سائنس اور ٹیکنالوجی

دنیا بھر میں‌انٹرنیٹ سپیڈ کی رینکنگ جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ سپیڈ کے حوالے سے پاکستان فلسطین، بھوٹان، گھانا، عراق، ایران، لبنان، اور لیبیا سے بھی پیچھے ہے۔

ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان انٹرنیٹ سپیڈ کی عالمی درجہ بندی میں 198ویں نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ سپیڈ کے حوالے سے پاکستان فلسطین، بھوٹان، گھانا، عراق، ایران، لبنان، اور لیبیا سے بھی پیچھے ہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ سپیڈ کی رینکنگ جاری، پاکستان کی پریشان کن رپورٹ:

حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی اوسط ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 19.59 ایم بی پی ایس ہے، جبکہ براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی اوسط رفتار 15.52 ایم بی پی ایس ہے۔

دونوں موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی رفتار میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے، جبکہ موبائل انٹرنیٹ میں سنگاپور اور براڈ بینڈ میں قطر دوسرے نمبر پر ہیں۔ہانگ کانگ اور چلی موبائل انٹرنیٹ اسپیڈ کے لحاظ سے بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے ساتھ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری متوقع ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے کہا ہے کہ موجودہ انٹرنیٹ اسپیڈ کے مسائل تین ماہ کے اندر حل ہونے کی توقع ہے، حالانکہ فائر وال کے نفاذ سے کنیکٹیویٹی کے مسائل پیدا ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

 

مزید پڑھیں:‌پاکستانی فری لانسرز کو پی ٹی اے کا بڑا تحفہ

 

انہوں نے کہا کہ اگر واٹس ایپ کے ذریعے پیغام بھیجا جا رہا ہو لیکن تصاویر منتقل نہ ہو رہی ہوں، تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں صارفین انٹرنیٹ کے تعطل اور کم رفتار کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے براؤزنگ، ڈاؤن لوڈنگ، اور میڈیا شیئر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، وائی فائی اور موبائل ڈیٹا دونوں سروسز میں نمایاں سست رفتاری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے لیے واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر تصاویر، ویڈیوز، اور وائس نوٹس بھیجنا یا وصول کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

فری لانسرز کو کام میں دشواری کا سامنا:

 

پاکستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں فری لانسرز بیرون ملک اپنی سروسز دے کر بہتر روزگار کما رہے ہیں۔

ان کے کاروبار کو انٹرنیٹ سپیڈ کی کمی اور بار بار کی بندش کے باعث خطرات لاحق ہیں۔ فری لانسرز دوسرے ملک کے کلائنٹس کو یہ بات سمجھانے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ اس جدید دور میں ان کی ملک میں انٹرنیٹ سپیڈ اور بندش کے اتنے مسائل کیوں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب پاکستانی فری لانسرز کو کام ملنے کی شرح میں کمی کا سامنا ہے۔ کلائنٹس مہارت کے باوجود بھی پاکستانی کلائنٹس کو سست انٹرنیٹ کی وجہ سے کام دینے سے معذرت کر رہے ہیں۔

اسی طرح مقامی کمپنیاں تو ملکی حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے تعاون کر رہی ہیں۔ لیکن بین الاقوامی کمپنیاں بڑے پیمانے پر اپنا کام ملک سے باہر شفٹ کر رہی ہیں۔

 

فری لانسرز کی اپیل:

 

فری لانسرز اور دیگر ٹیک کمپنیوں کی جانب سے حکومت سے اپیل کی جارہی ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے تا کہ معیشت کا سہارا بننے والی آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہو سکے ۔

ایک ایسے وقت میں جب حکومت بیرون ملک کی کمپنیوں سے سرمایہ کاری کی امید رکھ رہی ہیں، ملکی کمپنیاں بھی سسٹ انٹرنیٹ کی وجہ سے نالاں دکھائی دے رہی ہیں ۔ ایسے حالات میں بیرون ملک کے سرمایہ کار کو کیسے راضی کیا جائے گا؟ یہ سائنس تو حکومت ہی جانتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button