سرمایہ کار کو یہ نظر آرہا ہوتا ہے کہ اس پلان پر عمل کر کے مستقبل میں اچھا بزنس کیا جاسکتا ہے۔
یہ منصوبہ بندی آپ کو اور سرمایہ کار کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کاروبار میں رسک کیا ہوگا؟ منافع کی کیا صورتیں ہوں گی ۔ اچھا بزنس آئیڈیا ہونا ہی کافی نہیں، اس کی پیچھے کئی قانونی محرکات بھی ہوتے ہیں۔ ایک تفصیلی کاروباری منصوبہ بندی آپ کے بزنس کو قانونی حیثیت دیتی ہے۔
مارکیٹ سمجھتی ہے کہ آپ صرف خیالی پلاؤ پکانے والے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے والے ہیں۔
اندرونی و نفسیاتی اثرات:
جب آپ کے پاس ایک واضح منصوبہ بندی ہوتی ہے تو نفسیاتی سطح پر آپ کا ذہن دباؤ کا شکار نہیں ہوتا۔ آپکو اپنے رسک اور منافع پر مکمل عبور ہوتا ہے۔
آپ دباؤ یا جلدی میں فیصلے نہیں کرتے۔ آپ کا ذہن الجھن سے پاک ہونے کی وجہ سے آپ کی دماغی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے اور یوں آپ ایک اچھا فیصلہ لے پاتے ہیں۔
اچھی کاروباری منصوبہ بندی کے رہنما اصول:
یوں تو ماہرین اچھی کاروباری منصوبہ بندی یا بزنس پلاننگ کے کئی رہنما اصول بتاتے، لیکن ہم تین سنہری اصول اپنی بحث کا حصہ بنائیں گے ۔
1۔ Why سے آغاز کریں:
کاروباری منصوبہ بندی کا نقطہ آغاز Why ہے یعنی کہ کیوں؟ آپ یہ بزنس کیوں شروع کرنے جارہے ہیں؟ آپ جس مخصوص شعبہ میں کام کر رہے ہیں وہاں کیا نیا کریں گے؟ ایسا کیا ہے جو پہلے سے مارکیٹ میں موجود نہیں ؟
اسی طرز کی درجنوں بنیادی سوالات اس ایک Why سے نکلیں گے ۔ اگر آپ ان کے جوابات نہیں رکھتے تو آپ کی ساری منصوبہ بندی فیل ہے۔
2۔ ایک پلان پر اکتفاء نہ کریں:
ہمیشہ اپنا پلان بی، پلان سی بھی رکھیں، کبھی ایک ہی پلان پر اکتفاء نہ کریں۔ ہوسکتا ہے بیرونی یا معروضی حالات آپ کے پلان اے کو ناکام بنا دیں تو کیا آپ سب کچھ بند کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے؟ یقیناً نہیں، اسلیئے اپنے پلان میں لچک رکھیں۔
3۔ سٹیک ہولڈرز کو منصوبہ بندی کی سطح پر شامل کریں:
ہم عموماً کاروبارشروع کرنے کے بعد سٹیک ہولڈر کو سننے کا فیصلہ کرتے جو کہ ایک غلط طرز عمل ہے۔
اگر آپ گاہک کی ضرورت کا نہ سمجھ کر کاروبار شروع کریں گے تو آپ کا خریدار کون ہوگا؟
اگر آپ نے سرمایہ کار کی رائے ہی نہ لی تو اسے اپنے بزنس آئیڈیا پر قائل کون کرے گا؟
یہ سوالات تقاضا کرتے ہیں کہ کہ ہم منصوبہ بندی کی سطح پر سٹیک ہولڈرز کو شامل کریں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں 5 بہترین ٹیک بزنس آئیڈیاز
اختتامیہ:
کاروباری منصوبہ بندی کا ہرگزمقصد یہ نہیں کہ آپ مستقبل میں اس کاروبار سے متعلق پیشن گوئی کریں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان دیکھے مسائل اور رکاوٹوں کیلئے خود کو تیار رکھیں۔
سرمایہ کار کو قائل کرنے سے لے کر گاہک کی ضرورت پوری کرنے تک، آپ کی منصوبہ بندی میں ہرسوال کا جواب موجود ہونا چاہیے۔
یہ وہ رہنما اصول ہیں جو ہر صدی ہر جدید دورمیں آپ کے کاروبار کو دوام بخشیں گے۔