اہم خبریںپاکستان

عدالتی معاونت یا عدالتوں کے لئیے اعانت کاری؟

سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے بطور عدالتی معاونت کی آفر قبول کر نے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے لکھا کہ بیرسٹر علی ظفر کو ایک ایسے کیس میں عدالتی معاون نہیں بنناچاہئیے جس کیس میں وہ اپنے مؤکل کیطرف سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔اس بنیاد پر کہ اُسے چیف جسٹس سمیٹ پورے بنچ پر اعتماد نہیں۔
مطیع اللہ جان نے لکھا کہ جج کی طرف سے ایسے وکیل کو عدالتی معاون بننے کی ہیشکش کرنا اور وکیل کا اُسے قبول کرنا دونوں ہی پیشہ وارانہ بددیانتی کے زمرے میں آتے ہیں-
عدالتی معاون وہ ہوتا ہے جو غیر جانبدار ہو جبکہ بیرسٹر علی ظفر کبھی بھی وہ بات نہیں کرینگے جو بات عمران خان کے مؤقف کیخلاف جاتی ہو۔
مطیع اللہ جان نے لکھا کہ ویسے بھی علی ظفر پی ٹی آئی کے راہنما اور سینیٹر ہیں جبکہ عدالتی معاون کسی خاص شعبے میں مہارت کا حامل ہونے کے علاوہ ایسی سیاسی وابستگیوں سے آزاد ہونا چاہئیے۔
علی ظفر کے بطور معاون بھی دلائل اس بنچ کو ساکھ دینگے جو انکے مؤکل عمران خان نہیں دینا چاہتے۔ علی ظفر کم از کم اس کیس میں تو عدالتی معاون بلکل ہی نہیں بن سکتے جس میں زیر بحث قانونی نقطہ پر انکے مؤکل کا مخصوص موقف ہے۔

مزید پڑھیں: بیرسٹر علی ظفر عمران خان کو دغا دے گئے

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایسی پیشہ وارانہ بدینتی کا مظاہرہ ہوا تھا جب ایون فیلڈ پراپرٹی اپیلوں کی سماعت میں جسٹس عامر فاروق کے بنچ نے ن لیگ کے راہنما اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو عدالتی معاون مقرر کر دیا تھا اور اُنہوں نے بھی خوشی خوشی حامی بھر لی تھی۔
مطیع اللہ جان کا مزید کہنا تھا کہ بار اور بنچ کے ایسے گٹھ جوڑ کا واحد مقصد سیاستدانوں کو ذلیل کروانا ہے اور اپنی وکالت کے کاروبار کو چمکائے رکھنا ہے۔ ان وکیلوں کی نظریاتی وابستگی کوئی نہیں ہوتی ہر شہری کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کے بنیادی آئینی حق کے پیچھے چھپ کر یہ وکیل ایک جماعت سے دوسری جماعت میں فرار ہونے واسطے سرنگ نکالتے رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ آج عدالتی معاونت کرنے پر بیرسٹر علی ظفر کو اپنی پارٹی کے اندر سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button