
قومی اسمبلی کا اجلاس صبح سے شروع تھا، مگر اسپیکر اسد قیصر گھنٹوں تک ووٹنگ کو ٹالتے رہے۔ آخرکار رات گئے، جب اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں نے مستعفی ہو کر فرار اختیار کی، تو ایاز صادق کی زیرِ صدارت ووٹنگ ہوئی اور 174 اراکینِ پارلیمنٹ نے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد منظور کر لی۔
یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کوئی وزیرِاعظم ایوان کے اندر سے اس طرح ہٹایا گیا۔
مگر اس سے پہلے 3 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے امریکی سازش کا بہانہ بنا کر تحریکِ عدمِ اعتماد کو مسترد کر دیا اور عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی کے ذریعے قومی اسمبلی توڑ دی ۔
سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو ان تمام اقدامات کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا۔ یعنی ملک کے وزیرِاعظم نے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور پھر اسے عدلیہ نے بے نقاب کیا۔
برطرفی کے بعد آئین شکنی کا نیا دور
عمران خان کی حکومت کی برطرفی کے بعد شہباز شریف وزیرِاعظم بنے۔ یہ وہی شہباز شریف تھے جن کے خاندان پر کرپشن کے بے شمار مقدمات تھے۔ لیکن اقتدار ملتے ہی ان کے خلاف تمام مقدمات سرد خانے میں چلے گئے۔ یہ انتقامی سیاست کا خاتمہ نہیں، بلکہ احتساب کا مذاق تھا۔
نئی حکومت نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر مقدمات کی بارش شروع کر دی۔ صرف عمران خان کے خلاف 150 سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ توہینِ عدالت سے لے کر غداری تک، اور یہاں تک کہ ان کی شادی کو خلافِ اسلام قرار دے کر مقدمہ بنایا گیا۔
9 مئی 2023 سیاہ ترین باب
9 مئی 2023 کو عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے رینجرز نے جس انداز میں گرفتار کیا، اس کی مثال پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ویڈیوز میں صاف دکھا کہ کھڑکی توڑ کر انہیں گھسیٹا گیا۔ سپریم کورٹ نے بعد میں اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔
اس گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے۔ فوجی تنصیبات پر حملوں کی آڑ میں حکومت اور فوجی قیادت نے سول شہریوں کو فوجی عدالتوں میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا جسے سپریم کورٹ نے ابتدا میں غیر آئینی قرار دیا، مگر بعد میں ایک بڑے بینچ نے یہ فیصلہ پلٹ دیا۔ یہ عدلیہ پر دباؤ کی کھلی مثال تھی۔
انتخابات 2024 جمہوریت کا قتل
فروری 2024 کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کا انتخابی نشان "بلا” چھین لیا گیا اور تمام امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا پڑا۔ الیکشن کے دن موبائل سروس بند رہی، نتائج میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی، اور بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
اس کے باوجود پی ٹی آئی سے منسلک آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں ۔ لیکن مخصوص نشستیں چھین کر پی ٹی آئی کو حکومت بنانے سے محروم کردیاگیا۔
قانون کی حکمرانی کی ایک تصویر
گزشتہ چار سالوں میں پاکستان میں قانونِ حکمرانی کا جو حشر ہوا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک طرف مخالفین کے خلاف دن رات مقدمات چلائے گئے، تو دوسری طرف حکمران خاندانوں کے مقدمات نہاد طور پر ختم ہوتے رہے۔ سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں — X (ٹوئٹر) کئی ماہ بند رہا۔ صحافیوں کو ہراساں کیا گیا۔ اپوزیشن کے جلسوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیے گئے۔ پارلیمنٹ میں غیر آئینی قوانین منظور کرائے گئے۔ عدلیہ پر دباؤ ڈال کر فیصلے پلٹوائے گئے۔
آج 4 سال بعدکا پاکستان
9 اپریل 2026 کو جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایک تکلیف دہ تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی معیشت تباہ حال ہے، روپیہ ریکارڈ پست سطح پر آ گیا تھا، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی۔ سیاسی انتقام کی آگ میں جمہوریت جل رہی ہے۔
جو شخص سب سے زیادہ عوامی حمایت رکھتا ہے، وہ جیل کی تنہا کوٹھڑی میں آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہے اور اسے بنیادی طبی سہولت سے محروم رکھا گیا۔
آج سے چار سال پہلے 9 اپریل کو عمران خان کی منتخب حکومت کو بیرونی سازش کے تحت رجیم چینج کے ذریعے ختم کیا گیا ۔ تب سے لے کر آج تک ہر چیز میں ہر سیکٹر میں یہ ناجائز حکومت ناکام رہی ۔ بر آمدت ، جی ڈی پی گروتھ ، ڈالر ریٹ ، انویسٹمنٹ ، غربت پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ، تاریخی…
— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) April 9, 2026
پاکستان کی تاریخ میں ایک بھی وزیرِاعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ 9 اپریل 2022 نے یہ روایت نہیں توڑی، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیا۔ سوال یہ نہیں کہ عمران خان معصوم ہیں یا نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کسی کو بھی منصفانہ مقدمے کا حق ہے؟ کیا یہاں آئین کا احترام باقی ہے؟ کیا عدلیہ آزاد ہے؟ کیا ووٹ کی طاقت حقیقی ہے؟
ان چار سالوں کا سبق یہ ہے کہ جب طاقتور ادارے قانون سے اوپر چلے جائیں، تو پورا ملک تباہ ہو جاتا ہے۔ 9 اپریل 2022 صرف ایک وزیرِاعظم کی نہیں، پاکستان میں آئینی جمہوریت کی ہزیمت کا دن ہے۔



