فرانس کے بعد برطانیہ کا بھی "فلسطینی ریاست” کو تسلیم کرنے کا عندیہ
برطانیہ اور فرانس نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ستمبر تک فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔
انہوں نے اس بات کا اعلان کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کو چنا ہے جو کہ ایک بڑا پیغام ہے۔
ان کا یہ بیان فرانسیسی صدر میکرون سے ملتا جلتا ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ فرانس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا جی 7 ملک بنے گا۔
صرف یہی نہیں، برطانوی وزیر اعظم نے اسرائیل کو پیشکش کی ہے کہ وہ جنگ بندی کی جانب بڑھے، غزہ کی آبادی کو امداد تک رسائی دے اور طویل المدتی امن عمل کی پیشکش قبول کرے تو فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے معاملے کو التواء میں ڈالا جاسکتاہے۔
فرانسیسی صدر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق بیان:
گزشتہ ہفتے اپنے ایک ٹویٹ میں فرانسیسی صدر میکرون نے لکھا کہ ” مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے تاریخی عزم کے مطابق، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ” میں ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے یہ اعلان کروں گا۔
آج کی فوری ترجیح غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور شہری آبادی کو ریلیف پہنچانا ہے۔”
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ "ہمیں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں حماس کی غیر فوجی کارروائی، غزہ کو محفوظ اور تعمیر نو کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔”
میکرون کا کہنا تھا کہ ہمیں فلسطینی ریاست کی تعمیر کرنی چاہیے، اس کے قابل عمل ہونے کی ضمانت دینی چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی غیر فوجی کاری کو قبول کر کے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم کر کے، یہ خطے میں سبھی کی سلامتی میں معاون ہو۔
مزید پڑھیں: بھارتی فضائیہ بدنام زمانہ مگ 21 طیارے گراؤنڈ کرنے کو تیار
برطانیہ کی شرائط:
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اسرائیل اور حماس دونوں کیلئے شرائط کا مجموعہ پیش کیا ہے۔
اسرائیل کیلئے رکھی گئی شرائط میں فوری جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنا، غزہ میں افسوسناک صورتحال کا خاتمہ کرنے کیلئے انسانی امداد بالخصوص اقوام متحدہ کو امداد فراہمی کی اجازت دینا اور ایک طویل المدتی امن منصوبے پر عمل کرنا ہے جو دو ریاستی حل کی بحالی کیلئے راہ ہموار کرے۔
اسی طرح حماس کیلئے جاری کی گئی شرائط میں مغویوں کو فوری طور پر رہا کرنا، جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنا، مسلح جدو جہد ختم کرنا اور اس بات کو تسلیم کرنا کہ وہ غزہ حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔
سٹارمر کے مطابق حکومت دونوں فریقین کے شرائط پر عملدرآمد ہونے کو دیکھے گی اور اس کے بعد ستمبر میں فیصلہ لے گی۔
دونوں ممالک فرانس اور برطانیہ نے اس اعلان کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کو بطور فورم چنا ہے جو کہ ایک واضح پیغام ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی وہ پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں دنیا بھر کے ممالک کے نمائندے آپ کو سن رہے ہوتے ہیں۔ اس موقع پر فلسطینی ریاست کوتسلیم کرنا اسرائیل پر مزید دباؤ کو بڑھائے گا۔
یاد رہے کہ فرانس اور برطانیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مستقل رکن ممالک ہیں اور یہ اسرائیل پر مزید دباؤ بڑھنے کا اشارہ ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کا مؤقف:
اسرائیل اور امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے اعلانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نتن یاہو نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں فرانسیسی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے دہشت اور ایک اور ایرانی پراکسی پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ غزہ بن گیا۔
نتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں ایک فلسطینی ریاست اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے لیے ایک لانچ پیڈ ہو گی۔
برطانیہ کی جانب سے اعلان کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل ناراض دکھائی دیئے ۔
برطانیہ کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ سے مضبوط حمایت کی امید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا، حماس کو دہشت گردی کا انعام دینا ہوگا۔