
9 مئی کے کیسز کے فیصلے آنے کے بعد قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ سے پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں کی نااہلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ان نااہلیوں کے باعث خالی ہونے والی سیٹوں پر کڑا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا تھا۔
پی ٹی آئی ہی ان سیٹوں پر جیتی تھی تو ضمنی انتخابات میں ہمدردی کا ووٹ بھی شامل ہونا تھا جو رہنماؤں کی نااہلی کے باعث ضمنی انتخاب میں ملنا تھا اور ان انتخابات میں ممکنہ طور پر ٹکٹ کیلئے پہلے حقدار ان کی فیملی کے ہی لوگ ٹھہرائے جارہے تھے۔
لیکن ایسے میں پارلیمانی سیاست کے ذریعے لڑنے کی بجائے عمران خان نے ہاتھ کھڑے دیئے اور ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑے نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یوں عمران خان نے ایک بار پھر حکومت کیلئے میدان بالکل خالی چھوڑ دیا ہے۔
ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ، عمران خان کا واضح پیغام:
گزشتہ روز عمران خان نے اڈیالہ جیل میں حالیہ فیصلوں میں حالیہ عدالتی فیصلوں پر بات کی جس میں انہوں نے فیصلوں پر تنقید اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا۔
اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ "راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔
حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔”
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ” ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔”
عمران خان نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ” سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے”۔
مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی، سینیٹ ، قومی اسمبلی سے "پی ٹی آئی ختم شد”
الیکشن بائیکاٹ، پی ٹی آئی کے متوقع امیدوار کیا کہتے ہیں؟
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کو 9 مئی کیسز میں سزا ہوئی جس کے باعث ان کی سیٹ نااہلی کی وجہ سے خالی ہو گئی۔
حلقہ میں ضمنی انتخاب کا شیڈول سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کیلئے اپنے امیدوار فائنل کرنا شروع کئے ۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس ضمنی الیکشن کیلئے ملک پرویز اقبال ایڈوکیٹ امیدوار تھے۔ وہ مقامی طور پر ایک سوشل میڈیا سروے میں سب سے زیادہ ووٹ لے چکے تھے۔
عمران خان کی جانب سے ضمنی انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے ملک پرویز اقبال ایڈوکیٹ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ” پیرومرشد عمران احمد خان نیازی کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر”۔
انہوں نے ایک اور بیان میں مزید کہا کہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی سیٹیں عمران خان کی پشاوری چپل پر قربان۔
عمران خان کا فیصلہ دانشمندانہ یا عقل سے بعید:
اس وقت خبیر پختونخوا کی صوبائی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہے لیکن یہ حکومت بھی اب خطرے میں دکھائی دے رہی ہے کیونکہ علی امین گنڈا پور پر نااہلی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
اگر وہ نااہل ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد کے پی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی اور دوبارہ حکومت بنانے کیلئے پی ٹی آئی کو تگ و دو کرنا پڑے گی۔
اس کی وجہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات ہیں اور ساتھ ہی اپوزیشن بھی اب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد تگڑی پوزیشن میں آچکی ہے۔
چند سیٹوں کو توڑ کر پاکستان تحریک انصاف سے یہ حکومت بھی چھن سکتی ہے۔
اسی طرح ابھی خیبرپختونخوا کے ممبران اسمبلی کے 9 مئی کیسز سے متعلق فیصلے آنے باقی ہیں۔ اگر ان کی نااہلی ہوتی ہے تو خیبرپختونخوا میں طاقت کا توازن بگڑے گا اور اس سے حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔
یوں 2022 کی طرح عمران خان اگر اب بھی حکومت کیلئے پارلیمانی فورم کھلا چھوڑتے ہیں تو وہ اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کریں گے۔