پاکستان

78 واں یوم آزادی؛ قربانی والی نسل سے باجے بجانے والی نسل تک کا سفر

ہر طرف اونچی آواز میں ملی نغمے، باجا بجاتے بچے، موٹرسائیکل پر لہراتے جھنڈے ، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ اور سبز فلٹرز کا راج ہے۔

ملک بھر میں آج 78 واں یوم آزادی انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی اگست کے مہینے کا آغازہوتے ہی گلیاں بازار سج گئے۔

اونچی آواز میں ملی نغمے، باجا بجاتے بچے، موٹرسائیکل پر لہراتے جھنڈے ، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ اور سبز فلٹرز ہر طرف نظر آنے لگے۔

لیکن ہر سال کے طرح اس سال بھی جشن کی نیچے قربانی کی داستان دب گئی ہے ۔

ہم باجا بجانے والی نسل ہیں جو اس موقع کی حقیقی مقصد کو سمجھے بغیر بس جشن میں مصروف ہیں۔

 

یوم آزادی اور ڈیجیٹل حب الوطنی:

 

اس ڈیجیٹل دنیا میں قومی شناخت کتابوں سے نہیں بلکہ ٹرینڈنگ کانٹینٹ سے ترتیب پارہی ہے۔ ٹک ٹاک، یوٹیوب، سنیپ چیٹ پر آپکو ڈیجیٹل حب الوطنی ملے گی جو چند سیکنڈز کی ریلز تک محدود کر دی گئی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ آج کی نسل آزادی کے جذبے سے لاتعلق ہو رہی ہے،  مسئلہ یہ ہے کہ یہ نسل صرف جمالیات میں کھو گئی ہے۔

یہاں جھنڈے سجاوٹ کا کام سر انجام دے رہے، ملی نغمے بیک گراؤنڈ میوزک کا کام کر رہے۔ لیکن اس سارے منظر نامے میں قربانی کا عنصر مبہم اور تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے۔

یہاں جشن منانے کی ممانعت کی بات نہیں ہو رہی، آزادی کے پیچھے چھپی قربانی کے فلسفے کی بات ہو رہی۔

آزادی کو ہیش ٹیگ نہیں تھی اور نہ ہی فیس بک انسٹاگرام کی سٹوری تھی جو 24 گھنٹے بعد ایکسپائر ہو جاتی۔

یہ درد ناک لمحہ تھے جس میں کئی اپنے بچھڑ گئے، کئی لوٹے پھوٹے پاکستان پہنچے تو ان کے ہاتھ اپنوں کی لاشیں تھیں۔

اس لیئے جب قربانی اور آزادی جذبہ ڈیجیٹل ہو جائے تو اس تحریک میں حصہ ڈالنے اور اپنا سب کچھ گنوانے والوں کو دلی تکلیف ہوتی۔

 

وراثتی آزادی اور بھولتی ذمہ داری:

 

آزادی ہمیں پلیٹ میں ڈال کر نہیں ملی تھی یہ قربانیوں کے ساتھ حاصل ہونے والی وراثت تھی ۔ وراثت کی ہر قسم کی طرح یہ قسم بھی اپنے ساتھ کئی ذمہ داریاں لائی تھی۔

لیکن ان تمام تر ذمہ داریوں کو بھلا کر قومی دنوں کو صرف جشن منانے کیلئے مختص کر دیا گیا ہے۔

اس دن  کی اہمیت کو رسمی تقریروں اور نمائشی پروگراموں  تک محدود کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آزادی کوئی ایک بار کا لین دین نہیں ہے۔ یہ زندگی بھر کا معاہدہ جس کی ہر سال تجدید کی جاتی۔

یہ تجدید اس قربانی کے جذبے کو زندہ رکھتی ہے اور ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے اس آزادی کیلئے کیا کھویا۔

لیکن آزادی کو 78 سال گزر چکے ابتدائی ایک دو سال کے بعد اس پر 70 سال سے زائد وہ رنگ چڑھا ہے جو کہ صرف رسمی اور نمائشی تھا۔

افسوسناک یہ 70 سال سے زائد اس نمائشی اور رسمی جشن کی ہی تجدید ہوتی رہی اور یوں آزادی کا حقیقی فلسفہ نیچے دب گیا۔

 

مزید پڑھیں: پاک فضائیہ کی طاقت میں بڑا اضافہ، Z-10 ME اٹیک فضائی بیڑے میں شامل

 

باجے کے شور میں گم ہوتا قومی وقار:

 

ابھی آپ باہر نکل کر دیکھیں آپ کو نئی نسل باجے بجاتی نظر آئے گی اور یہ باجے کی آواز محسوس ہوتا ہے جیسے قربانی دینے والے مجاہدین کی آواز کو دباتی ہے۔

اس طرح صرف جشن منانے نے اس قومی وقار کو مجروح کر دیا ہے۔ یہ قربانی ادب مانگتی تھی لیکن یہ بے ادبی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بانی پاکستان کے مزار کے باہر بھی باجے بجائے جارہے۔  اور اس کی ویڈیوز ڈیجیٹل محب وطن دھڑا دھڑ شیئر کر رہے۔

 

یوم آزادی کی نئی تعریف؛ نمائش سے حقیقی اقدامات تک کا سفر:

 

یوم آزادی اور اس کے پیچھے چھپی قربانی کا درس از سر نو یاد کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خوشی منانے ہی چھوڑ دیں۔

آزادی ایک نعمت ہے جو کہ شکر مانگتی ہے۔ اس شکر کا طریقہ یہ ہے کہ نئی نسل کو حقیقی معنوں میں آزادی کا مطلب سمجھایا جائے۔

اس کے بعد اگر باجا بجایا جائے گا تو وہ شور یا بے معنی گونج کی بجائے ایک بامقصد جذبے کا اظہار ہوگا۔

 

اختتامیہ:

 

فرد کی عمر 78 سال ہو تو دیر ہو جاتی لیکن قوم کے عمر 78 سال زیادہ معنی نہیں رکھتی ۔

ہم نے ابھی بھی دیر نہیں کی۔ آزادی اور اس کے پیچھے چپھی قربانی کی وراثت کو نئی نسل کو ذمہ داری سے سونپا جائے تو 78 سال کا ضائع ہونے والا وقت لوٹ آئے گا۔

یہاں تاریخ کی غلط سمت پر کھڑے ان لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو ملک کی آزادی پر بھی سوال اٹھاتے رہتے۔

ایسے لوگوں کو ماضی کی مثالیں دینے کی بجائے حال کے ان ممالک کی سیر کرائی جائے جو آج بھی غلامی کی زندگی گزار رہے۔

یوں نئی نسل کے ساتھ اس نسل کو بھی درست سمت ملے گی جو آزادی کی نعمت کو ناقدری کی نگاہ سے دیکھتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button