اہم خبریں

قصائی سے اچھا گوشت کیسے حاصل کیا جائے

جب آپ جاتے ہی قصائی سے کہتے ہیں کہ بھائی کلو گوشت دینا تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ کسی اناڑی سے پالا پڑا ہے۔

قصائی سے اچھا گوشت لینا کوئی گڈے گڑیا کا کھیل نہیں ہے، یہ بھی ایک باقاعدہ سائنس ہے جسکی سمجھ کم لوگ ہی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ یہ گلہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ بھائی پورا شہر چھان مارا اچھا گوشت نہ ملا۔

قصائی سے اچھا گوشت لینے کیلئے نفسیات پر عبور حاصل کریں:

قصائی سے اچھا گوشت لینا ہو تو اس کیلئے اسکی نفسیات کو سمجھنا ہوگا۔ ہماری عوام کی اکثریت گوشت کی دکان پر جاتےہی کہتی ہے کہ بھائی ایک کلو گوشت دینا اور بس اس کے بعد قصائی سمجھ جاتا ہے کہ اب جو اس کا من چاہے گا اس شاپر میں ڈالا جا سکے گا۔
یوں وہ چھوٹی سے بوٹی ران سے لیتا ہے، چند دانے پسلی کی بوٹیوں کے ڈالتا ہے اورپھر بغل میں رکھے چھیچھڑے اور چربی ڈال کر ایک کلو وزن پورا کر کے آپکے حوالے کر دیتا ہے۔
اب جب یہ گوشت گھر آتا ہے تو خاتون خانہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے کیونکہ اس گوشت کی صفائی سے آدھا وزن تو گیا۔ بقیہ گوشت کی سمجھ نہ آئے کہ بریانی میں ڈالا جائے یا آلو گوشت پکایا جائے۔

اچھا گوشت لینے کیلئے کیا کریں؟

جب آپ دکان پر جا کر یہ کہیں کہ بھائی بونگ کا پیس دکھانا، دستی اور پٹھ موجود ہے تو ذرا سامنے کرنا۔ اب جب قصائی یہ سنے گا تو اس کو لگے گا کہ گاہک اناڑی نہیں ہے اور وہ الرٹ ہو جائے گا۔
جب گوشت لینا ہو تو کوشش کریں بڑا پیس لیں اور جتنا وزن ہو اس کی بوٹی بنوا لیں۔ اس سے ہڈی ، قیمہ سب میسر آئے گا اور آپ سب بنا پائیں گے۔
کچھ لوگ بضد ہوتے ہیں کہ گوشت لینا ہے تو ران کا ہی لینا ہے تو ان کیلئے مشورہ یہ ہے کہ دوپہر یا اس کے بعد جا کر قصائی سے ران طلب کریں۔ دراصل ران شو پیش ہوتا ہے جس کی بنیاد پر قصائی کہتا ہے بھائی یہ گوشت دیکھیں اے ون ہے۔

مزید پڑھیں: والز اور اومور آئس کریم کو ساڑھے سات کروڑ روپے فی کس جرمانہ

اب جب آپ صبح صبح ہی ران طلب کریں گے تو قصائی ہاتھ کی صفائی دکھائے گا۔ چھوٹا سا چھلکا وہ شامل کرے گا اور باقی بی گریڈ مال شامل کر کے وزن پورا کرےگا۔
جب آپ دیر سے ہی جائیں گے اور صرف میسر ہی ران ہو گی تو تب آپکو اپنا من پسند گوشت ملے گا۔ اسلئے قصائی کی نفسیات کو سمجھیں اور پھر گوشت خریدیں۔

پانی والے گوشت سے کیسے بچیں؟

پاکستان میں گوشت کو پانی لگانے کا بھی قبیح عمل کیا جاتا ہے۔ گوشت کی نسوں میں کمپریسر کے ذریعے پانی بھر دیا جاتا ہے اور گاہگ یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ واہ بھائی آج تو کسی صحت مند جانور کا گوشت کھانے کو ملے گا۔
پتا تب چلتا ہے جب یہ گوشت ہنڈیا میں ڈالا جاتا ہے، پانی نکل جاتا ہے اور گوشت سکڑ جاتا ہے۔ ایسے میں پانی والا گوشت لینے سے بچنے کیلئے ران کی بجائے ہڈی والے گوشت کا انتخاب کریں۔ ہڈی والا گوشت لذت کے حساب سے بھی اچھا ہوتا ہے اور اس میں پانی بھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
حقیقت ہے کہ پاکستان میں گوشت اب ایک لگژری بن چکا ہے جسے آپ آدمی افورڈ نہیں کرسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کبھی اپنی محنت کی کمائی سے گوشت کیلئے پیسے نکالیں تو ان باتوں کو ذہن میں رکھیں تا کہ آپ بچوں کیلئے اچھی چیز لے کر گھر جائیں ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button