مشین لرننگ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے ؟
سوچ رہے ہیں مشین لرننگ آخر ہے کیا اور یہ ہماری زندگی میں کہاں کہاں استعمال ہوتی ہے؟ آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔

مشین لرننگ اب صرف ریسرچ لیبارٹریز تک محدود رہنے والا عمل نہیں رہا بلکہ اس کی عملی سرگرمیاں ہم روزمرہ میں دیکھتے ہیں۔
فراڈ کی شناخت، میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی ماڈلنگ تک یہ کئی اہم سرگرمیوں کے پیچھے چھپا ایک خاموش سرچ انجن ہے۔
روزمرہ میں ہم کئی ایسی مصنوعی ذہانت یا اے آئی ایپس استعمال کرتے ہیں جو مشین لرننگ کے اصولوں پر بنی ہوتی ہیں۔
مشین لرننگ کیا ہے؟
یہ اے آئی یا مصنوعی ذہانت کی ایسی برانچ ہے جس میں کسی سسٹم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ پیٹرن پہچانتے ہوئے ڈیٹا سے سیکھے اور کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ فیصلے کرنے کے قابل ہو جائے۔
پیور ریسرچ سنٹر کے مطابق ریسرچرز جس کام کو برسوں سے ہاتھ سے کرتے آئے تھے، مشین لرننگ کی مدد سے اس نظام کو خودکار بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس رفتار سے کام کرتا ہے جو انسانوں کیلئے ناممکن ہوتا ہے۔
مشین لرننگ کیسے کام کرتا ہے؟
مشین لرننگ کے کام کرنے کا لوپ عموماً چار حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:
1. ڈیٹا جمع کرنا
پہلے حصے میں ڈیٹا جیسا کہ تصاویر، فوٹو، سگنلز وغیرہ جمع کئے جاتے ہیں۔
2. درست ماڈل کا انتخاب
دوسرے مرحلے میں درپیش مسئلے کے حل کیلئے درست ماڈل کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ موسم کی پیش گوئی سے متعلق کوئی سسٹم ترتیب دینا چاہتے ہیں یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ماڈل دھوکہ دہی والی ای میلز کی شناخت کرے اور انہیں اہم ای میلز سے مختلف کرے۔
3. ٹریننگ
اس کے بعد ماڈل کی لیبل شدہ اور غیر لیبل شدہ ڈیٹا کی مدد سے ٹریننگ کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر آپ اسے ہزاروں ای میلز پیش کرتے ہیں جو کہ "فراڈ ای میلز” اور "اہم ای میلز” کے لیبل کے ساتھ موجود ہیں۔ یوں سسٹم اس سے ٹریننگ حاصل کرے گا اور اصل اور فراڈ ای میل کو پہچان پائے گا۔
4. ماڈل ٹیسٹنگ اور اپلیکیشن
آخری مرحلے میں اس سسٹم کا امتحان لیا جاتا ہے جس میں اسے نئی اور پہلے سے نہ دیکھے گئے ڈیٹا پر چیک کیا جاتا ہے۔ کامیابی پر اسے حقیقی دنیا میں اپلائی کر دیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک ماڈل جو ای میلز کیلئے بنایا گیا تھا اب نئی ای میلز پر کام کرنے لگا ہے، تو غیر ضروری ای میلز کو بلاک کر رہا ہے اور اہم ای میلز انباکس میں رکھ رہا ہے۔
مشین لرننگ کی اقسام
مشین لرننگ کی تین اقسام ہیں جو یہ بنیادی نکات ہوتے ہیں کہ لرننگ الگورتھم کس طرح کام کرتے ہیں۔
انسانوں کی طرح یہ ماڈل بھی ہدایات، مشاہدے یا پھر ٹرائل اینڈ ایرر سے سیکھتے ہیں۔
1. سپروائزڈ لرننگ
یہ مشین لرننگ کا وہ سادہ طریقہ ہے جس میں ماڈل کو ڈیٹا لیبل کر کے تربیت دی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر میڈیکل اسکین کو بیمار اور صحت مند کے لیبل کے ساتھ پیش کرنا۔
2. ان سپروائزڈ لرننگ
اس قسم میں ماڈل کے پاس کوئی لیبل نہیں ہوتے لیکن وہ ڈیٹا میں موجود پیٹرن اور دیگر خفیہ اشاروں کو بھانپتے ہوئے خود نتیجے تک پہنچتا ہے۔
مثال کے طور پر کسٹمرز کو شاپنگ ریکارڈ کی بنیاد پر مختلف گروپس میں تقسیم کرنا۔
3. ری انفورسمنٹ لرننگ
یہ آزمائش اور خطا پر مبنی ماڈل ہوتا ہے جو فیڈبیک پر کام کرتا ہے۔ اگر اچھا کام کیا تو اسے نوازا جاتا ہے وگرنہ کام روک دیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک روبوٹ کو چلنے پر ٹرین کیا جا رہا ہے۔ ہر بار جب وہ ایک درست قدم اٹھاتا ہے تو اسے انعام ملتا ہے اور اگر وہ غلط قدم اٹھاتا ہے یا گرتا ہے تو اسے انعام نہیں دیا جاتا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں 5 بہترین ٹیک بزنس آئیڈیاز
حقیقی زندگی میں استعمالات
مشین لرننگ اب صرف کتابوں یا ریسرچ تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے چند اہم استعمال یہ ہیں:
طبی شعبہ: مریضوں کی بیماریوں کو جلد پہچاننے اور علاج میں مدد دینا۔
فراڈ سے حفاظت: آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کو بروقت پکڑنا۔
ماحولیات: سخت موسم اور قدرتی آفات کی پہلے سے خبر دینا۔
اختتامیہ
مشین لرننگ کوئی جادو نہیں بلکہ یہ انسان کی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہے۔ اگر اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ہماری زندگی کو آسان بنا سکتی ہے اور ہر شعبے میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے اخلاقی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تو فائدے کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔