
عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے چند روز قبل ہی یہ اعلان سامنے آیا کہ عمران خان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان خان احتجاجی تحریک کا حصہ بننے کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔
عمران خان کی ہمشیرہ اور حسان نیازی کی والدہ نورین نیازی نے بھی نجی نیوز چینل پر اطہر کاظمی کے شو میں بتایا کہ قاسم اور سلیمان اپنے والد سے ملنے کیلئے آرہے ہیں۔
عمران خان کی دونوں بہنوں نے بتایا کہ قاسم اور سلیمان خان پہلے امریکہ جائیں گے اور وہاں چند اہم ملاقاتوں کے بعد وہ پاکستان آئیں گے۔
اسی دوران عمران خان کی جانب سے احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کیلئے عمران خان نے نقطہ عروج 5 اگست بتایا ہے جب ان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہو جائیں گے۔
5 اگست کو نقطہ عروج پر ہونے کا مطلب ہے کہ یہ تحریک پہلے شروع ہو گی۔
عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد اور احتجاجی تحریک کا حصہ بننے سے متعلق کئی اہم سوالات ہیں جس کا سیر حاصل جواب فی الوقت پی ٹی آئی یا حکومت کے پاس بھی نہیں ہے۔
کیا قاسم اور سلیمان خان پاکستانی پاسپورٹ یا نائیکوپ رکھتے ہیں؟
صحافی عیسیٰ نقوی نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ انہوں نے قاسم خان اور سلیمان خان کے قریبی سمجھے جانے والے افراد سے جب رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس نہ پاکستانی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی نائیکوپ کی سہولت موجود ہے۔
عمران خان کے بیٹے برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور اس لئے انہیں ویزہ اپلائی کرنا ہوگا۔
لیکن کیا حکومتِ پاکستان انہیں ویزے کا اجراء کرے گی اور ایسے وقت میں کہ جب ان کی جانب سے باقاعدہ اس بات کا کھلم کھلا اظہار کیا جا چکا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے؟
اس حوالے سے صحافی عیسیٰ نقوی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایسی کوئی قدغن نہیں ہے لیکن میزبان ملک کے پاس ویزہ کی چند شرائط ہوتی ہیں جن پر عملدرآمد لازمی ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو "احتجاجی راہ” کی بجائے "سیاسی راہ” اپنانے والوں کے مشورے غلط ثابت
عمران خان کے بیٹے گرفتار ہو سکتے؟
حکومت کے پاس پہلا آپشن یہ ہے کہ وہ سرے سے عمران خان کے بیٹوں کو ویزے کا اجراء ہی نہ کرے ۔
ایسی صورت میں انہیں اپنے سفارتی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے اور اگر ایسا ممکن ہو جاتا ہے تو کیا پاکستان آنے پر ان کی گرفتاری ہو سکتی ہے؟
عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور راناثناء اللہ نے نجی نیوز چینل پر صحافی محمد مالک کے شو میں قاسم اور سلیمان خان کو وارننگ دے ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو ان کیلئے مشکلات ہوں گی اور انہیں یوکے ایمبیسی بازیاب کروا کر کے واپس لے جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر قاسم اور سلیمان ایک متشدد تحریک کو لیڈ کرنے کیلئے پاکستان آئیں گے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
پی ٹی آئی کو موروثیت کی سیاست کے طعنے :
عمران خان کے بیٹوں کے احتجاجی تحریک کو لیڈ کرنے کی خبروں کے سامنے آنے کے بعد سے حکومتی اراکین اور چند صحافیوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ موروثیت کی سیاست ہے۔
صحافی اقرار الحسن نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ” بیٹے احتجاج اور پارٹی کو لیڈ کریں گے تو یہ موروثی سیاست تو نہیں ہو گی؟؟ خدا اِن سے اِن کا ہر تھوکا ہوا چٹوائے گا۔”
پی ٹی آئی کی جانب سے اس تنقید کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ بیٹے صرف باپ کو قانونی حق دلوانے کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ قاسم اور سلیمان نہ سیاست میں حصہ لے رہے ہیں اور نہ ہی وہ کوئی عہدہ پہلے رکھتے ہیں نہ رکھیں گے اس لئے انہیں موروثی سیاست کو طعنہ دینا درست نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہد خٹک نے حامد میر کے پروگرام میں اس حوالے سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "قاسم اور سلیمان اپنے والد کی رہائی کیلئے پاکستان آ رہے ہیں، وہ سینٹر، ایم این اے یا پارٹی کا کوئی عہدہ لینے نہیں آ رہے۔ شاہد خٹک نے مزید کہا کہ موروثیت کے خلاف سب سے بڑی جنگ پی ٹی آئی نے لڑی ہے۔”
کیا عمران خان کے بیٹوں کی گرفتاری آسان ہو گی؟
صحافتی اور قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو روکنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ حکومت ان کا ویزہ ہی مسترد کر دے۔
تاہم صحافتی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں آنے کی اجازت دی جاتی ہے، چاہے حکومتی رضامندی پر یا پھر برطانوی سفارتی دباؤ پر، تو انہیں گرفتار کرنا آسان نہ ہوگا۔
اس کی توجہیہ یہ پیش کی جارہی ہے کہ قاسم خان اور سلیمان خان برطانوی شہریت رکھتے ہیں اور وہ جمائمہ خان کے بھی بیٹے ہیں جو برطانیہ کے بادشاہی خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہیں ۔