
کرکٹ کے میدان میں 34 سال بعد چلنے والی شدید کالی آندھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے جبڑے سے فتح، سینئر کھلاڑیوں کا تجربہ، نئے ٹیلنٹ کا جوش و جذبہ اور نئے پرانے سب ریکارڈ اڑا کر لے گئی۔
برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز ون ڈے سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز نےقومی ٹیم کو 202 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر 34 سال بعد پاکستان سے ون ڈے سیریز جیت لی۔
آخری بار 1991 میں قومی ٹیم کو ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن 34 سال بعد ملنے والی یہ شکست 1991 کی شکست سے زیادہ بد ترین تھی۔
1991 کی سیریز میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو دو مچز میں 17 اور 24 رنز سے شکست دی ، جبکہ ایک میچ برابر ہو گیا تھا۔
موجودہ سیریز بالخصوص آخری میچ میں 202 رنز کی شکست نے قومی کرکٹ ٹیم کے بڑھتے ہوئے مورال کو ڈاؤن جبکہ ویسٹ انڈیز ٹیم کو نیا ولولہ دیا۔
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز؛ قومی ٹیم کو آخری میچ میں بدترین شکست:
پاکستان نے فیصلہ کن معرکے میں ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا لیکن یہ فیصلہ الٹا پڑ گیا۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم نے مقررہ اوورز میں 294 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کی طرف سے کپتان شائی ہوپ نے 120 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی۔
یہ ان کی 18 ویں ون ڈے سنچری تھی ۔ یہ اننگر زیادہ سنچری سکور کرنے والے اپنے ہم وطنوں کی فہرست میں برائن لارا اور کرس گیل کے بعد انہیں تیسرے نمبرپر مزید مضبوط کر گئی۔
انہوں نے آخری 8 اوورز میں جسٹن گریوز کے ساتھ ملک کر 100 سے زائد رنز جڑ دیئے جس نے کالی آندھی کو 294 رنز تک پہنچنے میں مدد دی۔
جوابی اننگز میں قومی ٹیم کی بدترین پرفارمنس:
جوابی اننگز میں پوری قوم ٹیم صرف 92 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔
دونوں اوپنرز صائم ایوب عبداللہ شفیق، کپتان محمد رضوان ، حسن علی اور ابرار احمد بنا کوئی رنز بنائے پویلین لوٹے۔
سلمان علی آغا 30 رنز اور محمد نواز 23 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
ویسٹ انڈین باؤلر جے ڈن سیلز حقیقی معنوں میں کالی آندھی ثابت ہوئے ۔ انہوں نے صرف 18 رنز کے عوض 6 وکٹیں اڑا کر ٹیم کو 34 سال بعد تاریخی فتح حاصل کرنے میں کامیابی دلائی۔
میچ کے بعد اپنے ایک بیان میں پاکستانی کپتان محمد رضوان نے کہا کہ سیلز نے ٹیم کو پوری سیریز میں مشکل سے دوچار کیا۔ لیکن آج کے میچ میں ابتدائی تین وکٹوں نے شکست میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: اکمل برادران کے عروج و زوال کی کہانی، قومی ہیرو قوم کیلئے میم کا سامان کیوں بنے؟
ویسٹ انڈیز سے شکست، سینئر کرکٹرز، عوام، تجزیہ کار پھٹ پڑے:
قومی ٹیم کی شکست پر سینئر کرکٹ، تجزیہ کار اور عوام پھٹ پڑے۔ شعیب اختر شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم اور منیجمنٹ پر برس پڑے۔
سرکاری ٹی وی پر انٹرویو میں انہوں نے طنزاً کہا کہ شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل سٹارک یہاں نہیں تھے۔ جہاں جہاں ایسی کنڈیشنز ہوں گے ہمارے کھلاڑی بے نقاب ہوں گے۔
ہیڈ کوچ مائیک ہیس کو انہوں نے ٹی ٹونٹی میں بہترین کوچ قرار دیا۔ تاہم شعیب اختر ون ڈے میں ان کی قابلیت پرسوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہیسن ون ڈے کو اچھے انداز میں نہیں سمجھ پاتے۔
راجہ عاصم نامی ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان یہ میچ ہارنے کیلئے کھیلا، ٹیم سلیکشن سے پتہ لگ گیا تھا۔
مداحوں نے سلیکشن اور کرکٹ میں سیاست کو شکست کی وجہ قرار دیا۔
اعجاز ملک نامی صارف نے ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم تنزلی کی نئی حدوں کو چھو رہی ہے۔ سیاست سے کرکٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی بورڈ کو بہتر انداز میں چلانے میں ناکام رہے ہیں۔ محسن نقوی کو اب استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
صحافی ثمینہ پاشا بھی محسن نقوی سے ناراض نظر آئیں۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ” ایک وقت تھا پانچ دن کا ٹیسٹ میچ بھی دیکھا کرتی تھی۔۔ ایک ایک گیند اور پھر جھلکیاں بھی۔ محسن نقوی کی وجہ سے کرکٹ سے ایسی نفرت ہو گئی ہے کہ ایک گیند دیکھے بھی عرصہ ہو گیا۔”
اختتامیہ:
پاکستان کرکٹ ٹیم اور کرکٹ بورڈ میں سیاست کا عروج ہے جو کہ اب باقاعدہ طور پر نظر بھی آنے لگا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم نے بدترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سے ایسی ہی پرفارمنس کے باعث ٹیم منیجمنٹ بالخصوص چیئرمین پی سی بی تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیجنڈز، بیرون ملک کوچز اور ہر طرح کی ٹریننگ کی باوجود قومی ٹیم کا بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکٹ میں سیاست کے دعوے کو مزید تقویت دیتا ہے۔